ہربل داواؤں کی مانیٹرنگ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے قانونی مسودہ مرتب کرلیا
شیمپو، ہیئرکلرز، چہرے پر لگانے والی کریموں اور سرجیکل آلات کیلیے قانونی مسودہ مرتب،بعض قوتیں رکاوٹ بھی بن رہی ہیں.
دنیامیں دوائیںسستی ہو رہی ہیں،پاکستان میں دوائوں کی قیمتوں میں اضافے کیلیے فارماکمپنیز نے درخواستیں جمع کرادیں، ذرائع۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک میں پہلی بارحیاتیاتی ادویات (بائیولوجیکل) جراثیم و وائرس سے تیارکی جانے والی ادویات، ہر بل ہومیو و یونانی ادویات کی مانیٹرنگ اور انھیں ضابطہ قانون میں لانے کیلیے قانونی مسودہ مرتب کر لیا ہے۔
جبکہ انسانی جسم پر استعمال کیے جانے والے شیمپو، بالوںکوکالا کرنے والے مختلف کیمیکل کلرز، چہرے پر لگانے والی مختلف کریمیں اور انسانی جسم پراستعمال کیے جانے والے مختلف سرجیکل آلات کوبھی ضابطہ قانون میں لانے کیلیے قانونی مسودہ بھی مرتب کیاگیا ہے تاہم بعض قوتیں اس قانون سازی میں رکاوٹ پیداکررہی ہیں، ذرائع کے مطابق ان ادویات کی رجسٹریشن اور قانونی مسودے کی منظوری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دے گی، ادارے کو ادویات اوران کی رجسٹریشن ولائسنسنگ اورقیمتوں کے تعین کیلیے شدید دباؤکاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈی آر اے نے انسانی جانوںکے تحفظ اور ان کے متوقع منفی اثرات سے انسانوں کو محفوظ بنانے کیلیے پہلی بار قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بیرون ممالک سے درآمدکی جانے والی ملٹی وٹامن، ملٹی وٹامن دودھ ، حیاتیاتی ادویات، جراثیم اور وائرس سے تیار کی جانے والی ادویات، ہربل ویونانی اور ہومیو ادویات کی رجسٹریشن کاعمل انتخابات کے فوراً بعد شروع کیاجائے گا، قانونی مسودے کی منظوری کیلیے انتخابات کے بعداجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں ملک میں تیارکی جانے والی ہربل ادویات کا جائزہ، قیمتوں کا تعین اوران کی مانیٹرنگ و تیاری سمیت دیگرمسائل زیربحث لائیں جائیں گے۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ملکی وغیر ملکی فارماکمپنیوں نے2 ہزار ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیلیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس اپنی درخواستیں جمع کرادی ہیں لیکن بعض افسران نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ادویات کی قیمتوں میںکمی کی جارہی ہے کیونکہ دنیا بھر میں ادویات میں استعمال کیاجانے والاخام مال سستا ہوگیا ہے لیکن پاکستان میں مقامی فارما انڈسٹریز نے قیمتوں میں اضافے کیلیے درخواستیں جمع کرادی ہیں جس پرنیشنل ریگولیشینز سروسزکی قائمہ کمیٹی کے سینٹرعبدالحسیب خاں نے شدید اختلاف کیا اورکہا کہ قیمتوں میں اضافے پریکساں پالیسی کا اعلان کیاجائے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعدکے مطابق صرف ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی ہو سکتی ہے جن کی قیمتیں 10 سال سے نہ بڑھی ہوں۔
جبکہ انسانی جسم پر استعمال کیے جانے والے شیمپو، بالوںکوکالا کرنے والے مختلف کیمیکل کلرز، چہرے پر لگانے والی مختلف کریمیں اور انسانی جسم پراستعمال کیے جانے والے مختلف سرجیکل آلات کوبھی ضابطہ قانون میں لانے کیلیے قانونی مسودہ بھی مرتب کیاگیا ہے تاہم بعض قوتیں اس قانون سازی میں رکاوٹ پیداکررہی ہیں، ذرائع کے مطابق ان ادویات کی رجسٹریشن اور قانونی مسودے کی منظوری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دے گی، ادارے کو ادویات اوران کی رجسٹریشن ولائسنسنگ اورقیمتوں کے تعین کیلیے شدید دباؤکاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈی آر اے نے انسانی جانوںکے تحفظ اور ان کے متوقع منفی اثرات سے انسانوں کو محفوظ بنانے کیلیے پہلی بار قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بیرون ممالک سے درآمدکی جانے والی ملٹی وٹامن، ملٹی وٹامن دودھ ، حیاتیاتی ادویات، جراثیم اور وائرس سے تیار کی جانے والی ادویات، ہربل ویونانی اور ہومیو ادویات کی رجسٹریشن کاعمل انتخابات کے فوراً بعد شروع کیاجائے گا، قانونی مسودے کی منظوری کیلیے انتخابات کے بعداجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں ملک میں تیارکی جانے والی ہربل ادویات کا جائزہ، قیمتوں کا تعین اوران کی مانیٹرنگ و تیاری سمیت دیگرمسائل زیربحث لائیں جائیں گے۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ملکی وغیر ملکی فارماکمپنیوں نے2 ہزار ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیلیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس اپنی درخواستیں جمع کرادی ہیں لیکن بعض افسران نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ادویات کی قیمتوں میںکمی کی جارہی ہے کیونکہ دنیا بھر میں ادویات میں استعمال کیاجانے والاخام مال سستا ہوگیا ہے لیکن پاکستان میں مقامی فارما انڈسٹریز نے قیمتوں میں اضافے کیلیے درخواستیں جمع کرادی ہیں جس پرنیشنل ریگولیشینز سروسزکی قائمہ کمیٹی کے سینٹرعبدالحسیب خاں نے شدید اختلاف کیا اورکہا کہ قیمتوں میں اضافے پریکساں پالیسی کا اعلان کیاجائے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعدکے مطابق صرف ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی ہو سکتی ہے جن کی قیمتیں 10 سال سے نہ بڑھی ہوں۔