معاشی ترقی ہمہ گیر پالیسیوں کی ضرورت
اگر حکومت ملک میں زرعی امور پر توجہ دیتی تو آج ملک خوشحالی کی منزل تک پہنچ چکا ہوتا.
اگر پاکستان کے پالیسی ساز زرعی شعبے پر توجہ دیتے اور اسے جدید بنانے کی کوشش کرتے تو آج ملک خوراک میں خود کفیل ہوتا۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
اس وقت پاکستان کی معاشی صورت حال مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پانچ برس کے دوران کوئی ایسی مربوط اور جامع معاشی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی جس سے معیشت کے تمام شعبے یکساں رفتار سے ترقی کر سکیں۔ معیشت کی مجموعی شرح نمو بھی توقعات کے مطابق نہیں رہی حالانکہ دنیا کی دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں نے زیادہ بہتر نتائج ظاہر کیے ہیں۔بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
امن و امان کی بگڑتی صورت حال ' قتل و غارت گری اور توانائی کے بحران میں مسلسل اضافے نے سرمایہ کاری کے دائرے کو سکیڑ دیا ہے۔ سرمایہ دار عدم تحفظ کے باعث ترقی کے عمل سے مایوس ہو کر اپنا سرمایہ محفوظ مقامات پر منتقل کر رہا ہے۔ اس سے ملک کی صنعتی ترقی بھی متاثر ہوئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی زوال پذیر رہیں۔ پاکستان کا زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا حالانکہ آبادی کا 50فیصد سے زیادہ حصہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے یہاں بہترین نہری نظام موجود ہے۔ زیر زمین پانی بھی موجود ہے۔
اس کے باوجود بھی اگر زرعی شعبہ زوال پذیر ہے تو اس میں قصور منصوبہ سازوں کا ہے۔ اگر پاکستان کے پالیسی ساز زرعی شعبے پر توجہ دیتے اور اسے جدید بنانے کی کوشش کرتے تو آج ملک خوراک میں خود کفیل ہوتا' اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان زرعی اجناس درآمد کرتا ہے' حد یہ ہے کہ سبزیاں تک ہمسایہ ممالک سے درآمد کی جا رہی ہیں' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی زرعی معیشت بحران کا شکار ہے' جو زرعی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس میں بھی زیادہ تر برآمد کنندگان کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ زرعی شعبے کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھ کر زرعی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ امسال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بھی گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ ہے۔ اگر حکومت ملک میں زرعی امور پر توجہ دیتی تو آج ملک خوشحالی کی منزل تک پہنچ چکا ہوتا' ایک مسئلہ زرعی شعبوں کو سستے قرضوں کا اجراء بھی ہے۔زرعی شعبے کو عام طور پر جو قرضے دیے جاتے ہیں اس کی شرح سود بھی خاصی زیادہ ہے۔ غریب کسان اول تو قرضہ لے نہیں سکتا اور اگر وہ لے لے تو واپس نہیں کر سکتا۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے میں سالانہ مالیاتی ضروریات کا تخمینہ 750 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
جس میں 3سو ارب روپے بینکاری چینل کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں اور باقی ماندہ 450 ارب روپے کی ضروریات آڑھتیوں' مڈل مین' کمیشن ایجنٹس اور دیگر غیر دستاویزی شعبوں کے ذریعے بلند شرح سود کے ساتھ زمیندار حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے زرعی شعبے میں غیر فعال قرضوں کی مجموعی شرح 13.1 فیصد ہے۔آڑھتیوں اور مڈل مینوں سے جو قرضہ لیا جاتا ہے وہ کسان کی سکت سے بہت باہر ہوتا ہے۔یوں کسان کا ہر جگہ استحصال ہو رہا ہے۔
کسان اگر اپنی فصل تیار کر کے شہر میں منڈی تک لاتا ہے تو راستے میں اسے سرکاری اہلکار تنگ کرتے ہیں اور جب وہ منڈی تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں مڈل مین اس کے ہاتھ کچھ نہیں آنے دیتے۔چھوٹے کسانوں کے کے لیے بہت زیادہ مسائل ہیں۔ان کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ زرعی مداخل بہت زیادہ مہنگے ہیں۔اسے پانی بھی خریدنا پڑتا ہے'کھاد اور بیج بھی پیسے دے کر لیتا ہے۔جب چھوٹا کسان بدحال ہو گا تو زرعی شعبہ کیسے ترقی کر سکتا ہے۔
پاکستان میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اس کا قدرتی محل وقوع تجارتی ترقی کے لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان دنیا کے صارفین کی بڑی منڈیوں اور ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں کے درمیان واقع ہونے کے باعث تجارتی میدان میں خوشحالی کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔ بھارت' چین' افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی کو موثر بنا کر اربوں ڈالر کے تجارتی فوائد سمیٹے جا سکتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور اسمگلنگ نے تجارتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان اپنی ضروریات سے سو گنا زیادہ اشیا درآمد کرتا ہے جس میں سے 95 فیصد اشیا اسمگل ہو کر پاکستان واپس آ جاتی یا افغانستان داخلہ سے قبل ہی اتار لی جاتی ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہونے والی اس سمگلنگ سے پاکستانی صنعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب تک سمگلنگ کے اس عمل کی روک تھام کے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جاتے پاکستانی صنعت کو پہنچنے والے نقصان سے چھٹکارا پانا محال ہے۔
