پانی کے متبادل وسائل اور ڈیمز کی تعمیر
سوچنے کا مقام ہے کہ ڈیمز کی تعمیر ملکی اقتصادی ، سماجی اور بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ڈیمز کی تعمیر ملکی اقتصادی ، سماجی اور بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل
نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے آبی بحران سے نمٹنے اور نئے آبی ذخائر کے قیام کے لیے واٹرکونسل کا ہنگامی اجلاس 9 جولائی کو طلب کرلیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت کونسل کے ممبران ، وزارت آبی وسائل کے حکام اوردیگر متعلقہ اعلیٰ افسران شرکت کرینگے۔ وزیر اطلاعات بیرسٹر ظفر علی نے اس حوالے سے بتایاکہ اجلاس میں واٹر پالیسی پرعملدرآمد کے پلان کی منظوری دی جائے گی، واٹر کونسل کے اجلاس کا ایجنڈا بھی مرتب کر لیا گیا۔
ملک کو درپیش آبی قلت کی صورتحال کے تشویش ناک پہلو سے قوم کو بار بار خبردار کیا جارہا ہے اور عالمی میڈیا میں بھی آبی جنگوں اور پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی ، دریاؤں پر ڈیمز کی تعمیر میں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے مذموم عزائم کو بے نقاب بھی کیا جاچکا ہے مگر سب سے بنیادی بات ملکی آبی ضرورت کے پیش نظر ڈیمز کی تعمیر اولین ترجیع قرار پائی ہے اور نگراں وزیر اعظم کی طرف سے آبی کونسل اجلاس اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالاباغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا تھا تھا کہ ملک میں ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی ہے، اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دینا پڑیگی،سیمینار منعقد کرنا پڑیں گے، انھوں نے کہا کہ ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں، جن کے لیے چاروں بھائیوں کو قربانی دینا پڑے گی۔
چیف جسٹس کے ان ارشادات میں آبی مسائل اور ملک کو درپیش ڈیموں کی عدم تعمیر کے رویے پر تشویش بلاوجہ نظر نہیں ہے، حکمرانوں نے بلاشبہ اس اہم مسئلے کی طرف کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ سیاسی ایشو بن کر رہ گیا چنانچہ آج قوم کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ ملکی زراعت اور عوام کو پینے کا صاف پانی نہ ملا اور زیر زمیں پانی کی سطح مسلسل نیچے جاتی رہی تو ارضیاتی کٹاؤ، اور آبپاشی سمیت زرعی ، معاشی، تکنیکی اور صنعتی ضروریات کی تکمیل کے لیے پاکستان کو کہاں سے آبی وسائل مہیا ہونگے۔
کالا باغ ڈیم پر مخالفین کے اپنے استدلال ہیں تین صوبائی اسمبلی کی اس ضمن میں امتناعی قراردادوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے مگر چیف جسٹس کی دردانگیز باتیں ملک کو پانی کی بنیادی ضرورت کے قومی ادراک سے جڑی ہوئی ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو عدالتی معاون اور واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک بھی پیش ہوئے۔
پانی کی فراہمی، اس کے ذخائر کی حقیقت، سیلابوں میں کروڑوں کیوسک پانی کے سمندر برد ہونے کی تفصیل حکمرانوں کے تجاہل عارفانہ کی ناقابل یقین غفلت اور چشم پوشی کی داستان بیان کرتی ہے، کالا باغ ڈیم کے مخالفین کہتے ہیں کہ انھیں پنجاب پر بھروسہ نہیں ، تو بھروسے کی نئی بنیادیں اگر ہیں تو ان پر اتفاق رائے ہوجائے، بھاشا ڈیم پر کام جلد شروع ہونا چاہیے، نئے ڈیموں کی تعمیر میں کوتاہی کی ذمے داری آخر کسی نہ کسی کو تو تسلیم کرنا پڑے گی۔
شمس المک نے کہا کہ دنیا میں 46 ہزار دیم بنائے جاچکے ہیں، کیا دنیا بے وقوف ہے، چین نے 22 ہزار ڈیم بنائے ہیں، وہاں ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے، بھارت ساڑھے 4 ہزار ڈیم تعمیر کرچکا ہے، انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی خشک سالی کی دس سال پہلے نشاندہی کردی گئی تھی، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی سیاست نے اہم ترین سماجی اور اقتصادی مسائل کے حل کو بھی پولیٹی سائز کرکے اس قوم کے ساتھ بدترین انتقام لیا ہے اس لیے آبی مسائل اور پانی کی شدید قلت کے مستقبل میں سنگین مضمرات کا ابھی سے ادراک کیا جائے ورنہ پانی سر سے اونچا ہوگیا تو تاریخ کسی کو معاف نہیں کریگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر میں پانی کی کمی خطر ناک صورتحال اختیار کرگئی جب کہ قابل استعمال پانی کاکل ذخیرہ آٹھ لاکھ نوے ہزارکیوسک ر ہ گیا جس کے باعث ارسا نے صوبوں کے پانی کے حصے کی کٹوتی نو فیصد سے بڑھا کر چودہ فیصد کر دی ہے ۔
ارسا کے ڈائریکٹر آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملک میں قابل استعمال پانی کے ذخیرے میں خطرناک حدتک کمی ہوگئی ہے اور قابل استعمال پانی کاکل ذخیرہ آٹھ لاکھ نوے ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے جوگزشتہ سال کے اسی عرصہ میں اڑسٹھ لاکھ دس ہزار کیوسک تھا ڈائریکٹر آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران دریاؤں میں پانی کی آمد تین لاکھ چھیانوے ہزار کیوسک تھی جو ان دنو ں دو لاکھ انسٹھ ہزار کیوسک تک آگئی ہے۔
