ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے حامد کرزئی

ہر ماہ سی آئی اے سے ڈالروں سے بھرے تھیلے ملتے ہیں، افغان صدر کا اعتراف.

پاکستان اور افغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن کی شکل میں طے ہے، ترجمان خارجہ پاکستان۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان سرحدی جھڑپوں کے ذریعے افغانستان کو ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حامد کرزئی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کو ہر ماہ سی آئی اے سے ڈالروں سے بھرے ہوئے تھیلے ملتے ہیں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن افغانستان پر مسلط کی گئی ہے جسے کسی افغان حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کوئی حکومت آئندہ ایسا کرے گی۔ افغان صدر نے کہا کہ پاکستان حکومت کے اہلکاروں نے بارہا ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ان سے بات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اس مسئلے پر بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن کی شکل میں طے ہے۔




افغانستان کی جانب سے گورسال میں پاکستانی چوکی پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی لیکن پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ترجمان نے امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کی حکومت سرحد کے اس جانب اپنے نظام کو بہتر کرے گی تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ اس سے قبل افغانستان کے صدر نے ان خبروں کے تصدیق کی کہ ان کی حکومت کو ہر ماہ افغانستا ن میں سی آئی اے کے اہلکاروں سے ڈالروں سے بھرے ہوئے تھیلے ملتے ہیں۔افغان صدر نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے ایسا ہو رہا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ سی آئی اے کی امداد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
Load Next Story