ضروری امر ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان کو مال اس کی ضروریات اور آبادی کے تناسب سے جانے کی اجازت ہو جس طرح انڈیا اور نیپال میں معاہدہ موجود ہے۔ پاکستانی منڈیاں سمگلنگ کے مال سے بھری پڑی ہیں اور کھلے عام ان کی فروخت کی جا رہی ہے۔ حکومت سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن اور تاجر برادری کے تعاون سے سمگلنگ کے اس گھناؤنے عمل کے انسداد کے کے لیے قدم اٹھائے تو ان میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے جس کا براہ راست فائدہ پاکستانی صنعت کو پہنچے گا اور سست رفتار صنعتی پہیہ ایک بار پھر تیزی سے چلنے لگے گا، بے روز گاری کا عنصر کم ہو گا اور مزدور خوشحال ہو گا۔
دوسری جانب انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی چوری سے بھی حکومتی خزانے کو ہر سال اربوں کے خسارے کا سامنا ہے۔ ایک جانب بڑے بڑے سرمایہ دار اور تاجر سرکاری اہلکاروں کے ''تعاون'' سے ٹیکس چوری کرتے ہیں تو دوسری جانب بااثر جاگیردار' سیاستدان' وڈیرے اور قبائلی سردار سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں حکومتی ڈیپارٹمنٹس اور سرکاری اداروں کو سپلائی کی جانیوالی اشیا پر بڑے پیمانے پر سیلز ٹیکس چوری کا انکشاف بھی حکومتی اداروں کی آنکھیں کھولنے کے کے لیے کافی ہے۔
سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی ہونے والی کرپشن حکومتی پالیسیوں کی بروقت تکمیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔یوں دیکھا جائے تو معاشی ترقی کے کے لیے ہمہ گیر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ زرعی معیشت پر بھی توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ صنعت کو بھی فروغ دیا جائے۔اس سے معیشت میں تیزی آئے گی۔ اس کے علاوہ سمگلنگ کی روک تھام بھی انتہائی ضروری ہے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام میں بھی خامیاں دور کی جائیں۔ عام انتخابات کے بعد جو حکومت اقتدار سنبھالے اسے سب سے پہلے معیشت کو بہتر کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔محض سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اقتدار قائم رکھنا معیشت کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
امن و امان کی بگڑتی صورت حال ' قتل و غارت گری اور توانائی کے بحران میں مسلسل اضافے نے سرمایہ کاری کے دائرے کو سکیڑ دیا ہے۔ سرمایہ دار عدم تحفظ کے باعث ترقی کے عمل سے مایوس ہو کر اپنا سرمایہ محفوظ مقامات پر منتقل کر رہا ہے۔ اس سے ملک کی صنعتی ترقی بھی متاثر ہوئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی زوال پذیر رہیں۔ پاکستان کا زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا حالانکہ آبادی کا 50فیصد سے زیادہ حصہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے یہاں بہترین نہری نظام موجود ہے۔ زیر زمین پانی بھی موجود ہے۔
اس کے باوجود بھی اگر زرعی شعبہ زوال پذیر ہے تو اس میں قصور منصوبہ سازوں کا ہے۔ اگر پاکستان کے پالیسی ساز زرعی شعبے پر توجہ دیتے اور اسے جدید بنانے کی کوشش کرتے تو آج ملک خوراک میں خود کفیل ہوتا' اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان زرعی اجناس درآمد کرتا ہے' حد یہ ہے کہ سبزیاں تک ہمسایہ ممالک سے درآمد کی جا رہی ہیں' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی زرعی معیشت بحران کا شکار ہے' جو زرعی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس میں بھی زیادہ تر برآمد کنندگان کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ زرعی شعبے کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھ کر زرعی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ امسال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بھی گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ ہے۔ اگر حکومت ملک میں زرعی امور پر توجہ دیتی تو آج ملک خوشحالی کی منزل تک پہنچ چکا ہوتا' ایک مسئلہ زرعی شعبوں کو سستے قرضوں کا اجراء بھی ہے۔زرعی شعبے کو عام طور پر جو قرضے دیے جاتے ہیں اس کی شرح سود بھی خاصی زیادہ ہے۔ غریب کسان اول تو قرضہ لے نہیں سکتا اور اگر وہ لے لے تو واپس نہیں کر سکتا۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے میں سالانہ مالیاتی ضروریات کا تخمینہ 750 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