ارسا پنجاب کوایک لاکھ نوہزارکیوسک،سندھ کوایک لاکھ پینتالیس ہزارکیوسک پانی فراہم کررہا ہے ۔ ارسا کی جانب سے بلوچستان کو چودہ ہزار اور خیبر پختونخوا کوتین ہزارایک سوکیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک خبر کے مطابق ایک اجلاس میں بعض سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ برطانیہ، بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے اور بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھے، وہ برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن سے گفتگو کر رہے تھے، برطانوی سفارت کاروں نے حیدرآباد میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سے ملاقات کی۔
رہنماؤں نے پاکستان کے موقف کی بھرپور ترجمانی کی اور برطانوی سفارت کارکو قوم کے جذبات سے آگاہ کیا اورکہا کہ بھارت پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑ رہا ہے اور ہمارے دریاؤں پرسندھ طاس معاہدے کے خلاف ڈیم تعمیرکررہا ہے جس سے پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہے اگر بھارت کو روکانہ گیا تو ایٹمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں دستیاب پانی کا ایک ایک قطرہ بچانا از حد ضروری ہے ۔پانی کا بحران ملک میں شدت اختیار کر سکتا ہے۔قیام پاکستان کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5 ہزار6 سو کیوبک میٹر پانی موجود تھا جو اب کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور2025 تک 8 سو کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ پاکستان کا پانی کی کمی کے چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک میں ساتواں نمبر ہے۔پاکستان میں دستیاب پانی کا 93 فیصد زرعی مقاصد جب کہ7 فیصد روزمرہ استعمال میں آتا ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ڈیمز کی تعمیر ملکی اقتصادی ، سماجی اور بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے، پانی زندگی ہے اور متبادل آبی وسال کی تلاش میں مزید کوتاہی کی گئی تو صورتحال سنگین تر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے چار بھائیوں کی پانی کے مسئلے پر قربانی کی جو بات کی ہے وہ تاریخ کا اہم ترین سچ ہے، ڈیمز کی تعمیر میں حائل مشکلات کا حل بھی ارباب اختیار اور چاروں صوبوں کو نکالنا ہے،اگر ڈیم نہ بنے اور آبی ذخائر کی کثیر تعداد میں تعمیر کا کام شروع نہ ہوا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیندہ چند برسوں میں ملکی معیشت و زراعت کا کیا حال ہوگا۔اسی موقعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
ملک کو درپیش آبی قلت کی صورتحال کے تشویش ناک پہلو سے قوم کو بار بار خبردار کیا جارہا ہے اور عالمی میڈیا میں بھی آبی جنگوں اور پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی ، دریاؤں پر ڈیمز کی تعمیر میں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے مذموم عزائم کو بے نقاب بھی کیا جاچکا ہے مگر سب سے بنیادی بات ملکی آبی ضرورت کے پیش نظر ڈیمز کی تعمیر اولین ترجیع قرار پائی ہے اور نگراں وزیر اعظم کی طرف سے آبی کونسل اجلاس اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالاباغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا تھا تھا کہ ملک میں ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی ہے، اس معاملے میں ایک کمیٹی تشکیل دینا پڑیگی،سیمینار منعقد کرنا پڑیں گے، انھوں نے کہا کہ ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں، جن کے لیے چاروں بھائیوں کو قربانی دینا پڑے گی۔
چیف جسٹس کے ان ارشادات میں آبی مسائل اور ملک کو درپیش ڈیموں کی عدم تعمیر کے رویے پر تشویش بلاوجہ نظر نہیں ہے، حکمرانوں نے بلاشبہ اس اہم مسئلے کی طرف کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ سیاسی ایشو بن کر رہ گیا چنانچہ آج قوم کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ ملکی زراعت اور عوام کو پینے کا صاف پانی نہ ملا اور زیر زمیں پانی کی سطح مسلسل نیچے جاتی رہی تو ارضیاتی کٹاؤ، اور آبپاشی سمیت زرعی ، معاشی، تکنیکی اور صنعتی ضروریات کی تکمیل کے لیے پاکستان کو کہاں سے آبی وسائل مہیا ہونگے۔
کالا باغ ڈیم پر مخالفین کے اپنے استدلال ہیں تین صوبائی اسمبلی کی اس ضمن میں امتناعی قراردادوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے مگر چیف جسٹس کی دردانگیز باتیں ملک کو پانی کی بنیادی ضرورت کے قومی ادراک سے جڑی ہوئی ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو عدالتی معاون اور واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک بھی پیش ہوئے۔
