شہر میں انتخابی سرگرمیاں بحال سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم شروع کر دی
گزشتہ دو روز سے تینوں بڑی جماعتوں نے مختلف حلقوں میں اپنی انتخابی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز کردیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پمفلٹس تقسیم کرنے کے علاوہ علاقائی سطح پر موبائل میسجز اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے بھی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ فوٹو: محمد نعمان/ ایکسپریس
الیکشن کا دن قریب آتے ہی کراچی میں امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال کے باوجود انتخابی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔
شہر کی شاہراہیں سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں اور بینرز سے آراستہ کردی گئی ہیں اور مختلف علاقوں میں کارنرمیٹنگز کا انعقاد کیا جارہا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں پمفلٹس تقسیم کرنے کے علاوہ علاقائی سطح پر موبائل میسجز اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے بھی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب الیکشن میں تو حصہ لینا ہے حالات کچھ بھی ہوں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انتخابی مہم جاری رکھی جائے گی،کراچی میں گزشتہ ہفتے انتخابی دفاتر اور کارنر میٹنگز پر ہونے والے بم حملوں کے باعث شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی تھی اس کے اثرات انتخابی مہم پر پڑ رہے تھے اور انتخابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھیں،شہر کی تین بڑی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ، پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کردی تھیں۔
ایم کیو ایم نے بدامنی کے واقعات کے سبب اپنے انتخابی دفاتر بند کردیے تھے، گزشتہ دو روز سے تینوں بڑی جماعتوں نے مختلف حلقوں میں اپنی انتخابی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز کردیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر کارنر میٹنگز کا انعقاد شروع ہوگیا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار گھر گھر جاکر ووٹرز سے رابطہ کرکے پمفلٹس تقسیم کررہے ہیں اس کے علاوہ علاقائی سطح پر موبائل میسجز اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جارہی ہے، الیکشن کا دن قریب آتے ہی شہر میں انتخابی رونقوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
شہر کی مختلف شاہراہوں، عمارتوں پر سیاسی جماعتوں نے اپنے پرچم نصب کرنے کے علاوہ پینا فلیکس آویزاں کردیے ہیں ان جماعتوں کے علاوہ جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام (ف)، تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) ، سنی تحریک ، متحدہ دینی محاذ،مجلس وحدت مسلمین ، جمعیت علما پاکستان، پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کے علاوہ دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں اورایم کیو ایم کے خلاف کتنی ہی سازشیں کر لی جائیں ۔
ایم کیو ایم بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لے گی اور جمہوری طریقے سے سازشوں کا مقابلہ کرے گی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان نے کہا ہے کہ اے این پی عوامی جماعت ہے اور جمہوریت دشمن قوتوں کو عوام کی طاقت سے شکست دیں گے،انھوں نے کہا کہ اے این پی کراچی میں بھرپور انداز میں پارٹی حکمت عملی کے تحت انتخابی مہم چلارہی ہے، پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں حالات خراب کرکے جمہوریت پسند قوتوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے۔
تاہم عوام کی طاقت سے ان سازشوں کا مقابلہ کیا جائے گا،انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم چلارہے ہیں لیکن ہماری اولین ترجیح گھر گھر جاکر عوام سے رابطہ کرنا ہے،تحریک انصاف کے رہنما جمال صدیقی نے کہا کہ کراچی میں تحریک انصاف کی انتخابی سرگرمیاں بھی جاری ہیں،جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے اپنے منشور کے مطابق عوام سے رابطے کررہی ہے اور انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔
شہر کی شاہراہیں سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں اور بینرز سے آراستہ کردی گئی ہیں اور مختلف علاقوں میں کارنرمیٹنگز کا انعقاد کیا جارہا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں پمفلٹس تقسیم کرنے کے علاوہ علاقائی سطح پر موبائل میسجز اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے بھی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب الیکشن میں تو حصہ لینا ہے حالات کچھ بھی ہوں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے انتخابی مہم جاری رکھی جائے گی،کراچی میں گزشتہ ہفتے انتخابی دفاتر اور کارنر میٹنگز پر ہونے والے بم حملوں کے باعث شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی تھی اس کے اثرات انتخابی مہم پر پڑ رہے تھے اور انتخابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھیں،شہر کی تین بڑی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ، پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کردی تھیں۔
ایم کیو ایم نے بدامنی کے واقعات کے سبب اپنے انتخابی دفاتر بند کردیے تھے، گزشتہ دو روز سے تینوں بڑی جماعتوں نے مختلف حلقوں میں اپنی انتخابی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز کردیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر کارنر میٹنگز کا انعقاد شروع ہوگیا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار گھر گھر جاکر ووٹرز سے رابطہ کرکے پمفلٹس تقسیم کررہے ہیں اس کے علاوہ علاقائی سطح پر موبائل میسجز اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جارہی ہے، الیکشن کا دن قریب آتے ہی شہر میں انتخابی رونقوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
شہر کی مختلف شاہراہوں، عمارتوں پر سیاسی جماعتوں نے اپنے پرچم نصب کرنے کے علاوہ پینا فلیکس آویزاں کردیے ہیں ان جماعتوں کے علاوہ جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام (ف)، تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) ، سنی تحریک ، متحدہ دینی محاذ،مجلس وحدت مسلمین ، جمعیت علما پاکستان، پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کے علاوہ دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں اورایم کیو ایم کے خلاف کتنی ہی سازشیں کر لی جائیں ۔
ایم کیو ایم بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لے گی اور جمہوری طریقے سے سازشوں کا مقابلہ کرے گی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان نے کہا ہے کہ اے این پی عوامی جماعت ہے اور جمہوریت دشمن قوتوں کو عوام کی طاقت سے شکست دیں گے،انھوں نے کہا کہ اے این پی کراچی میں بھرپور انداز میں پارٹی حکمت عملی کے تحت انتخابی مہم چلارہی ہے، پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں حالات خراب کرکے جمہوریت پسند قوتوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے۔
تاہم عوام کی طاقت سے ان سازشوں کا مقابلہ کیا جائے گا،انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم چلارہے ہیں لیکن ہماری اولین ترجیح گھر گھر جاکر عوام سے رابطہ کرنا ہے،تحریک انصاف کے رہنما جمال صدیقی نے کہا کہ کراچی میں تحریک انصاف کی انتخابی سرگرمیاں بھی جاری ہیں،جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے اپنے منشور کے مطابق عوام سے رابطے کررہی ہے اور انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