جس میں 3سو ارب روپے بینکاری چینل کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں اور باقی ماندہ 450 ارب روپے کی ضروریات آڑھتیوں' مڈل مین' کمیشن ایجنٹس اور دیگر غیر دستاویزی شعبوں کے ذریعے بلند شرح سود کے ساتھ زمیندار حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے زرعی شعبے میں غیر فعال قرضوں کی مجموعی شرح 13.1 فیصد ہے۔آڑھتیوں اور مڈل مینوں سے جو قرضہ لیا جاتا ہے وہ کسان کی سکت سے بہت باہر ہوتا ہے۔یوں کسان کا ہر جگہ استحصال ہو رہا ہے۔
کسان اگر اپنی فصل تیار کر کے شہر میں منڈی تک لاتا ہے تو راستے میں اسے سرکاری اہلکار تنگ کرتے ہیں اور جب وہ منڈی تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں مڈل مین اس کے ہاتھ کچھ نہیں آنے دیتے۔چھوٹے کسانوں کے کے لیے بہت زیادہ مسائل ہیں۔ان کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ زرعی مداخل بہت زیادہ مہنگے ہیں۔اسے پانی بھی خریدنا پڑتا ہے'کھاد اور بیج بھی پیسے دے کر لیتا ہے۔جب چھوٹا کسان بدحال ہو گا تو زرعی شعبہ کیسے ترقی کر سکتا ہے۔
پاکستان میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اس کا قدرتی محل وقوع تجارتی ترقی کے لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان دنیا کے صارفین کی بڑی منڈیوں اور ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں کے درمیان واقع ہونے کے باعث تجارتی میدان میں خوشحالی کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔ بھارت' چین' افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی کو موثر بنا کر اربوں ڈالر کے تجارتی فوائد سمیٹے جا سکتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور اسمگلنگ نے تجارتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان اپنی ضروریات سے سو گنا زیادہ اشیا درآمد کرتا ہے جس میں سے 95 فیصد اشیا اسمگل ہو کر پاکستان واپس آ جاتی یا افغانستان داخلہ سے قبل ہی اتار لی جاتی ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہونے والی اس سمگلنگ سے پاکستانی صنعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب تک سمگلنگ کے اس عمل کی روک تھام کے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جاتے پاکستانی صنعت کو پہنچنے والے نقصان سے چھٹکارا پانا محال ہے۔
ضروری امر ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان کو مال اس کی ضروریات اور آبادی کے تناسب سے جانے کی اجازت ہو جس طرح انڈیا اور نیپال میں معاہدہ موجود ہے۔ پاکستانی منڈیاں سمگلنگ کے مال سے بھری پڑی ہیں اور کھلے عام ان کی فروخت کی جا رہی ہے۔ حکومت سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن اور تاجر برادری کے تعاون سے سمگلنگ کے اس گھناؤنے عمل کے انسداد کے کے لیے قدم اٹھائے تو ان میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے جس کا براہ راست فائدہ پاکستانی صنعت کو پہنچے گا اور سست رفتار صنعتی پہیہ ایک بار پھر تیزی سے چلنے لگے گا، بے روز گاری کا عنصر کم ہو گا اور مزدور خوشحال ہو گا۔
دوسری جانب انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی چوری سے بھی حکومتی خزانے کو ہر سال اربوں کے خسارے کا سامنا ہے۔ ایک جانب بڑے بڑے سرمایہ دار اور تاجر سرکاری اہلکاروں کے ''تعاون'' سے ٹیکس چوری کرتے ہیں تو دوسری جانب بااثر جاگیردار' سیاستدان' وڈیرے اور قبائلی سردار سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں حکومتی ڈیپارٹمنٹس اور سرکاری اداروں کو سپلائی کی جانیوالی اشیا پر بڑے پیمانے پر سیلز ٹیکس چوری کا انکشاف بھی حکومتی اداروں کی آنکھیں کھولنے کے کے لیے کافی ہے۔
سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی ہونے والی کرپشن حکومتی پالیسیوں کی بروقت تکمیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔یوں دیکھا جائے تو معاشی ترقی کے کے لیے ہمہ گیر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ زرعی معیشت پر بھی توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ صنعت کو بھی فروغ دیا جائے۔اس سے معیشت میں تیزی آئے گی۔ اس کے علاوہ سمگلنگ کی روک تھام بھی انتہائی ضروری ہے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام میں بھی خامیاں دور کی جائیں۔ عام انتخابات کے بعد جو حکومت اقتدار سنبھالے اسے سب سے پہلے معیشت کو بہتر کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔محض سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اقتدار قائم رکھنا معیشت کے زوال کا سبب بنتا ہے۔