دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کوڈیزل کی فراہمی بند مختلف علاقوں میں پانی کا بحران
رقم کی عدم ادائیگی پرآئل کمپنی نے ڈیزل کی فراہمی بند کردی۔
معاملے کی نشاندہی کرنیوالے آفیسر سے ادارے کے اعلیٰ افسران کی باز پرس، فائل فوٹو
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے دھابیجی فرسٹ فیز پمپنگ اسٹیشن کو رقم کی عدم ادائیگی پر ڈیزل کی سپلائی بند ہوجانے کے بعد وہاں سے کراچی کو5کروڑ گیلن یومیہ پانی کی فراہمی بند ہوگئی ہے، اس سلسلے میں واٹربورڈ کے متعلقہ حکام شدید غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کے باعث کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے جبکہ اس معاملے کی نشاندہی کرنے والے آفیسر کی بھی سخت بازپرس کی گئی ہے۔
دوسری طرف کارساز پر واٹربورڈ کے دفاتر میں میں بجلی کی فراہمی کیلیے گذشتہ آٹھ ماہ میں کروڑوں روپے کا ڈیزل صرف بجلی کی فراہمی پر استعمال کیا جارہا ہے، تفصیلات کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر قیام پاکستان سے قبل سے قائم فرسٹ فیز پمپ ہاؤس کو ڈیزل سے چلایا جاتا ہے، اس پمپ ہاؤس سے یومیہ پانچ کروڑ گیلن پانی کراچی کو فراہم کیا جاتا ہے تاہم رقم کی عدم ادائیگی پر آئل کمپنی نے ڈیزل کی فراہمی بند کردی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس آئل کمپنی نے متعدد مرتبہ واٹربورڈ کی فنانس ڈپارٹمنٹ کو مطلع کیا تھا کہ اگر رقم کی بروقت ادائیگی کو ممکن نہیں بنایا گیا تو ڈیزل کی فراہمی بند کردیں گے تاہم فنانس ڈپارٹمنٹ نے اس کمپنی کی بات کو خاطر میں نہیں لایا آئل کمپنی کی طرف سے سپلائی بند کرنے کے بعد جمعرات سے فرسٹ فیز پمپنگ اسٹیشن بند پڑا ہوا ہے اور کراچی کے شہریوں کو پانچ کروڑ گیلن پانی کم مل رہا ہے جس کے واضح اثرات شہر میں محسوس بھی کیے جارہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال کے بارے میں چیف انجینئر بلک افتخار نے رکن اسمبلی اور واٹربورڈ کے خصوصی نمائندے کو اطلاع دی جنھوں نے ادارے کے ایم ڈی اور ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز پلیجو سے سخت باز پرس کی جس پر ان دونوں افسران نے چیف انجینئر بلک افتخار کو ڈانٹا کہ انھوں نے ایم پی اے کو اس صورتحال سے کیوں آگاہ کیا، ذرائع نے بتایا کہ ان دونوں افسران نے چیف انجینئر پر پابندی بھی عائد کردی ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی معاملے میں ان سے پہلے کسی بھی رکن سندھ اسمبلی کو کچھ نہ بتائیں بصورت دیگر ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایاکہ اس واقعے کو چار روز ہونے کے باوجود فرسٹ فیز پمپنگ اسٹیشن کو ڈیزل فراہم نہیں کیا گیا بلکہ صرف تین ہزار لیٹر ڈیزل خرید کر وہاں پہنچادیا گیا جہاں سے صرف دن میں30منٹ پانی سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ذرائع نے بتایا کہ واٹر بورڈ کے کارساز آفس جہاں پر ایم ڈی سمیت تمام اعلیٰ افسران بیٹھتے ہیں وہاں پر واجبات کی عدم ادائیگی پر آٹھ ماہ سے بجلی منقطع ہے جس کے بعد ایک لاکھ روپے یومیہ کے ڈیزل سے دفاتر کو بجلی فراہم کی جارہی ہے اور اس مد میں کئی کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں مگر کیوں اس کام میں کمیشن ہوتا ہے جس کے باعث بجلی کا بل اداکرکے بجلی بحال کرنے پر توجہ دینے کے بجائے ڈیزل خرید کر بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔
دوسری طرف کارساز پر واٹربورڈ کے دفاتر میں میں بجلی کی فراہمی کیلیے گذشتہ آٹھ ماہ میں کروڑوں روپے کا ڈیزل صرف بجلی کی فراہمی پر استعمال کیا جارہا ہے، تفصیلات کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر قیام پاکستان سے قبل سے قائم فرسٹ فیز پمپ ہاؤس کو ڈیزل سے چلایا جاتا ہے، اس پمپ ہاؤس سے یومیہ پانچ کروڑ گیلن پانی کراچی کو فراہم کیا جاتا ہے تاہم رقم کی عدم ادائیگی پر آئل کمپنی نے ڈیزل کی فراہمی بند کردی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس آئل کمپنی نے متعدد مرتبہ واٹربورڈ کی فنانس ڈپارٹمنٹ کو مطلع کیا تھا کہ اگر رقم کی بروقت ادائیگی کو ممکن نہیں بنایا گیا تو ڈیزل کی فراہمی بند کردیں گے تاہم فنانس ڈپارٹمنٹ نے اس کمپنی کی بات کو خاطر میں نہیں لایا آئل کمپنی کی طرف سے سپلائی بند کرنے کے بعد جمعرات سے فرسٹ فیز پمپنگ اسٹیشن بند پڑا ہوا ہے اور کراچی کے شہریوں کو پانچ کروڑ گیلن پانی کم مل رہا ہے جس کے واضح اثرات شہر میں محسوس بھی کیے جارہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال کے بارے میں چیف انجینئر بلک افتخار نے رکن اسمبلی اور واٹربورڈ کے خصوصی نمائندے کو اطلاع دی جنھوں نے ادارے کے ایم ڈی اور ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز پلیجو سے سخت باز پرس کی جس پر ان دونوں افسران نے چیف انجینئر بلک افتخار کو ڈانٹا کہ انھوں نے ایم پی اے کو اس صورتحال سے کیوں آگاہ کیا، ذرائع نے بتایا کہ ان دونوں افسران نے چیف انجینئر پر پابندی بھی عائد کردی ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی معاملے میں ان سے پہلے کسی بھی رکن سندھ اسمبلی کو کچھ نہ بتائیں بصورت دیگر ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایاکہ اس واقعے کو چار روز ہونے کے باوجود فرسٹ فیز پمپنگ اسٹیشن کو ڈیزل فراہم نہیں کیا گیا بلکہ صرف تین ہزار لیٹر ڈیزل خرید کر وہاں پہنچادیا گیا جہاں سے صرف دن میں30منٹ پانی سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ذرائع نے بتایا کہ واٹر بورڈ کے کارساز آفس جہاں پر ایم ڈی سمیت تمام اعلیٰ افسران بیٹھتے ہیں وہاں پر واجبات کی عدم ادائیگی پر آٹھ ماہ سے بجلی منقطع ہے جس کے بعد ایک لاکھ روپے یومیہ کے ڈیزل سے دفاتر کو بجلی فراہم کی جارہی ہے اور اس مد میں کئی کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں مگر کیوں اس کام میں کمیشن ہوتا ہے جس کے باعث بجلی کا بل اداکرکے بجلی بحال کرنے پر توجہ دینے کے بجائے ڈیزل خرید کر بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