تشدد سے پاک انتخابات کی ضرورت

ایک الیکشن توایسا تھا جس میں بعض مین اسٹریم جماعتوں کوطالبان اوردیگر انتہاپسند عناصرکی طرف سے حملوں کے خطرات لاحق رہے۔

ایک الیکشن توایسا تھا جس میں بعض مین اسٹریم جماعتوں کوطالبان اوردیگر انتہاپسند عناصرکی طرف سے حملوں کے خطرات لاحق رہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ایک اطلاع کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کا فوری نوٹس لے لیا ہے، جب کہ چاروں نگراں وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ وہ عام انتخابات کے پرامن ، شفاف اور غیرجانبدارانہ انعقاد کے لیے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو امن وامان کے سازگار ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پرامن اور ہر قسم کے تشدد سے پاک انتخابات وقت کا تقاضہ ہیں اور ملفوف دھمکیوں اور بھیانک نتائج بھگتنے کی دھونس صورتحال کو خراب کرسکتی ہے جب کہ خوف وہراس اور جبر کی فضا قائم کرکے شفاف الیکشن کے خواب کے شرمندہ ہونے کی جمہوری آرزو تو الگ رہی، امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانا دشوار ہوجائے گا، ایسی صورتحال ماضی قریب میں پیش آچکی ہے، 2008 اور 2013 کے انتخابات کا انعقاد جن مشکل حالات میں ہوا تھا وہ واقعات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ایک الیکشن تو ایسا تھا جس میں بعض مین اسٹریم جماعتوں کو طالبان اور دیگر انتہاپسند عناصر کی طرف سے حملوں کے خطرات لاحق رہے، ان کی انتخابی مہم محدود اور تھریٹ الرٹ کی نذر ہوگئی، اس لیے آیندہ انتخابات کے سیاق وسباق میں تشدد، خوف وہراس اور امیدواروں پر قاتلانہ حملوں کے واقعات سخت تشویش ناک ہیں اور ایسے واقعات کو روکنا نہ صرف ملک و قوم کے مفاد میں ہے بلکہ سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹوں کے اجرا اور تقسیم میں جن مسائل اور الجھنوں کا سامنا کیا اس کے پیش نظر اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ قانون شکنی اور تشدد کا پرچار کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرائے اور ان قوتوں کا راستہ روکا جائے جو مختلف حیلے بہانوں سے الیکشن کے حوالے سے بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس ضمن میں ملک کے فہمیدہ حلقوں کی اس صائب رائے پر عمل ہونا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کے جلسوں، انتخابی ریلیوں، کارنر میٹنگز اور گھر گھر رابطوں میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، ہر امیدوار کو ووٹرز تک رسائی اور اپنا مدعا بیان کرنے اور پارٹی منشور سے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مکمل جمہوری آزادی حاصل ہو اور روادارانہ طریقے سے امیدوار آیندہ انتخاب کے لیے اپنی کیمپین چلاسکیں۔

لہٰذا الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر لازم ہے کہ وہ اولین فرصت میں سیاسی ریلیوں، جلسوں اور انتخابی مہم کے دوران جمہوری روایات اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرائے، اس باب میں ارباب اختیار کسی قسم کی جارحیت، تشدد، دھونس اور خوف وہراس پھیلانے والوں کو نہ بخشیں، بلکہ 'گربہ کشتن روز اول' کی حکمت عملی پر عمل کریں۔ یہی شفاف انتخابات کے انعقاد کی طرف راست پیش قدمی ہوگی۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ گزشتہ انتخابات کے انعقاد پر دھاندلی اور پنکچروں کے الزامات کی گونج عدلیہ اور تشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن میں بھی سنی گئی تھی، یہ خوش آیند اقدام ہے کہ الیکشن کمیشن نے ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا سراج پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔ امیدواروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔

اتوار کو سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ 25 جولائی 2018 کو نگراں وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس، جس میں تمام وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور نگراں وفاقی وزیر و سیکریٹری داخلہ نے شرکت کی، اس میں سربراہان اور امیدواروں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔


اب اس تناظر میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اتوار کو کراچی کے قدیم علاقہ اور پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ لیاری میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور ڈنڈوں سے قافلے میں شریک لوگوں کو دھمکایا گیا، پارٹی پرچم نذر آتش جب کہ گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے۔ بلاول بھٹو انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اپنے حلقے این اے 246 لیاری پہنچے تو جونا مسجد بہارکالونی کے مقام پر سیکڑوں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور قافلے کو آگے جانے سے روک دیا۔ تاہم ریلی کے منتظمین نے تصادم سے گریز کی مثبت پالیسی اختیار کی۔ بعد ازاں بلاول نے لیاری میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

ادھر سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنان اور رہنماؤںکو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے اور ساری توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن)کی طرف ہے، صاف اور شفاف الیکشن کی توقع ختم ہوتی جارہی ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے اسپتالوں کا دورہ کیا، مسائل معلوم کیے، اس موقع پر چیف جسٹس نے ایک صحافی کے سوال پرکہا یہ تاثر نہ دیا جائے کہ میں کسی کی مہم چلا رہا ہوں، میں نے کسی کی سیاسی مہم چلانے کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا ہوا، میں اسپتالوں کا دورہ کر رہا ہوں اور مریضوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کروں گا جب کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انتخابات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، نیب پر دھاندلی کے الزامات ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔

ادھر سابق صدر آصف زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے خفیہ ملاقات کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کی سیاست یا پاور پالیٹکس کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بجائے وہ اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 4ہفتوں میں فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ ملک قائد اعظمؒ محمدعلی جناح کا پاکستان بنے گا یا چوروں اور ڈاکوؤں کا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ پنجاب کا نگران سیٹ اپ مکمل طور پر غیرسیاسی اور غیرجانبدار ہے۔ صوبے میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل معاونت فراہم کر رہے ہیں، میرا اور میری ٹیم کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی نے کراچی کے تمام حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، وہ انتخابی مہم چلانے کراچی پہنچ گئے ہیں۔

علاوہ ازیں گورنر سندھ محمد زبیر نے بلدیہ ٹاؤن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکن عابد تنولی کی نماز جنازہ میں شرکت کی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ یہ واقعہ شہر میں امن و امان کی فضا خراب کرنے کی گہری سازش ہے، جسے حکومت عوام کے تعاون سے ناکام بنا دے گی۔

بہرکیف اس تمام تر صورتحال کے انتخابی تناظر میں الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ فوج کی نگرانی میں 22کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہوگئی ہے، 85 ہزار پولنگ سٹیشنز قائم جب کہ اثاثے جمع نہ کرانے والے امیدوار نااہل ہوںگے اور انھیں کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے بھی پانچواں الیکشن اپ ڈیٹ جاری کردیا۔ غیر ملکی مبصرین بھی پاکستان آچکے ہیں۔ اس لیے ارباب اختیار شفاف الیکشن کے سنہرے خواب کی تعبیر پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔

 
Load Next Story