بلامقابلہ کامیابی کے گزرے دور
روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق گزشتہ 9عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 30 امیدوار بلامقابلہ۔۔۔
ISLAMABAD:
روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق گزشتہ 9عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 30 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے مگر 1993 کے بعد سے کوئی بھی امیدوار بلامقابلہ منتخب نہیں ہوسکا۔ بلامقابلہ منتخب ہونے والے 30 امیدواروں میں 20 کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور 1977 کے متنازعہ انتخابات میں سب سے زیادہ بلامقابلہ منتخب ہونے والے 19 امیدواروں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا جس میں پی پی کے بانی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان بلامقابلہ منتخب ہونے والوں میں شامل تھے۔ بھٹو مرحوم نے یہ انتخابات اپنی حکومت میں کرائے تھے اور اپوزیشن جماعتوں کے 9رکنی پاکستان قومی اتحاد نے ان انتخابات کو مسترد کرکے ملک گیر تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کو مارشل لاء لگانے کا موقع ملا تھا جو طویل ترین مارشل لاء تھا۔
1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں 7 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے جن میں سابق وفاقی وزیر الٰہی بخش سومرو بھی شامل تھے جو میرے آبائی شہر شکارپور کے حلقہ این اے 154 سے منتخب قرار پائے تھے۔ وہ جب بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے اس کا میں چشم دید گواہ ہوں۔
1988کے جماعتی انتخابات میں محترمہ بے نظیربھٹو کو ان کے شہداد کوٹ کے حلقے سے بلامقابلہ کامیاب کرانے کی ایک کوشش کی گئی تھی ۔تاہم بلامقابلہ کامیابی اس صورت میں تو ممکن ہوسکتی ہے کہ کوئی امیدوار اس علاقے میں اتنا مقبول اور عوام میں ہردلعزیز نہ ہو اور کوئی بھی اس کے مقابلے میں انتخاب لڑنا نہ چاہتا ہو۔ 1977میں بلامقابلہ کامیاب ہونے والے پی پی کے 19میں سے 15 کا تعلق سندھ اور چار کا بلوچستان سے تھا۔ بلوچستان کی تو ایسی صورت حال ہوسکتی ہے کہ کوئی سردار اپنی قوم کے باعث اپنے علاقے سے منتخب ہوجائے مگر سندھ میں کبھی بھی ایسی صورت حال نہیں رہی۔
1970کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوسکے تھے کیونکہ جماعت اسلامی نے اپنے امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو ان کے مقابلے میں کھڑا کیا تھا جنھیں بھٹو نے واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔ 1977میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اور ان کے مقابلے میں مولانا جان محمد عباسی دوبارہ انتخاب لڑنا چاہتے تھے مگر منصوبے کے تحت پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے مولانا عباسی کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے قبل اغواء کروادیا اور انھیں شام کو کاغذات نامزدگی کی وصولی کا مقررہ وقت گزر جانے کے بعد رہا کیا گیا اور اس طرح ذوالفقار علی بھٹو بلامقابلہ منتخب قرار پائے تھے جس پر جماعت اسلامی نے بہت شور مچایا تھا مگر کچھ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔
1977میں سندھ بلوچستان میں باقی 18 امیدوار بھی جس طرح منتخب ہوئے ہوں گے وہ ہر کوئی جانتا تھا۔ جس متنازعہ قومی اسمبلی میں بھٹو سمیت 19امیدوار منتخب قرار پائے تھے وہ اسمبلی چند ماہ ہی چل سکی تھی۔
1988 میں راقم شکار پور میں ایک اخبار کا نامہ نگار تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو مگسی قوم کے سردار نادر علی مگسی کے علاقے سے قومی اسمبلی کی امیدوار تھیں جن کے مقابلے پر خود سردار نادرمگسی اور جمعیت علمائے اسلام کا امیدوار تھا ایک منصوبے کے تحت سردار نادر نے جے یو آئی کے امیدوار کو اپنے حق میں دستبردار کرانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ جے یو آئی کے امیدوار دستبردار ہوجائیں تو میں مضبوط امیدوار کی حیثیت سے محترمہ کا مقابلہ کروں گا۔ جے یو آئی نے سوچ کر فیصلہ کرنے کی مہلت مانگی تھی۔ سردار نادر مگسی کا منصوبہ تھا کہ اگر جے یو آئی کا امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہوجائے تو میں بعد میں محترمہ کے مقابلے سے دستبردار ہوجاؤں گا اس طرح محترمہ بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گی۔
