معاوضوں میں اضافے کیلیے سینئرز کی کوششیں تیز

دو’’اسٹارز‘‘کا فعال کردار،بورڈکی محدودآمدنی کے سبب مطالبہ پورا ہونے کا امکان کم

دو’’اسٹارز‘‘کا فعال کردار،بورڈکی محدودآمدنی کے سبب مطالبہ پورا ہونے کا امکان کم. فوٹو: فائل

سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان ہونے سے قبل سینئرز نے معاوضوں و میچ فیس میں اضافے کیلیے کوششیں تیز کر دیں۔

اس ضمن میں دو ''اسٹارکرکٹرز'' خاصا فعال کردار ادا کر رہے ہیں، البتہ ان کا مطالبہ پورا ہونے کا امکان کم ہی ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس تقریباً5 ماہ تاخیر سے اعلان شدہ سینٹرل کنٹریکٹ میں بورڈ نے پلیئرز کی ماہانہ تنخواہوں میں25 فیصد اضافہ کیا جبکہ میچ فیس10 فیصد بڑھائی گئی تھی،3 برس بعد ہونیوالے اس اضافے کو کھلاڑیوں نے ناکافی قرار دیتے ہوئے دستخط کرنے میں پس و پیش سے کام لیا تاہم آخرکار ہتھیار ڈالنا پڑے تھے، محدود ذرائع آمدنی کے سبب اس بار بورڈکوئی اضافہ نہیں کر رہا، پلیئرز کو بھی اس کی بھنک پڑ چکی، ان کا جواز ہے کہ پہلے ہی غیرملکی کھلاڑیوں کے مقابلوں میں ان کی آمدنی زیادہ نہیں۔




آئی پی ایل میں شرکت کی دعوت نہیں ملتی جبکہ بنگلہ دیش لیگ میں جانے نہیں دیا جاتا لہذا انکریمنٹ ضرور ملنا چاہیے، اس ضمن میں اعلیٰ حکام کے بہت قریب سمجھے جانے والے دو''اسٹارکرکٹرز'' نے کوششیں شروع کر دیں اور ساتھیوں کو یقین دلایا ہے کہ کچھ بہتری ضرور ہو گی، دوسری جانب ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل میچز کی میزبانی نہ کرنے کے سبب بورڈ کو آمدنی ہو نہیں رہی لہذا اضافے کا امکان خاصا معدوم ہے، اگر سابقہ تنخواہیں و فیس برقرار رہی تو اے کیٹیگری میں شامل کھلاڑی ماہانہ3 لاکھ13 ہزار 500 روپے بینک بیلنس میں شامل کرائیں گے، بی کو 2 لاکھ 18 ہزار روپے جبکہ سی کیٹیگری کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے ملیں گے۔

اے کیٹیگری کے حامل ٹیسٹ کے3لاکھ 85 ہزار، ون ڈے کے3 لاکھ 30 ہزار اور ٹی ٹوئنٹی کے2 لاکھ 75 ہزار روپے پائیں گے، بی کیٹیگری والوں کو تینوں طرز میں بالترتیب3 لاکھ 30 ہزار،2 لاکھ75 ہزار اور2 لاکھ20 ہزار دیے جائینگے۔ سی کیٹیگری کے حامل2 لاکھ 75 ہزار،2 لاکھ20 ہزار اور1 لاکھ65 ہزار روپے وصول کریں گے۔دریں اثنا نئے سینٹرل کنٹریکٹ پر غور کرنے والی کمیٹی میں بورڈ نے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان مصباح الحق اور ٹی ٹوئنٹی قائد محمد حفیظ کو بھی شامل کر لیا ہے، گزشتہ دنوں اس حوالے سے میٹنگ میں بھی دونوں شریک ہوئے۔
Load Next Story