بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد بڑھانے کی تجویز
گوشت، اسٹیشنری، ڈیری مصنوعات ودیگر اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان۔
رعایتی ریٹ بھی 1 فیصد بڑھانے پر غور،81 ارب کا اضافی ریونیو حاصل، مہنگائی بڑھ جائیگی، ذرائع فوٹو: فائل
وفاقی حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال بجٹ میں 3 ہزار سے زائد تمام قابل ٹیکس اشیا پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد اضافے سے 17 فیصد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ گوشت، اسٹیشنری اور ڈیری مصنوعات سمیت دیگر اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی ختم کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزارت خزانہ میں اجلاس کے دوران بجٹ تجاویز کا مسودہ پیش کیا جس کی وزارت خزانہ نے ابتدائی طور پر اصولی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق اگر مذکورہ تجویز کوبجٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق بجٹ تجاویز کے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے دور میں سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کرنے کے فیصلے کو واپس لے کر آئندہ بجٹ میں تمام اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کردی جائے، اس اقدام سے ایف بی آر کو آئندہ مالی سال 50 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس تجویز کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنا کر منظوری کے لیے پیش کیا جائیگا، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں گوشت، اسٹیشنری اور ڈیری مصنوعات سمیت دیگر اشیا پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ بھی واپس لی جائے کیونکہ اس سے ریونیو کا نقصان ہورہا ہے، یہ چھوٹ واپس لینے سے ایف بی آر کو 6 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا، اس کے علاوہ وفاقی بجٹ میں رعایتی سیلز ٹیکس کی حامل اشیا پر ریٹ میں1 فیصد اضافہ کرنے کی بھی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح 1فیصد بڑھانے سے آئندہ مالی سال کے دوران ایف بی آر کو 25 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے مذکورہ بجٹ تجاویز کا مسودہ گزشتہ روز وزارت خزانہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا اور وزارت خزانہ نے ان بجٹ تجاویز کا جائزہ لے کر منظوری دیدی ہے تاہم حتمی منظوری بجٹ میں دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزارت خزانہ میں اجلاس کے دوران بجٹ تجاویز کا مسودہ پیش کیا جس کی وزارت خزانہ نے ابتدائی طور پر اصولی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق اگر مذکورہ تجویز کوبجٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق بجٹ تجاویز کے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے دور میں سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کرنے کے فیصلے کو واپس لے کر آئندہ بجٹ میں تمام اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کردی جائے، اس اقدام سے ایف بی آر کو آئندہ مالی سال 50 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس تجویز کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنا کر منظوری کے لیے پیش کیا جائیگا، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں گوشت، اسٹیشنری اور ڈیری مصنوعات سمیت دیگر اشیا پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ بھی واپس لی جائے کیونکہ اس سے ریونیو کا نقصان ہورہا ہے، یہ چھوٹ واپس لینے سے ایف بی آر کو 6 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا، اس کے علاوہ وفاقی بجٹ میں رعایتی سیلز ٹیکس کی حامل اشیا پر ریٹ میں1 فیصد اضافہ کرنے کی بھی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق رعایتی سیلز ٹیکس کی شرح 1فیصد بڑھانے سے آئندہ مالی سال کے دوران ایف بی آر کو 25 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے مذکورہ بجٹ تجاویز کا مسودہ گزشتہ روز وزارت خزانہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا اور وزارت خزانہ نے ان بجٹ تجاویز کا جائزہ لے کر منظوری دیدی ہے تاہم حتمی منظوری بجٹ میں دی جائے گی۔