وہاں موجود میرے ایک واقف کار نے رات کو واپس آکر یہ بتایا جس کی خبر میں نے اپنے اخبار کو لکھوائی جس کے شایع ہوتے ہی جے یو آئی کے امیدوار نے سردار مگسی کے حق میں دستبردار ہونے سے انکارکردیا اور بعد میں نادرمگسی محترمہ کے حق میں دستبردار ہوگئے اور محترمہ جے یو آئی کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر منتخب تو ہوگئیں مگر بلامقابلہ کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ سردار نادر مگسی نے اپنے اس منصوبے کا اعتراف شکار پور میں خود مجھ سے کیا تھا جو اگر کامیاب ہوجاتا تو محترمہ کو ملک بھر میں پی پی کی انتخابی مہم چلانے میں سہولت ہوجاتی مگر ایک خبر کی وجہ سے محترمہ کو بلامقابلہ کامیابی نہ مل سکی تھی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو کی بلامقابلہ کامیابی اس طرح ممکن ہوئی تھی کہ اس وقت حلقہ این اے 154کے ریٹرننگ آفیسر بھی سومرو تھے جن کو الٰہی بخش سومرو نے اپنے پاس گھر بلاکر بٹھالیا تھا جن کو اپنے دفتر میں مقررہ وقت تک موجود رہنا چاہیے تھا۔ میں نے اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دے دی۔ جہاں سے الٰہی بخش سومرو کو علم ہوگیا اور وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے آگئے اور ناراضگی کا سبب پوچھا اور یہ معاملہ اس طرح نمٹایا گیا کہ محمد شریف صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے کاغذات جمع کرانا چاہتے تھے۔
1985کے بعد الٰہی بخش سومرو نے اپنا شکار پور کا آبائی حلقہ ہی چھوڑ دیا اور جیکب آباد جاکر انتخاب لڑنے لگے اور اس بار بھی جیکب آباد سے ہی انتخاب لڑ رہے ہیں۔
1993کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی امیدوار بلامقابلہ منتخب نہیں ہوا۔ کیونکہ 1970 کے بعد سے ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں عوام میں سیاسی شعور بڑھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب عام انتخابات میں جہاں بڑے بڑے لوگ الیکشن لڑتے ہیں وہاں اب ان کے مقابلے میں متوسط طبقے کے لوگ بلکہ 11 مئی کے انتخابات میں تو معمولی حیثیت رکھنے والے لوگ بھی امیدوار بنے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پتہ ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے مگر وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ یہ بڑے لوگ آپس میں ملی بھگت کرکے حلقے نہ بانٹ لیں اور خود کو بلامقابلہ نہ منتخب کرالیں تاکہ انھیں عوام کے پاس ووٹ مانگنے نہ جانا پڑے اور اخراجات سے بھی بچ جائیں۔
روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق گزشتہ 9عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 30 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے مگر 1993 کے بعد سے کوئی بھی امیدوار بلامقابلہ منتخب نہیں ہوسکا۔ بلامقابلہ منتخب ہونے والے 30 امیدواروں میں 20 کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور 1977 کے متنازعہ انتخابات میں سب سے زیادہ بلامقابلہ منتخب ہونے والے 19 امیدواروں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا جس میں پی پی کے بانی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان بلامقابلہ منتخب ہونے والوں میں شامل تھے۔ بھٹو مرحوم نے یہ انتخابات اپنی حکومت میں کرائے تھے اور اپوزیشن جماعتوں کے 9رکنی پاکستان قومی اتحاد نے ان انتخابات کو مسترد کرکے ملک گیر تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کو مارشل لاء لگانے کا موقع ملا تھا جو طویل ترین مارشل لاء تھا۔
1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں 7 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے جن میں سابق وفاقی وزیر الٰہی بخش سومرو بھی شامل تھے جو میرے آبائی شہر شکارپور کے حلقہ این اے 154 سے منتخب قرار پائے تھے۔ وہ جب بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے اس کا میں چشم دید گواہ ہوں۔
1988کے جماعتی انتخابات میں محترمہ بے نظیربھٹو کو ان کے شہداد کوٹ کے حلقے سے بلامقابلہ کامیاب کرانے کی ایک کوشش کی گئی تھی ۔تاہم بلامقابلہ کامیابی اس صورت میں تو ممکن ہوسکتی ہے کہ کوئی امیدوار اس علاقے میں اتنا مقبول اور عوام میں ہردلعزیز نہ ہو اور کوئی بھی اس کے مقابلے میں انتخاب لڑنا نہ چاہتا ہو۔ 1977میں بلامقابلہ کامیاب ہونے والے پی پی کے 19میں سے 15 کا تعلق سندھ اور چار کا بلوچستان سے تھا۔ بلوچستان کی تو ایسی صورت حال ہوسکتی ہے کہ کوئی سردار اپنی قوم کے باعث اپنے علاقے سے منتخب ہوجائے مگر سندھ میں کبھی بھی ایسی صورت حال نہیں رہی۔
