مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں شدت
بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں ریاست کے نوجوانوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں ریاست کے نوجوانوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ فوٹو: فائل
مقبوضہ کشمیر میں وقفے وقفے سے آزادی کی تحریک میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ ادھر بھارتی حکمرانوںنے بھاری تعداد میں وہاں فوج تعینات کررکھی ہے۔ فوجی اہلکار احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتی ہے اور انھیں پہلے پیلٹ گن سے بصارت سے محروم کر نے کے لیے ان کی آنکھوں کو نشانہ بناتی ہے لیکن اس پر بھی اگر احتجاج کی شدت میں کمی واقع نہ ہو تو ان کشمیریوں کو خطرناک گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔
ان دنوں چونکہ نوجوان کشمیری مجاہدین برہان وانی شہید کی دوسری برسی کا دن قریب آ رہا تھا تو تحریک آزادی کی شدت میں معمول سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی میں بی جے پی کی حکومت مقبوضہ ریاست میں بے چینی کو روکنے کے لیے اپنے معمول کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے اور فوج کو نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے حربوں میں اضافے کا اشارہ دیدتی ہے۔
نوخیز برہان وانی حزب المجاہدین کا جوان سال کمانڈر تھا جس نے کم عمر ہونے کے باوجود اپنے احتجاج سے بھارت کی سیکیورٹی فورسز کو عاجز کر دیا تھا اسی وجہ سے اسے شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ برہان والی کی برسی کے قریب آنے پر ریاست میں وسیع پیمانے پر احتجاجی جلوسوں کے امکان کے پیش نظر ممتاز کشمیری لیڈروں کو جن میں یٰسین ملک ' میر واعظ عمر فاروق اور علی شاہ گیلانی شامل ہیں، ان سب کو گھروں میں نظر بند بند کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں بھارت کی مرکزی حکومت نے مقبوضہ ریاست میں گورنر راج بھی نافذ کر دیا ہے تاکہ ریاستی حکومت کو نئی دہلی سے براہ راست احکامات جاری کیے جا سکیں اور ان پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ بھارت کے ان اقدامات سے وادی میں نوجوانوں کے جذبات اور زیادہ مشتعل ہو جاتے ہیں اور یوں مودی حکومت کا مقبوضہ ریاست کو اپنے سخت کنٹرول میں لانے کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ برہان وانی کے قتل پر حقوق انسانی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بھارت کے ظلم و تشدد کی زبردست مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں ریاست کے نوجوانوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ ریاست میں تشدد کی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے دانشمندانہ طریق کار کا استعمال کریں کیونکہ تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں وہاں بھی تشدد پیدا ہو گا۔گزشتہ روز بھی تین کشمیری شہید کیے گئے۔ایسے حالات میں عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے سنگین ہوتے حالات کا نوٹس لے اور وہاں کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ان دنوں چونکہ نوجوان کشمیری مجاہدین برہان وانی شہید کی دوسری برسی کا دن قریب آ رہا تھا تو تحریک آزادی کی شدت میں معمول سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی میں بی جے پی کی حکومت مقبوضہ ریاست میں بے چینی کو روکنے کے لیے اپنے معمول کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے اور فوج کو نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے حربوں میں اضافے کا اشارہ دیدتی ہے۔
نوخیز برہان وانی حزب المجاہدین کا جوان سال کمانڈر تھا جس نے کم عمر ہونے کے باوجود اپنے احتجاج سے بھارت کی سیکیورٹی فورسز کو عاجز کر دیا تھا اسی وجہ سے اسے شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ برہان والی کی برسی کے قریب آنے پر ریاست میں وسیع پیمانے پر احتجاجی جلوسوں کے امکان کے پیش نظر ممتاز کشمیری لیڈروں کو جن میں یٰسین ملک ' میر واعظ عمر فاروق اور علی شاہ گیلانی شامل ہیں، ان سب کو گھروں میں نظر بند بند کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں بھارت کی مرکزی حکومت نے مقبوضہ ریاست میں گورنر راج بھی نافذ کر دیا ہے تاکہ ریاستی حکومت کو نئی دہلی سے براہ راست احکامات جاری کیے جا سکیں اور ان پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ بھارت کے ان اقدامات سے وادی میں نوجوانوں کے جذبات اور زیادہ مشتعل ہو جاتے ہیں اور یوں مودی حکومت کا مقبوضہ ریاست کو اپنے سخت کنٹرول میں لانے کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ برہان وانی کے قتل پر حقوق انسانی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بھارت کے ظلم و تشدد کی زبردست مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں ریاست کے نوجوانوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ ریاست میں تشدد کی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے دانشمندانہ طریق کار کا استعمال کریں کیونکہ تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں وہاں بھی تشدد پیدا ہو گا۔گزشتہ روز بھی تین کشمیری شہید کیے گئے۔ایسے حالات میں عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے سنگین ہوتے حالات کا نوٹس لے اور وہاں کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