ضلعی انتطامیہ ریونیو کا کام چھو ڑ کر پولیو مہم چلا رہی ہے ڈپٹی کمشنر جنوبی
انسدادی مہم محکمہ صحت کی بجائے ضلعی انتظامیہ کومنتقل کردی گئی،وائرس کا خاتمہ چیلنج ہے
محکمہ صحت مسائل حل نہیں کررہا، وائرس کے خاتمے کیلیے سنجیدگی نہیں دکھائی گئی،کے یو جے اور یونیسف کی ورکشاپ سے ماہرین کا خطاب فوٹو: فائل
LONDON:
ملک سے پولیووائرس کے خاتمے کے لیے ماضی میں سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔
ضلعی انتظامیہ پولیوورکرزبن گئی ہے اپنی جانوںکوخطرات میں ڈال کرپولیو وائرس کے خاتمے کیلیے وقف کردیا ہے،محکمہ صحت سے تحفظات ہیں محکمہ نے ڈیڑھ سال سے صدرٹاؤن میں ٹاؤن ہیلتھ افسر مقررنہیں کیا ،پولیومہم اب ضلعی انتظامیہ کے ماتحت چلائی جارہی ہے، محکمہ صحت تعاون نہیں کررہا، ضلعی انتظامیہ کی ذمے داریاں مزید بڑھ گئی ہیں ۔
ایک جانب دہشت گردی دوسری جانب پولیووائرس کا خاتمہ چیلنج بن گیا ہے، یہ بات ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر مصطفی جمال قاضی نے کراچی یونین آف جرنلسٹس اورضلع جنوبی کی انتظامیہ ویونیسیف کے اشتراک سے ہیلتھ رپورٹرزکیلیے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب میں کہی، اس موقع پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی، ای پی آئی کے ڈپٹی منیجرڈاکٹر درناز، پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی کے صدر پروفیسر اقبال میمن، ایس ایس بی ناصر آفتاب اور یونیسیف کے ڈاکٹرشوکت ، عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر محبوب اور یونیسیف کی راما محمد سمیت دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی مصطفی جمال قاضی نے کہاکہ محکمہ صحت مسائل حل نہیں کررہا ،صدرٹاؤن میں ایک سال سے زائد عرصہ گزرگیا لیکن ٹی ایچ اوکی تعیناتی نہیں کی جا سکی،پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کیلیے گزشتہ20سال سے سنجیدگی سے کام نہیں کیاجاسکا یہی وجہ ہے ملک میں وائرس اب بھی بچوں کو متاثر کررہا ہے،گزشتہ ایک سال سے انسدادی پولیومہم ضلعی انتظامیہ کومنتقل کردی گئی ہے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ ریونیو کاکام بھول کر اب انسداد پولیو کاکام کررہی ہے اب ہم خود بھی پولیو رضاکاربن گئے ہیں جانوں کو خطرات میں ڈال کر مہم چلاتے ہیں۔
بنگلہ دیش ، بھارت میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہوگیا لیکن پاکستان میں صورتحال کچھ اور ہے انھوں نے کہاکہ محکمہ صحت تعاون نہیں کررہا جبکہ پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں اور دیگر کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا ہے لیکن رضاکاروں کو بروقت اعزازیہ نہیں ملتا انھوں نے کہاکہ ہم ڈنڈے کے زور پر پولیووائرس ختم نہیں کر سکتے، پولیومہم میں دشت گردی کا نشانہ بننے والی رضاکار خواتین اور دیگر کوخراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ دوسروں کے بچوں کوبیماریوں سے محفوظ رکھنے والے آج خود غیر محفوظ ہیں،ایس ایس پی ناصر آفتاب نے کہاکہ پولیس کے کام میں مزید اضافہ کردیاگیا ہے دہشت گردی، امن وامان کا قیام کے بعد اب پولیو مہم میں بھی اہلکاروں کوتعینات کیاجاتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔
ملک سے پولیووائرس کے خاتمے کے لیے ماضی میں سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔
ضلعی انتظامیہ پولیوورکرزبن گئی ہے اپنی جانوںکوخطرات میں ڈال کرپولیو وائرس کے خاتمے کیلیے وقف کردیا ہے،محکمہ صحت سے تحفظات ہیں محکمہ نے ڈیڑھ سال سے صدرٹاؤن میں ٹاؤن ہیلتھ افسر مقررنہیں کیا ،پولیومہم اب ضلعی انتظامیہ کے ماتحت چلائی جارہی ہے، محکمہ صحت تعاون نہیں کررہا، ضلعی انتظامیہ کی ذمے داریاں مزید بڑھ گئی ہیں ۔
ایک جانب دہشت گردی دوسری جانب پولیووائرس کا خاتمہ چیلنج بن گیا ہے، یہ بات ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر مصطفی جمال قاضی نے کراچی یونین آف جرنلسٹس اورضلع جنوبی کی انتظامیہ ویونیسیف کے اشتراک سے ہیلتھ رپورٹرزکیلیے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب میں کہی، اس موقع پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی، ای پی آئی کے ڈپٹی منیجرڈاکٹر درناز، پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی کے صدر پروفیسر اقبال میمن، ایس ایس بی ناصر آفتاب اور یونیسیف کے ڈاکٹرشوکت ، عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر محبوب اور یونیسیف کی راما محمد سمیت دیگر ماہرین بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی مصطفی جمال قاضی نے کہاکہ محکمہ صحت مسائل حل نہیں کررہا ،صدرٹاؤن میں ایک سال سے زائد عرصہ گزرگیا لیکن ٹی ایچ اوکی تعیناتی نہیں کی جا سکی،پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کیلیے گزشتہ20سال سے سنجیدگی سے کام نہیں کیاجاسکا یہی وجہ ہے ملک میں وائرس اب بھی بچوں کو متاثر کررہا ہے،گزشتہ ایک سال سے انسدادی پولیومہم ضلعی انتظامیہ کومنتقل کردی گئی ہے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ ریونیو کاکام بھول کر اب انسداد پولیو کاکام کررہی ہے اب ہم خود بھی پولیو رضاکاربن گئے ہیں جانوں کو خطرات میں ڈال کر مہم چلاتے ہیں۔
بنگلہ دیش ، بھارت میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہوگیا لیکن پاکستان میں صورتحال کچھ اور ہے انھوں نے کہاکہ محکمہ صحت تعاون نہیں کررہا جبکہ پولیومہم میں کام کرنے والے رضاکاروں اور دیگر کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا ہے لیکن رضاکاروں کو بروقت اعزازیہ نہیں ملتا انھوں نے کہاکہ ہم ڈنڈے کے زور پر پولیووائرس ختم نہیں کر سکتے، پولیومہم میں دشت گردی کا نشانہ بننے والی رضاکار خواتین اور دیگر کوخراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ دوسروں کے بچوں کوبیماریوں سے محفوظ رکھنے والے آج خود غیر محفوظ ہیں،ایس ایس پی ناصر آفتاب نے کہاکہ پولیس کے کام میں مزید اضافہ کردیاگیا ہے دہشت گردی، امن وامان کا قیام کے بعد اب پولیو مہم میں بھی اہلکاروں کوتعینات کیاجاتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