جناح ٹرمینل فلائی اوور رواں ماہ ٹریفک کیلئے کھول دیا جائیگا گورنر سندھ
شارع فیصل کاایک اور سگنل ختم ہونے سے شہری باآسانی نیشنل ہائی وے اور ایئر پورٹ جاسکیں گے، ملیر 15پر بھی فلائی۔۔۔
شارع فیصل کاایک اور سگنل ختم ہونے سے شہری باآسانی نیشنل ہائی وے اور ایئر پورٹ جاسکیں گے، ملیر 15پر بھی فلائی اوور بنایا جائیگا۔ فوٹو: فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا ہے کہ جناح ٹرمینل فلائی اوور کو اس مہینے کے آخر تک ٹریفک کیلیے کھول دیا جائے گا۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ترقیاتی کام متاثر ہوئے ہیں تاہم شاہراہ پاکستان پر زیر تعمیر فلائی اوور ز کا کام جاری ہے اور شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر اسے بھی جلد از جلد مکمل کرلیا جائے گا، یہ بات انھوں نے جناح ٹرمینل فلائی اوور اور شاہراہ پاکستان فلائی اوور ز کے تعمیراتی کاموں کادورہ کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات جعفر خواجہ، ایڈمنسٹریٹر کراچی سید ہاشم رضا زیدی، کمشنر کراچی شعیب صدیقی، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو، متعلقہ پروجیکٹس کے ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
گورنر سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جناح ٹرمینل فلائی اوور کی لاگت کا تخمینہ تقریباً290 ملین روپے ہے، آج سے فلائی اوور کے350 میٹر طویل مکمل حصے کی کارپیٹنگ شروع ہوجائیگی جبکہ باقی90 میٹر حصے کی کارپیٹنگ 14 مئی سے شروع کرکے2 دن میں مکمل کرلی جائے گی، فلائی اوورکے نچلے حصے میں سڑکوں کا تعمیراتی کام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے جس کے لیے800 میٹر کے حصے پر کارپیٹنگ کی جائیگی، یہ تمام کام دن رات جاری رہے گا تاکہ مقررہ وقت میں یہ منصوبہ مکمل کیا جاسکے، یہ فلائی اوور تین لین کا ہوگا جبکہ 570 میٹر طویل فلائی اوور میں9 اسپین ہیں اور چوڑائی 10.5 میٹر ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلائی اوور کی تکمیل کے بعد شارع فیصل پر واقع ایک اور سگنل ختم ہوجائے گا، نیشنل ہائی وے پر تعمیر کیے جانیوالے ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بڑھ جائے گی لہٰذا اس بات کے پیش نظر ملیر 15 پر بھی فلائی اوور تعمیر کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
گورنر کو بتایا گیا کہ کوریڈورV کی تکمیل کے بعد مارٹن روڈ ، لیاقت آباد، لسبیلہ، پی آئی بی کالونی، ناظم آباد، عزیزآباد، انچولی، کریم آباد اور سپر ہائی وے جانے والے ٹریفک کو قابل ذکر سہولت میسر آئے گی جبکہ ان فلائی اوورز کے نیچے سے گزرنے والے ٹریفک کے لیے بھی امپروومنٹ پلان تیار کیا گیا ہے جس کے تحت متعدد پبلک ٹرانسپورٹ روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کو براہ راست ان فلائی اوورز کے اوپر سے گزارا جائے گا تاکہ فلائی اوورز کے نیچے سے گزرنے والی ٹریفک کو دشواریوں کا سامنا نہ ہو۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ترقیاتی کام متاثر ہوئے ہیں تاہم شاہراہ پاکستان پر زیر تعمیر فلائی اوور ز کا کام جاری ہے اور شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر اسے بھی جلد از جلد مکمل کرلیا جائے گا، یہ بات انھوں نے جناح ٹرمینل فلائی اوور اور شاہراہ پاکستان فلائی اوور ز کے تعمیراتی کاموں کادورہ کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات جعفر خواجہ، ایڈمنسٹریٹر کراچی سید ہاشم رضا زیدی، کمشنر کراچی شعیب صدیقی، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو، متعلقہ پروجیکٹس کے ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
گورنر سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جناح ٹرمینل فلائی اوور کی لاگت کا تخمینہ تقریباً290 ملین روپے ہے، آج سے فلائی اوور کے350 میٹر طویل مکمل حصے کی کارپیٹنگ شروع ہوجائیگی جبکہ باقی90 میٹر حصے کی کارپیٹنگ 14 مئی سے شروع کرکے2 دن میں مکمل کرلی جائے گی، فلائی اوورکے نچلے حصے میں سڑکوں کا تعمیراتی کام بھی ساتھ ساتھ جاری ہے جس کے لیے800 میٹر کے حصے پر کارپیٹنگ کی جائیگی، یہ تمام کام دن رات جاری رہے گا تاکہ مقررہ وقت میں یہ منصوبہ مکمل کیا جاسکے، یہ فلائی اوور تین لین کا ہوگا جبکہ 570 میٹر طویل فلائی اوور میں9 اسپین ہیں اور چوڑائی 10.5 میٹر ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلائی اوور کی تکمیل کے بعد شارع فیصل پر واقع ایک اور سگنل ختم ہوجائے گا، نیشنل ہائی وے پر تعمیر کیے جانیوالے ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بڑھ جائے گی لہٰذا اس بات کے پیش نظر ملیر 15 پر بھی فلائی اوور تعمیر کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
گورنر کو بتایا گیا کہ کوریڈورV کی تکمیل کے بعد مارٹن روڈ ، لیاقت آباد، لسبیلہ، پی آئی بی کالونی، ناظم آباد، عزیزآباد، انچولی، کریم آباد اور سپر ہائی وے جانے والے ٹریفک کو قابل ذکر سہولت میسر آئے گی جبکہ ان فلائی اوورز کے نیچے سے گزرنے والے ٹریفک کے لیے بھی امپروومنٹ پلان تیار کیا گیا ہے جس کے تحت متعدد پبلک ٹرانسپورٹ روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کو براہ راست ان فلائی اوورز کے اوپر سے گزارا جائے گا تاکہ فلائی اوورز کے نیچے سے گزرنے والی ٹریفک کو دشواریوں کا سامنا نہ ہو۔