شدید گرمی سے شہری نڈھال لہر3 دن برقرار رہے گی

برف اور ٹھنڈے مشروبات کی مانگ بڑھ گئی،آج درجہ حرارت 42ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان

شدید گرمی سے بازار اور سڑکیں ویران ہوگئے، برف اور ٹھنڈے مشروبات کی مانگ بڑھ گئی،آج درجہ حرارت 42ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان. فوٹو فائل

HAMBANTOTA:
کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث شہری نڈھال اور بازار وسڑکیں ویران رہیں جبکہ برف اور ٹھنڈے مشروبات کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگیا۔

بیشتر شہریوں نے گرمی کی شدت کو کم کرنے کیلیے سمندر کا رخ کیا، محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور گرمی کی یہ لہر مزید تین سے چار روز جاری رہنے کا امکان ہے، ادھر ماہرین طب کا کہنا ہے کہ شدیدگرمی،تپتی دھوپ اورلوکی وجہ سے انسانی جسم کا درجہ حررات خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔

ایسے موسم میں لولگنے (ہیٹ اسٹروک) بھی ہو جاتا ہے جس میں متاثرہ افرادکوتیز بخاراورجسم میں پانی کی کمی اورنمکیات بھی غیر متوازی ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے سردرد، چکر آنا، قے ، متلی کی کیفیت ہوجاتی ہے،لولگنے والے متاثرہ افرادکوفوری طورپر ٹھنڈی جگہ منتقل کرناچاہیے اورتیزبخارکی صورت میں سرپرپانی بھی ڈالنا چاہیے تاکہ بخاردماغ کومتاثر نہ کرسکے۔

شہری تپتی دھوپ میں غیرضروری باہر نہ نکلیں،پانی کازیادہ سے زیادہ استعمال رکھیں،دہی اور لیموں کے شربت کااستعمال مفید ہے، تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعرات کو درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اورجمعہ کو درجہ حرارت میں 42ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، جمعرات کو دن بھر سورج آگ برساتا رہا ۔




جبکہ ہوا میں نمی کے تناسب کی کمی کے باعث گرم ہواؤں کے تھپیڑے بھی چلتے رہے، گرمی کی شدت کے باعث شہریوں نے باہر نکلنے سے پرہیز کیا بالخصوص دوپہر کو سڑکوں پر ٹریفک میں کمی رہی اور اور بازاروں اورشاپنگ سینٹرز بھی ویران رہے، چیف میٹرولوجسٹ توصیف عالم نے بتایا کہ مئی کا پورا مہینہ گرم ترین رہے گا،علاوہ ازیں طبی ماہرپروفیسر زمان شیخ نے بتایاکہ شدید گرمی اورلولگنے کا موسم شروع ہوگیا ہے اوراس کے ساتھ ہی طبی مسائل نے بھی جنم لینا شروع کردیاہے۔

انھوں نے کہاکہ انسانی جسم کا درجہ حرارت 98.6 فارن ہائیٹ تک نارمل تصورکیاجاتا ہے لیکن شدید گرمی اور لو کے موسم میں تپتی دھوپ میں کھیل کود سے انسانی جسم کا درجہ حرارت105 سے 106ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے جس میں متاثرہ افرادکوتیز بخاربھی ہوسکتا ہے ،متاثرہ افرادکوفوری ٹھنڈی جگہ یاپنکھے کے نیچے لیٹناچاہیے اورگھرکے ٹھنڈے مشروبات دیے جائیں کیونکہ اس کے جسم میں پانی کی شدیدکمی ہوجاتی ہے۔

ماہر فزیشن ڈاکٹر آفتاب حسین نے کہاکہ بچوں کوتپتی دھوپ میں باہر نہ نکلنے دیں اور بچوں کواسکول سے آنے کے بعد دھوپ سے بچائیں اورٹھنڈی جگہ رکھیں بچوں کواس موسم میں بازازکی کھانے پینے کی اشیا سے مکمل اجتناب کریں۔

انھوں نے کہاکہ کراچی کاموسم شدیدگرم ہوگیا جبکہ لوچلنے سے درجنوں افراد مختلف اسپتالوں میں بھی لائے جارہے ہیں، دیگر ماہرین نے کہاکہ گرمی کے موسم میں ڈائریاکامرض بھی شروع ہوتا ہے لہٰذا عوام کھانے پینے کی اشیا میں بہت احتیاط برتیں، ڈائریاباسی کھانے، آلودہ پانی کے استعمال سے لاحق ہوتا ہے،ماہر نسواں امبرین آفتاب کاکہنا ہے کہ گرمیوں میں دوران حمل خواتین کوگھر میں بہت احتیاط کے ساتھ غذا استعمال کرنا چاہیے، انھوں نے کہاکہ حاملہ خواتین کو لولگنے سے نوزائیدہ کی بھی حالت مزید بگڑسکتی ہے لہٰذا تیز دھوپ اورلووالے موسم میں حاملہ خواتین کوگھر سے باہر نہ نکلیں۔
Load Next Story