سوئی سدرن کے یوایف جی نقصانات350ارب ہوگئے
اوگرا نے گیس کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کردیں
جی ڈی پی کا3فیصد،پاورسیکٹرسے زیادہ،گیس نقصانات سے مہنگے ایندھن پرزیادہ انحصار فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
اوگرا نے گیس کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کردیں.
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے گیس کے ترسیل و تقسیم کے نقصانات (یوایف جی) پر قابو نہ پانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 350 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے جس پر اوگرا نے کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے اپنے زیر انتظام علاقوں میں گیس کی لیکیجز، چوری اور نقصانات پر قابو نہ پانے کی صورت میں قومی خزانے کوسالانہ 350 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو جی ڈی پی کا3 فیصد ہے، گیس کے ترسیلی نظام میں نقصانات کی وجہ سے امور چلانے کے لیے فرنس آئل سمیت دیگر مہنگے ایندھنوں پر انحصار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
دستاویز میں انکشاف کیا گیاکہ گیس کمپنی کے نظام کے نقصانات واپڈا اور بجلی کے شعبے کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں، واپڈا کے نظام کے مجموعی نقصانات سے گیس کمپنی کے نقصانات 5 فیصد زیادہ ہیں۔ دستاویزکے مطابق اوگرا کی بارہا ہدایات کے باوجود بھی گیس کمپنیوں کی جانب سے یوایف جی کی شرح میں کمی نہیں لائی جاسکی اور کمپنیوں کی جانب سے اپنے نیٹ ورک کو بڑھانے کی صورت میں نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دستاویز کے مطابق یو ایف جی پر قابو نہ پانے کی وجہ سے اوگرا نے سوئی سدرن کے لیے سال 2018-19 کے ٹیرف میں یو ایف جی سے متعلق نئے فارمولے میں کارکردگی نہ دکھانے پر کوئی سہولت نہیں دی ہے، سوئی سدرن کے زیر اتنظام علاقوں میں گزشتہ سال یو ایف جی کی شرح 15 فیصد تک رہی جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ دستاویز کے مطابق اوگرا نے کہا ہے کہ سوئی سدرن کے زیر انتظام علاقوں میں یو ایف جی کی شرح میں گزشتہ کئی برسوں سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کے لیے کمپنی کو اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ترجمان اوگرا کا کہنا تھا کہ گیس کے نقصانات میں اضافے کی بڑی وجہ کمپنیوں کے زیر انتظام علاقوں میں گیس چوری اورفرمز کی انتظامی نا اہلی ہے، گیس کے نقصانات میں کمی لانے کے لیے عوام اور گیس کمپنیوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، گیس کمپنیوں کو گیس چوری اور لیکیجز روکنے کے لیے عوام میں آگہی پیدا کرنی چاہیے اور اپنے زیر اتنظام علاقوں میں انسپکشن کا نظام مزید موثر بنانا چاہیے تاکہ گیس چوری کی شکایات کو دور کیا جا سکے، اوگرا کی جانب سے گیس کمپنیوں کو مسلسل یہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ اپنے نظام میں بہتری لائیں، کسی بھی جگہ پر گیس چوری یا لیکیجز کی صورت میں متعلقہ کمپنی کو شکایت کی جائے اور دادرسی نہ ہونے پر اوگرا کے شکایت سیل میں شکایت درج کرائی جائے، اگر اس طریقہ کار پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے تو آدھے سے زیادہ مسئلہ خود ہی ختم ہوجائے گا۔
اوگرا نے گیس کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کردیں.
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے گیس کے ترسیل و تقسیم کے نقصانات (یوایف جی) پر قابو نہ پانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 350 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے جس پر اوگرا نے کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے اپنے زیر انتظام علاقوں میں گیس کی لیکیجز، چوری اور نقصانات پر قابو نہ پانے کی صورت میں قومی خزانے کوسالانہ 350 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو جی ڈی پی کا3 فیصد ہے، گیس کے ترسیلی نظام میں نقصانات کی وجہ سے امور چلانے کے لیے فرنس آئل سمیت دیگر مہنگے ایندھنوں پر انحصار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
دستاویز میں انکشاف کیا گیاکہ گیس کمپنی کے نظام کے نقصانات واپڈا اور بجلی کے شعبے کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں، واپڈا کے نظام کے مجموعی نقصانات سے گیس کمپنی کے نقصانات 5 فیصد زیادہ ہیں۔ دستاویزکے مطابق اوگرا کی بارہا ہدایات کے باوجود بھی گیس کمپنیوں کی جانب سے یوایف جی کی شرح میں کمی نہیں لائی جاسکی اور کمپنیوں کی جانب سے اپنے نیٹ ورک کو بڑھانے کی صورت میں نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دستاویز کے مطابق یو ایف جی پر قابو نہ پانے کی وجہ سے اوگرا نے سوئی سدرن کے لیے سال 2018-19 کے ٹیرف میں یو ایف جی سے متعلق نئے فارمولے میں کارکردگی نہ دکھانے پر کوئی سہولت نہیں دی ہے، سوئی سدرن کے زیر اتنظام علاقوں میں گزشتہ سال یو ایف جی کی شرح 15 فیصد تک رہی جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ دستاویز کے مطابق اوگرا نے کہا ہے کہ سوئی سدرن کے زیر انتظام علاقوں میں یو ایف جی کی شرح میں گزشتہ کئی برسوں سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کے لیے کمپنی کو اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ترجمان اوگرا کا کہنا تھا کہ گیس کے نقصانات میں اضافے کی بڑی وجہ کمپنیوں کے زیر انتظام علاقوں میں گیس چوری اورفرمز کی انتظامی نا اہلی ہے، گیس کے نقصانات میں کمی لانے کے لیے عوام اور گیس کمپنیوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، گیس کمپنیوں کو گیس چوری اور لیکیجز روکنے کے لیے عوام میں آگہی پیدا کرنی چاہیے اور اپنے زیر اتنظام علاقوں میں انسپکشن کا نظام مزید موثر بنانا چاہیے تاکہ گیس چوری کی شکایات کو دور کیا جا سکے، اوگرا کی جانب سے گیس کمپنیوں کو مسلسل یہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ اپنے نظام میں بہتری لائیں، کسی بھی جگہ پر گیس چوری یا لیکیجز کی صورت میں متعلقہ کمپنی کو شکایت کی جائے اور دادرسی نہ ہونے پر اوگرا کے شکایت سیل میں شکایت درج کرائی جائے، اگر اس طریقہ کار پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے تو آدھے سے زیادہ مسئلہ خود ہی ختم ہوجائے گا۔