حمزہ کے قتل کا نوٹس لیا جائے چیف جسٹس سے اپیل
مقتول کے دوستوں کا خیابان راحت میں احتجاجی مارچ، شرکا نے شمعیں روشن کیں.
ڈیفنس میں قتل کیے جانیوالے حمزہ کی یاد میں نوجوان شمعیں روشن کیے احتجاج کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
MULTAN:
ڈیفنس میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے حمزہ کے دوستوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ حمزہ کے قتل کے خلاف از خود نوٹس لیں اور حمزہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق ڈیفنس میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 17سالہ حمزہ ولد طالب سہیل کے قتل کے خلاف خیابان راحت اسٹریٹ نمبر 6 پر حمزہ کے دوستوں کی جانب سے احتجاجی مارچ کیا گیاجس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اس موقع پر احتجاجی مارچ کے شر کا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر انصاف فراہم کرنے کے نعرے درج تھے۔
احتجاجی مارچ کے دوران حمزہ کے دوستوں نے چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے واقعے کے خلاف از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا حمزہ کے دوستوں نے اس بات کا عزم اظہار کیا کہ وہ حمزہ کے قتل کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور انھیں جہاں بھی جانا پڑا اور احتجاج کرنا پڑا تو ہو ضرور کریں گے، احتجاج مارچ کے دوران حمزہ کے تصویر اٹھائے ہوئے کچھ دوست افسردہ بھی دکھائی دیے، احتجاجی مارچ کے اختتام کے بعد شرکا نے مقتول کی تصویر کے سامنے شمعیں بھی شروع کیں، واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لڑکی کے تنازع پر تلخ کلامی کے بعد شعیب نامی نوجوان کے سیکیورٹی گارڈ عمل خان نے فائرنگ کر کے حمزہ کو قتل کردیا تھا جبکہ خود جائے وقوعہ سے فرارہوگیا۔
ڈیفنس میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے حمزہ کے دوستوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ حمزہ کے قتل کے خلاف از خود نوٹس لیں اور حمزہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق ڈیفنس میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 17سالہ حمزہ ولد طالب سہیل کے قتل کے خلاف خیابان راحت اسٹریٹ نمبر 6 پر حمزہ کے دوستوں کی جانب سے احتجاجی مارچ کیا گیاجس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اس موقع پر احتجاجی مارچ کے شر کا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر انصاف فراہم کرنے کے نعرے درج تھے۔
احتجاجی مارچ کے دوران حمزہ کے دوستوں نے چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے واقعے کے خلاف از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا حمزہ کے دوستوں نے اس بات کا عزم اظہار کیا کہ وہ حمزہ کے قتل کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور انھیں جہاں بھی جانا پڑا اور احتجاج کرنا پڑا تو ہو ضرور کریں گے، احتجاج مارچ کے دوران حمزہ کے تصویر اٹھائے ہوئے کچھ دوست افسردہ بھی دکھائی دیے، احتجاجی مارچ کے اختتام کے بعد شرکا نے مقتول کی تصویر کے سامنے شمعیں بھی شروع کیں، واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لڑکی کے تنازع پر تلخ کلامی کے بعد شعیب نامی نوجوان کے سیکیورٹی گارڈ عمل خان نے فائرنگ کر کے حمزہ کو قتل کردیا تھا جبکہ خود جائے وقوعہ سے فرارہوگیا۔