مالی حالات سے تنگ لیڈی پولیس کانسٹیبل نے خود کشی کرلی
نسیم اختر پولیس میں 20سال سے ملازم اورپولیس اسٹیشن صدر میں تعینات تھی
متوفیہ کے بڑے بیٹے 18 سالہ محمد راشد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ گھر کے مالی حالات بہت زیادہ خراب تھے اور اس کی والدہ اسی وجہ سے پریشانی کا شکار رہتی تھیں۔ فوٹو: فائل
HAMBANTOTA:
نیپئر کے علاقے میں لیڈی پولیس کانسٹیبل نے مالی حالات سے مجبور ہو کر گلے میں پھندا لگاکر چھت سے لٹک کر خود کشی کرلی۔
تفصیلات کے مطابق نیپئر کے علاقے اکال بونگا مسلم آباد کی رہائشی لیڈی کانسٹیبل 45 سالہ نسیم اختر زوجہ محمد فاروق بکل نمبر 23633 نے گزشتہ روز گھر میں گلے میں پھندا ڈال کر چھت سے لٹک کر خود کشی کرلی ، پولیس کے مطابق نسیم اختر وومن پولیس اسٹیشن صدر میں تعینات تھی ، متوفیہ 2 بچوں کی ماں تھی اور وہ سندھ پولیس میں 20 برس سے زائدعرصے فرائض انجام دے چکی تھی۔
متوفیہ کے بڑے بیٹے 18 سالہ محمد راشد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ گھر کے مالی حالات بہت زیادہ خراب تھے اور اس کی والدہ اسی وجہ سے پریشانی کا شکار رہتی تھیں، چند برس قبل اس کے والد کی وفات ہوگئی تھی ، راشد نے مزید بتایا کہ وقوع کے وقت اس کی والدہ گھر میں اکیلی تھیں ، وہ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو اس کی والدہ کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی تھی ۔
نیپئر کے علاقے میں لیڈی پولیس کانسٹیبل نے مالی حالات سے مجبور ہو کر گلے میں پھندا لگاکر چھت سے لٹک کر خود کشی کرلی۔
تفصیلات کے مطابق نیپئر کے علاقے اکال بونگا مسلم آباد کی رہائشی لیڈی کانسٹیبل 45 سالہ نسیم اختر زوجہ محمد فاروق بکل نمبر 23633 نے گزشتہ روز گھر میں گلے میں پھندا ڈال کر چھت سے لٹک کر خود کشی کرلی ، پولیس کے مطابق نسیم اختر وومن پولیس اسٹیشن صدر میں تعینات تھی ، متوفیہ 2 بچوں کی ماں تھی اور وہ سندھ پولیس میں 20 برس سے زائدعرصے فرائض انجام دے چکی تھی۔
متوفیہ کے بڑے بیٹے 18 سالہ محمد راشد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ گھر کے مالی حالات بہت زیادہ خراب تھے اور اس کی والدہ اسی وجہ سے پریشانی کا شکار رہتی تھیں، چند برس قبل اس کے والد کی وفات ہوگئی تھی ، راشد نے مزید بتایا کہ وقوع کے وقت اس کی والدہ گھر میں اکیلی تھیں ، وہ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو اس کی والدہ کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی تھی ۔