1970کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوسکے تھے کیونکہ جماعت اسلامی نے اپنے امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو ان کے مقابلے میں کھڑا کیا تھا جنھیں بھٹو نے واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔ 1977میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اور ان کے مقابلے میں مولانا جان محمد عباسی دوبارہ انتخاب لڑنا چاہتے تھے مگر منصوبے کے تحت پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے مولانا عباسی کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے قبل اغواء کروادیا اور انھیں شام کو کاغذات نامزدگی کی وصولی کا مقررہ وقت گزر جانے کے بعد رہا کیا گیا اور اس طرح ذوالفقار علی بھٹو بلامقابلہ منتخب قرار پائے تھے جس پر جماعت اسلامی نے بہت شور مچایا تھا مگر کچھ نہ ہونا تھا نہ ہوا۔
1977میں سندھ بلوچستان میں باقی 18 امیدوار بھی جس طرح منتخب ہوئے ہوں گے وہ ہر کوئی جانتا تھا۔ جس متنازعہ قومی اسمبلی میں بھٹو سمیت 19امیدوار منتخب قرار پائے تھے وہ اسمبلی چند ماہ ہی چل سکی تھی۔
1988 میں راقم شکار پور میں ایک اخبار کا نامہ نگار تھا اور محترمہ بے نظیر بھٹو مگسی قوم کے سردار نادر علی مگسی کے علاقے سے قومی اسمبلی کی امیدوار تھیں جن کے مقابلے پر خود سردار نادرمگسی اور جمعیت علمائے اسلام کا امیدوار تھا ایک منصوبے کے تحت سردار نادر نے جے یو آئی کے امیدوار کو اپنے حق میں دستبردار کرانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ جے یو آئی کے امیدوار دستبردار ہوجائیں تو میں مضبوط امیدوار کی حیثیت سے محترمہ کا مقابلہ کروں گا۔ جے یو آئی نے سوچ کر فیصلہ کرنے کی مہلت مانگی تھی۔ سردار نادر مگسی کا منصوبہ تھا کہ اگر جے یو آئی کا امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہوجائے تو میں بعد میں محترمہ کے مقابلے سے دستبردار ہوجاؤں گا اس طرح محترمہ بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گی۔
وہاں موجود میرے ایک واقف کار نے رات کو واپس آکر یہ بتایا جس کی خبر میں نے اپنے اخبار کو لکھوائی جس کے شایع ہوتے ہی جے یو آئی کے امیدوار نے سردار مگسی کے حق میں دستبردار ہونے سے انکارکردیا اور بعد میں نادرمگسی محترمہ کے حق میں دستبردار ہوگئے اور محترمہ جے یو آئی کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر منتخب تو ہوگئیں مگر بلامقابلہ کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ سردار نادر مگسی نے اپنے اس منصوبے کا اعتراف شکار پور میں خود مجھ سے کیا تھا جو اگر کامیاب ہوجاتا تو محترمہ کو ملک بھر میں پی پی کی انتخابی مہم چلانے میں سہولت ہوجاتی مگر ایک خبر کی وجہ سے محترمہ کو بلامقابلہ کامیابی نہ مل سکی تھی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو کی بلامقابلہ کامیابی اس طرح ممکن ہوئی تھی کہ اس وقت حلقہ این اے 154کے ریٹرننگ آفیسر بھی سومرو تھے جن کو الٰہی بخش سومرو نے اپنے پاس گھر بلاکر بٹھالیا تھا جن کو اپنے دفتر میں مقررہ وقت تک موجود رہنا چاہیے تھا۔ میں نے اس کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دے دی۔ جہاں سے الٰہی بخش سومرو کو علم ہوگیا اور وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے آگئے اور ناراضگی کا سبب پوچھا اور یہ معاملہ اس طرح نمٹایا گیا کہ محمد شریف صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے کاغذات جمع کرانا چاہتے تھے۔
1985کے بعد الٰہی بخش سومرو نے اپنا شکار پور کا آبائی حلقہ ہی چھوڑ دیا اور جیکب آباد جاکر انتخاب لڑنے لگے اور اس بار بھی جیکب آباد سے ہی انتخاب لڑ رہے ہیں۔
1993کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی امیدوار بلامقابلہ منتخب نہیں ہوا۔ کیونکہ 1970 کے بعد سے ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں عوام میں سیاسی شعور بڑھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب عام انتخابات میں جہاں بڑے بڑے لوگ الیکشن لڑتے ہیں وہاں اب ان کے مقابلے میں متوسط طبقے کے لوگ بلکہ 11 مئی کے انتخابات میں تو معمولی حیثیت رکھنے والے لوگ بھی امیدوار بنے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پتہ ہے کہ بڑوں کے مقابلے میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے مگر وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ یہ بڑے لوگ آپس میں ملی بھگت کرکے حلقے نہ بانٹ لیں اور خود کو بلامقابلہ نہ منتخب کرالیں تاکہ انھیں عوام کے پاس ووٹ مانگنے نہ جانا پڑے اور اخراجات سے بھی بچ جائیں۔