ایمان علی انٹرنیشنل فیسٹیولز کیلیے بننے والی آرٹ فلم میں مرکزی کردار نبھائینگی

اداکارہ کےمدمقابل فہدمصطفی نظرآئیں گے،صنم سعیداورمنظرصہبائی بھی ہونگے،فلم کےہدایتکارانجم شہزاداورمصنف سرمدصہبائی ہیں.

فلم کی کہانی بہت ہی منفرد ہے، کیرئیر کے دوران معیاری کام کیا،ووٹ کاسٹ کرونگی پاکستانی سپرماڈل اوراداکارہ کی ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی سپرماڈل اوراداکارہ ایمان علی بیرون ممالک منعقد ہونیوالے انٹرنیشنل فلم فیسٹیولزکے لیے بنائی جانیوالی آرٹ فلم میں مرکزی کرداراداکریں گی۔

فلم میں ایمان علی کے مد مقابل فہد مصطفی مرکزی کردارادا کررہے ہیںجب کہ دیگرفنکاروں میں صنم سعید اورمنظرصہبائی شامل ہیں۔ فلم کے ہدایتکار انجم شہزاداورمصنف سرمد صہبائی ہیں۔ واضح رہے کہ فلم کی شوٹنگ ان دنوں کراچی میں جاری ہے اورمختلف لوکیشنز پر عکسبندی تیزی سے ہورہی ہے۔ جہاں ایمان علی اورفہد مصطفیٰ پر سین عکسبند کیے جارہیں توکبھی منظرصہبائی اورصنم سعید کو فلمبند کیا جارہا ہے۔ ساحل سمندر اورخوبصورت عمارتوں کے درمیان عکسبندی جونہی شروع ہوتی ہے تومعروف فنکاروںکی ایک جھلک دیکھنے والوںکا ہجوم لگ جاتاہے۔ ایمان علی نے '' ایکسپریس '' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ فلم سائن کرنے کے لیے میری اولین شرط فلم کا اسکرپٹ اوراپنا کردار ہوتا ہے۔ ویسے توفلم کے مصنف سرمد صہبائی ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔

انھوں نے ہمیشہ ہی ایسے موضوعات پرکہانیاں لکھی ہیں جو معاشرے کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ جونہی مجھے فلم کااسکرپٹ ملا تومیں نے کام کرنے کی حامی بھرلی۔ یہ کمرشل نہیں بلکہ آرٹ فلم ہے جس کوخاص طورپردنیا کے بیشترممالک میں ہونے والے فلم فیسٹیولزکے لیے تیارکیا جا رہا ہے۔ فلم کی کہانی بہت ہی منفرد ہے لیکن اس کے بارے میں بتانے کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک بات میرے دوسرے پراجیکٹس کی ہے تو انٹرنیشنل برانڈز کے شوٹس، ٹی وی کمرشلزاورفلموں میںاداکاری کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات توسب جانتے ہیں کہ میں تعداد پرنہیں بلکہ معیارکوترجیح دیتی ہوں۔ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران جو بھی کام کیا وہ بہت معیاری تھا۔ جس کی وجہ سے میرے کام کی تعداد کم ہے۔ اکثرمیرے چاہنے والے کسی تقریب میں ملتے ہیں تووہ یہی سوال پوچھتے ہیںکہ میں کم، کم دکھائی دیتی ہوں تومیرا بس ایک ہی جواب ہوتاہے کہ اچھا کام جب بھی آفرکیا جاتا ہے تومیں ضرور کام کرتی ہوں۔ جہاں تک بات بالی وڈ کی ہے توآفرزہوتی رہتی ہیں مگرمیں اپنی شرائط پرکام کرنے کوترجیح دیتی ہوں۔




انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کی ترقی مثالی ہے۔ ہمارے ڈیزائنر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ایک طرف فیش ویک کا انعقاد لاہور، کراچی اوراسلام آباد میں کیا جا رہا ہے تودوسری طرف بھارت سمیت دیگرممالک کے ڈیزائنر، ماڈلزبھی ان میں حصہ لے رہے ہیں جو بہت خوش آئند بات ہے۔اس وقت موسم گرما کی مناسبت سے لان کے دیدہ زیب ڈیزائن متعارف کروائے جارہے ہیں۔ یہ سب فیشن انڈسٹری کی بدولت ممکن ہوسکاہے۔ وگرنہ پاکستان میں یہ ٹرینڈ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ ایمان علی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان دنوں ملک میں عام انتخابات کی گہماگہمی ہے۔ سیاسی رہنما اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کا منشور پیش کر رہے ہیں اورمسائل کے خاتمے کی بات ہورہی ہے تومیں لوگوںکو صرف یہی مشورہ دینا چاہوں گی کہ آزمائے ہوئے لوگوں کودوبارہ آزمانے سے اچھا ہے کہ ہم اب کسی نئے کو موقع دیں جوہمارے مسائل حل کرسکے۔ ہمیں بنیادی حقوق دلواسکے، تعلیم اورعلاج غریب لوگوںکو مفت مل سکے۔

ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہو، یہاں سے کرپشن اوربے روزگاری کاخاتمہ ہو، ہماراشمار دنیا کے ان ملکوں میں ہونے لگے جن کی آج ہم مثال دیتے ہیں۔اس کے لیے ہمیں ایک ایسے مخلص رہنما کی ضرورت ہے جو اپنے ویژن سے ہمیں ایک درست سمت میں لے کرجائے۔ اس لیے پوری قوم کواپنا قیمتی ووٹ بہت سوچ سمجھ کر ڈالنا ہوگا۔ ہمارا ایک ووٹ اگر غلط رہنما کوملے گا تو اس کے نتائج غلط ہی ہونگے۔ پہلے ہی ہم قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اربوں، کھربوں روپے کی کرپشن ہونے لگی گی، ان پڑھ اورجاہل لوگوںکو ملازمتیں ملیں گی جب کہ پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار پھریں گے۔ ان ساری باتوں کو زہن میں رکھتے ہوئے ہمیں آئندہ انتخابات میں پولنگ بوتھ پہنچنا ہوگا۔ میں بھی اپنے ووٹ کاسٹ کرونگی اور لوگوں سے بھی میری اپیل ہے کہ وہ بھی ووٹ کاسٹ کریں۔
Load Next Story