دہشت گرد سربجیت کی لاش ورثا کے حوالےبھارتی پنجاب میں سوگ

منموہن نے قوم کا’’بہادر بیٹا‘‘ قرار دیدیا، تعلقات متاثر ہونگے، سلمان خورشید، بہترین علاج کیا بچا نہ سکے، پاکستان

منموہن نے قوم کا’’بہادر بیٹا‘‘ قرار دیدیا، تعلقات متاثر ہونگے، سلمان خورشید، بہترین علاج کیا بچا نہ سکے، پاکستان۔ فوٹو: فائل

لاہور کے جناح ہسپتال میں 6 روز موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعددم توڑنے والے لاہور اور فیصل آباد میں دھماکوں میں ملوث بھارتی دہشتگرد سربجیت سنگھ کی لاش خصوصی طیارے کے ذریعے بھارت روانہ کردی گئی جبکہ بھارتی پنجاب میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور بھارتی وزیراعظم نے دھماکوں میں 14 پاکستانیوں کو شہید کرنیوالے سربجیت کو قوم کے 'بہادر بیٹے' کا خطاب دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کی لاش بھارت سے بھجوائے گئے خصوصی طیارے کے ذریعے بھارت روانہ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سربجیت سنگھ کی موت کے حوالے سے ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ سربجیت سنگھ کی موت سر میں گہرے زخم آنے اور خون زیادہ بہہ جانے کے باعث واقعہ ہوئی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں عامر تانبہ اور مدثر کے علاوہ دو مزید قیدیوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے، مقدمہ میں قتل کی دفعات کا اضافہ کردیا گیا ہے اور ملزمان سے جیل میں ہی تفتیش کی جارہی ہے۔ ادھر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے سربجیت کو''قومی شہید'' کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی اور انہوں نے ریاست میں 3 روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔

جمعرات کی صبح سے بھارت کے تمام ٹی وی چینلوں پر سربجیت سنگھ کی موت کے حوالے سے خبریں نشر ہو رہی ہیں اور تجزیے نشر کیے جارہے ہیں جس میں پاکستان کے خلاف غم و غصے کا اظہار ہو رہا ہے۔ وزیراعظم من موہن سنگھ کے دفتر سے جاری بیان میں انصاف کی بات کہی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن افراد نے یہ وحشیانہ کام کیا، انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ من موہن نے اپنے سرکاری ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ سربجیت جب زندگی وموت کی کشمکش میں تھا تو بھارتی سفارتکاروں کو اس تک رسائی نہیں دی گئی، پاکستان نے انسانی بینادوں پر کیس کا جائزہ لینے کی اپیلوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ آئی این پی کے مطابق من موہن نے سربجیت سنگھ کو قوم کے 'بہادر بیٹے' کا خطاب دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خوشید نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستحکم اور دیرینہ رشتے عوامی تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں، آج جو کچھ ہوا اس سے اس رشتے کو نقصان پہنچا ہے۔




وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیوری نے کہا ہے کہ یہ قتل ہے اور پاکستان بھارتی شہری کو جیل میں تحفظ دینے میں ناکام رہا اور ان کے حقوق کی پامالی کی گئی۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے امرتسر میں سربجیت کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ سربجیت سنگھ کو قتل کرنے کیلیے سازش کی گئی، جس کیلیے وہاں کی انتظامیہ ذمے دار ہے۔ راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بی جے پی رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ یہ نان اسٹیٹ ایکٹرا کا کام ہے لیکن پاکستانی انتظامیہ اور پولیس کی شمولیت کے بغیر یہ شاید ممکن ہی نہیں تھا۔ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کیلیے سفارتی اقدامات کرناچاہیں اور ہائی کمشنر واپس بلا لینا چاہیے۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے بھارتی حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سربجیت کی بہن اپنے بھائی کی زندگی کیلئے چیخ چیخ کر پکارتی رہی لیکن حکومت نے طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا، سفارتی طاقت کا بھی نہیں۔ سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے پاکستان سے تمام رابطے منقطع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ بھارت، پاکستان کو سخت جواب دے۔ بی بی سی کے مطابق ہر پہلو پر بحث کے دوران پاکستان پربغیر سوچے شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے کہ سربجیت کو پاکستانی عدالتوںنے بم دھماکوں کے جرم میں 16برس قبل موت کی سزا سنائی تھی اس لیے وہ جیل میں تھا۔ بھارتی میڈیا کا تاثر یہ ہے کہ وہ معصوم تھااوراس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔اے پی پی کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ سربجیت سنگھ کو بہترین طبی امداد دی گئی تھی تاہم بہترین علاج کے باوجود اسے بچایا نہ جاسکا۔ جمعرات کوترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ سربجیت کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی۔

Recommended Stories

Load Next Story