شیخ سلمان ایشین فٹبال کے نئے سربراہ منتخب ہوگئے
شیخ سلمان کے حریف یواے ای کے یوسف ال سرکال اور تھائی لینڈ کے ووراوی مکودی بالترتیب 6اور 7 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔
صدر فیفاسیپ بلاٹر ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے نومنتخب صدر شیخ سلمان کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
بحرین کے شیخ سلمان ایشین فٹبال کے نئے سربراہ منتخب ہوگئے،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے ان کی مہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انھوں نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے46 میں سے33 ووٹ حاصل کیے، شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ سابق سربراہ محمد بن حمام کی جگہ2015 میں ختم ہونے والی بقیہ مدت کیلیے فرائض انجام دیں گے،قطر کے بن حمام کو گزشتہ سال رشوت اور مالی بے ضابطگیوں پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ شیخ سلمان کے حریف یواے ای کے یوسف ال سرکال اور تھائی لینڈ کے ووراوی مکودی بالترتیب 6اور 7 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔
جیت کے بعد شیخ سلمان نے کہاکہ میرا مشن اپنی کنفیڈریشن کو متحد کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کے مستقبل کی طرف لے جانا ہے، اسکی بنیاد اچھی گورننس اور سالمیت پر ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ایشین فٹبال فیملی نے اہم فیصلہ کیا، اب ہمارے پاس اپنی تاریخ کا نیا باب رقم کرنے کی قوت ہے، شیخ سلمان کا اشارہ قطر کے بن حمام کے ہولناک خاتمے کی جانب تھا۔ بن حمام نے فیفا صدارت کیلیے چیلنج کیا لیکن انھیں رشوت ستانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صدارتی انتخابات کے موقع پر زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا، غیر معمولی کانگریس کے فلور سے عربی زبان میں نعرے بھی بلند ہوئے۔ ووٹنگ سے قبل شیخ سلمان اولمپک کونسل آف ایشیا کی طرفداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا،ان پر اسی قسم کے الزامات 2009 میں بھی لگائے گئے جب وہ بن حمام کیخلاف انتخاب ہار گئے تھے۔
انسانی حقوق کے گروپس نے بھی جمہوریت حامی مظاہروں میں بحرین کے ان اقدامات پر نکتہ چینی کی تھی جس میں کھلاڑیوں اور حکام کو گرفتار اور ظلم کرنے کے الزامات لگائے تھے، جیت کے بعد شیخ سلمان نے الزام لگانے والوں کو ثبوت فراہم کرنے کا چیلنج کردیا،ان کا کہنا ہے کہ آپ الزامات کی بات کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے پاس اس کے ثبوت ہیں؟ انھوں نے ایک مضبوط رہنما ہونے کا وعدہ بھی کیا جو ہر درجے پر گڈ گورننس کے اصول نافذ اور بن حمام کے غیر منظم دور کے بعد ایشین فٹبال کو بہتر کرے گا۔
ووٹنگ کے بعد ورلڈ فٹبال کے عہدیداروں کی سربراہی کے وفد کی سربراہی کرنیوالے فیفا چیف سیپ بلاٹر نے انتخابات کی مکمل شفافیت کو سراہا۔ انھوں نے شیخ سلمان کو کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایشین فٹبال ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور انھیں اس عظیم کنفیڈریشن کو دوبارہ مستحکم کرنا ہوگا۔ اے ایف سی کے نائب صدر اور یو اے ای فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ سرکال نے منفی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹنگ میں دھاندلی کے باوجود شیخ سلمان کیساتھ کام کرینگے۔انتخاب سے ایک روز قبل دستبردار ہونے والے سعودی عرب کے امیدوارحافظ ابراہیم المیدلج نے فیفا کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
انھوں نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے46 میں سے33 ووٹ حاصل کیے، شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ سابق سربراہ محمد بن حمام کی جگہ2015 میں ختم ہونے والی بقیہ مدت کیلیے فرائض انجام دیں گے،قطر کے بن حمام کو گزشتہ سال رشوت اور مالی بے ضابطگیوں پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ شیخ سلمان کے حریف یواے ای کے یوسف ال سرکال اور تھائی لینڈ کے ووراوی مکودی بالترتیب 6اور 7 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔
جیت کے بعد شیخ سلمان نے کہاکہ میرا مشن اپنی کنفیڈریشن کو متحد کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کے مستقبل کی طرف لے جانا ہے، اسکی بنیاد اچھی گورننس اور سالمیت پر ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ایشین فٹبال فیملی نے اہم فیصلہ کیا، اب ہمارے پاس اپنی تاریخ کا نیا باب رقم کرنے کی قوت ہے، شیخ سلمان کا اشارہ قطر کے بن حمام کے ہولناک خاتمے کی جانب تھا۔ بن حمام نے فیفا صدارت کیلیے چیلنج کیا لیکن انھیں رشوت ستانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صدارتی انتخابات کے موقع پر زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا، غیر معمولی کانگریس کے فلور سے عربی زبان میں نعرے بھی بلند ہوئے۔ ووٹنگ سے قبل شیخ سلمان اولمپک کونسل آف ایشیا کی طرفداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا،ان پر اسی قسم کے الزامات 2009 میں بھی لگائے گئے جب وہ بن حمام کیخلاف انتخاب ہار گئے تھے۔
انسانی حقوق کے گروپس نے بھی جمہوریت حامی مظاہروں میں بحرین کے ان اقدامات پر نکتہ چینی کی تھی جس میں کھلاڑیوں اور حکام کو گرفتار اور ظلم کرنے کے الزامات لگائے تھے، جیت کے بعد شیخ سلمان نے الزام لگانے والوں کو ثبوت فراہم کرنے کا چیلنج کردیا،ان کا کہنا ہے کہ آپ الزامات کی بات کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے پاس اس کے ثبوت ہیں؟ انھوں نے ایک مضبوط رہنما ہونے کا وعدہ بھی کیا جو ہر درجے پر گڈ گورننس کے اصول نافذ اور بن حمام کے غیر منظم دور کے بعد ایشین فٹبال کو بہتر کرے گا۔
ووٹنگ کے بعد ورلڈ فٹبال کے عہدیداروں کی سربراہی کے وفد کی سربراہی کرنیوالے فیفا چیف سیپ بلاٹر نے انتخابات کی مکمل شفافیت کو سراہا۔ انھوں نے شیخ سلمان کو کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایشین فٹبال ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور انھیں اس عظیم کنفیڈریشن کو دوبارہ مستحکم کرنا ہوگا۔ اے ایف سی کے نائب صدر اور یو اے ای فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ سرکال نے منفی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹنگ میں دھاندلی کے باوجود شیخ سلمان کیساتھ کام کرینگے۔انتخاب سے ایک روز قبل دستبردار ہونے والے سعودی عرب کے امیدوارحافظ ابراہیم المیدلج نے فیفا کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