ایران کی کامیاب خارجہ پالیسی

ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا اور تمام مشکلات و مصائب کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔

ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا اور تمام مشکلات و مصائب کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ فوٹو:فائل

برطانیہ، فرانس، جرمنی 'روس اور چین نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے 2015ء سے دستبردار ہونے کے باوجود تہران کو معاہدے کے تحت اقتصادی فوائد حاصل رہیں گے۔ اس حوالے سے چاروں عالمی طاقتوں نے عزم کا اظہار کیا کہ معاہدہ کی رو سے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات سمیت ایرانی تیل اور گیس کی برآمد اور دیگر توانائی سے متعلق امور پر بھرپور تعاون جاری رہے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو معاہدہ توڑنے کی دھمکیوں کے خدشے کے باعث ایران نے حفظ ما تقدم کے طور پر خصوصی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی عالمی طاقتوں کو ضمانت کے طور پر معاہدے میں شامل کرا لیا تا کہ امریکی صدر ٹرمپ یکطرفہ طور پر معاہدہ توڑنے کی کوشش نہ کر سکیں اور ان پر معاہدے کی پاسداری کرنے کے لیے عالمی دباؤ موجود رہے۔


ادھر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد دیگر عالمی طاقتوں نے واشنگٹن کا دباؤ برداشت کیا ہے جو یقیناً قابل ستائش بات ہے۔ایران کے خلاف امریکا کا دباؤ اسی وقت سے شروع ہوگیا تھا جب ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد امریکی بالادستی کا جوا اتار پھینکا تھا اور اپنی آزاد پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو امریکا کے لیے ناقابل قبول تھا۔ لیکن ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا اور تمام مشکلات و مصائب کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔

امریکا نے پہلے ایران کا انقلاب ناکام بنانے کے لیے عراق کے آمر صدام حسین کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور دس سال تک دونوں اسلامی ملک آپس میں برسر پیکار رہے جس میں دونوں ملکوں کے لاکھوں جوان کام آئے۔

امریکا عراق کو جدید ہتھیار بھی فراہم کرتا رہا اور پھر انھی ہتھیاروں کی برامدگی کے لیے عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور صدام کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ بہرحال اب بھی ایران ، امریکا کے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں' چالاکیوں اور فریب کاریوں کا مقابلہ کر رہا ہے' ایران کی خارجہ حکمت عملی کامیابی سے جاری ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ روس اور چین ہی نہیں کے اتحادی برطانیہ' فرانس اور جرمنی بھی ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔
Load Next Story