شام حلب میں لڑائی جاری دمشق میں دھماکے 39 افراد ہلاک

شامی فوج کے سربراہ پر لبنان کے اندرحملوں کی منصوبہ بندی کا الزام،القاعدہ نے شام میں پاؤں گاڑناشروع کردیے ہیں

شامی فوج کے سربراہ پر لبنان کے اندرحملوں کی منصوبہ بندی کا الزام،القاعدہ نے شام میں پاؤں گاڑناشروع کردیے ہیں،امریکی حکام ۔ فوٹو فائل

شام کے شہرحلب میں ہفتے کو بھی سرکاری فوج اورفری سیریئین آرمی کے درمیان لڑائی جاری رہی،دارالحکومت دمشق کے وسط میں دوزبردست بم دھماکے ہوئے اورفائرنگ کی بھی آوازیں آتی رہیں۔پورے ملک میں جاری تشددمیں 20 شہریوں سمیت 39 افرادہلاک ہو گئے۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن شام کے بحران پر صلاح مشورے کیلیے ترکی پہنچ گئیں۔ترک وزیرخارجہ احمد داؤداوگلو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہ امریکاشام میںخونریزی اور صدر بشارا لاسدکے اقتدار کاجلدخاتمہ چاہتاہے۔ دریں اثنالبنان کے ملٹری پراسیکیوٹر نے شام کی فوج کے سربراہ جنرل علی مملوک اورسابق لبنانی وزیرمائیکل سماہا پرالزام لگایاہے کہ وہ لبنان کے اندرحملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔


جوڈیشل ذرائع کیمطابق ایک کرنل عدنان بھی اس سازش میں ملوث ہے۔یہ تینوں مل کر ایک دہشتگردگروپ تشکیل دینے میں مصروف ہیں جو دھماکے کرکے ملک میں فرقہ واریت کوہوا دے گا۔سابق وزیر اطلاعات سماہاکوجمعرات کوگرفتارکرکے ان سے دھماکا خیز مواد برآمدکیاگیاتھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق بشار الاسد کے مخالفین ان کی حکومت کوکمزورکرنے کیلیے عہدیداروں کو منحرف ہونے پراکسارہے ہیں۔

فری سیریئین آرمی کے ترجمان کیمطابق کئی عہدیداروں نے ان سے رابطے کیے ہیں اور فرار میں مدد دینے کی اپیل کی ہے۔دریں اثناامریکی انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ نے شام کی صورتحال سے فائدہ ا ٹھاتے ہوئے خود کو مضبوط کرنا اوروہاں اپنے پائوں گاڑنا شروع کردیے ہیں اس سلسلے میں ایک انتہائی منظم سیل موجود ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story