پانی کی فراہمی، اس کے ذخائر کی حقیقت، سیلابوں میں کروڑوں کیوسک پانی کے سمندر برد ہونے کی تفصیل حکمرانوں کے تجاہل عارفانہ کی ناقابل یقین غفلت اور چشم پوشی کی داستان بیان کرتی ہے، کالا باغ ڈیم کے مخالفین کہتے ہیں کہ انھیں پنجاب پر بھروسہ نہیں ، تو بھروسے کی نئی بنیادیں اگر ہیں تو ان پر اتفاق رائے ہوجائے، بھاشا ڈیم پر کام جلد شروع ہونا چاہیے، نئے ڈیموں کی تعمیر میں کوتاہی کی ذمے داری آخر کسی نہ کسی کو تو تسلیم کرنا پڑے گی۔
شمس المک نے کہا کہ دنیا میں 46 ہزار دیم بنائے جاچکے ہیں، کیا دنیا بے وقوف ہے، چین نے 22 ہزار ڈیم بنائے ہیں، وہاں ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے، بھارت ساڑھے 4 ہزار ڈیم تعمیر کرچکا ہے، انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی خشک سالی کی دس سال پہلے نشاندہی کردی گئی تھی، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی سیاست نے اہم ترین سماجی اور اقتصادی مسائل کے حل کو بھی پولیٹی سائز کرکے اس قوم کے ساتھ بدترین انتقام لیا ہے اس لیے آبی مسائل اور پانی کی شدید قلت کے مستقبل میں سنگین مضمرات کا ابھی سے ادراک کیا جائے ورنہ پانی سر سے اونچا ہوگیا تو تاریخ کسی کو معاف نہیں کریگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر میں پانی کی کمی خطر ناک صورتحال اختیار کرگئی جب کہ قابل استعمال پانی کاکل ذخیرہ آٹھ لاکھ نوے ہزارکیوسک ر ہ گیا جس کے باعث ارسا نے صوبوں کے پانی کے حصے کی کٹوتی نو فیصد سے بڑھا کر چودہ فیصد کر دی ہے ۔
ارسا کے ڈائریکٹر آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملک میں قابل استعمال پانی کے ذخیرے میں خطرناک حدتک کمی ہوگئی ہے اور قابل استعمال پانی کاکل ذخیرہ آٹھ لاکھ نوے ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے جوگزشتہ سال کے اسی عرصہ میں اڑسٹھ لاکھ دس ہزار کیوسک تھا ڈائریکٹر آپریشنز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران دریاؤں میں پانی کی آمد تین لاکھ چھیانوے ہزار کیوسک تھی جو ان دنو ں دو لاکھ انسٹھ ہزار کیوسک تک آگئی ہے۔
ارسا پنجاب کوایک لاکھ نوہزارکیوسک،سندھ کوایک لاکھ پینتالیس ہزارکیوسک پانی فراہم کررہا ہے ۔ ارسا کی جانب سے بلوچستان کو چودہ ہزار اور خیبر پختونخوا کوتین ہزارایک سوکیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک خبر کے مطابق ایک اجلاس میں بعض سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ برطانیہ، بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے اور بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھے، وہ برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن سے گفتگو کر رہے تھے، برطانوی سفارت کاروں نے حیدرآباد میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سے ملاقات کی۔
رہنماؤں نے پاکستان کے موقف کی بھرپور ترجمانی کی اور برطانوی سفارت کارکو قوم کے جذبات سے آگاہ کیا اورکہا کہ بھارت پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑ رہا ہے اور ہمارے دریاؤں پرسندھ طاس معاہدے کے خلاف ڈیم تعمیرکررہا ہے جس سے پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہے اگر بھارت کو روکانہ گیا تو ایٹمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں دستیاب پانی کا ایک ایک قطرہ بچانا از حد ضروری ہے ۔پانی کا بحران ملک میں شدت اختیار کر سکتا ہے۔قیام پاکستان کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5 ہزار6 سو کیوبک میٹر پانی موجود تھا جو اب کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور2025 تک 8 سو کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ پاکستان کا پانی کی کمی کے چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک میں ساتواں نمبر ہے۔پاکستان میں دستیاب پانی کا 93 فیصد زرعی مقاصد جب کہ7 فیصد روزمرہ استعمال میں آتا ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ڈیمز کی تعمیر ملکی اقتصادی ، سماجی اور بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے، پانی زندگی ہے اور متبادل آبی وسال کی تلاش میں مزید کوتاہی کی گئی تو صورتحال سنگین تر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے چار بھائیوں کی پانی کے مسئلے پر قربانی کی جو بات کی ہے وہ تاریخ کا اہم ترین سچ ہے، ڈیمز کی تعمیر میں حائل مشکلات کا حل بھی ارباب اختیار اور چاروں صوبوں کو نکالنا ہے،اگر ڈیم نہ بنے اور آبی ذخائر کی کثیر تعداد میں تعمیر کا کام شروع نہ ہوا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیندہ چند برسوں میں ملکی معیشت و زراعت کا کیا حال ہوگا۔اسی موقعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا