دوائوں کی قیمتوں کے تعین کیلیے کوئی نظام موجود نہیںعبدالحسیب

فارماکمپنیاں بیوروکریسی سے مل کر دوائوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرالیتی ہیں

فارماکمپنیاں بیوروکریسی سے مل کر دوائوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرالیتی ہیں۔ فوٹو: فائل

DHAKA:
متحدہ قومی موومنٹ کے سینٹرعبدالحسیب خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتوںکے تعین کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا جاسکا۔

ڈرگ ریگولیٹری کے قیام کے باوجود عوام مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں، ملک میں تیار ہونے والی بیشتر ادویات کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کردیاگیا ہے جس سے غریب عوام معاشی ناہمواریوں کا شکار ہورہے ہیں۔


نیشنل ریگولیشن سروسزکمیٹی کے رکن سینیٹر عبدالحسیب خان نے اتوارکو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر ملک میں دوائوں کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار طے کرلیا جائے تو 75 فیصد دوائوں کی قیمتیں کم ہوسکتی ہے، بیوروکریسی عوام کو مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبورکررہی ہے یکساں پالیسی نہ ہونے سے فارماکمپنیاں متعلقہ حکام اور بیوروکریسی کی ملی بھگت سے دوائوں کی قیمتوں میں من مانہ اضافہ کرالیتی ہیں،بدقسمتی سے ملک میں آج تک دواوں کی قیمتوں، رجسٹریشن، لائسنسنگ اوردرآمدی پالیسی کیلیے کوئی جامع پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکی۔



2001 سے اب تک 2800 دوائوںکی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جوغیر متوازی اضافہ ہے، ملک میں دوائوں کی قیمتوں میں اضافے کا طریقہ کار وضع کر دیا جائے تو عوام کو سالانہ 40فیصد (چار ارب روپے ) ریلیف مل سکتا ہے، دوائوںکی مد میں عوام کو ریلیف دلانے کے منگل کو نیشنل ریگولیشن سروسز کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیاگیا لیکن بیوروکریسی اجلاس کو ملتوی کرانے کیلیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے اور اجلاس موخرکرانے کیلیے تین دن قبل سیکریٹری این آر ایس عنایت الٰہی کا تبادلہ کردیا گیا تاکہ قیمتوں میں کمی کا کوئی طریقہ کار متعین نہ ہوسکے،انھوں نے نگراں وزیراعظم سمیت دیگر متعلقہ حکام سے نوٹس لینے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Load Next Story