کراچی حساس علاقوں میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
فوجی دستے گشت بھی کرینگے، اہم اجلاس میں فیصلے، کسی کو بھی الیکشن ملتوی نہیں کرنے دینگے، ملک حبیب، کراچی میں گفتگو.
کراچی: عزیز آباد میں بم دھماکوں کے بعد متحدہ کی اپیل پر اتوار کو یوم سوگ کے موقع پر شہر کی مصروف شاہراہ سنسان پڑی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے کہاہے کہ کسی کو بھی امن و امان کو جواز بناکر الیکشن ملتوی نہیں کرنے دیں گے ،کراچی میں پرامن انتخابات کے لیے تما م تر وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔
دہشت گرد انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں یہاں کوئی مہاجر نہیں ہے، ایم کیو ایم کے حوصلے بلند ہیں اور یہ الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے، ایم کیو ایم کی قیادت سے ملنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ وہ جوش و جذبے سے کام کریں گے،امن و امان سے متعلق آج(پیر) کواعلی سطح کا اجلاس ہوگا۔ یہ باتیں انھوں نے اتوارکو مقامی ہوٹل میںکراچی میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب، میڈیا سے گفتگو اور ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے دورے کے موقع پر کیں۔ اجلاس میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پولیس اور رینجرزکی جانب سے کراچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے حوالے سے الگ الگ رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ الیکشن کے حوالے سے طے شدہ اور متبادل سیکیورٹی پلان پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ پرامن الیکشن کے انعقاد کے لیے کراچی کے حساس ترین علاقوں میں بھی فوج تعینات کی جائے گی اور فوجی دستے بھی گشت بھی کر یں گے۔اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر کسی حساس پولنگ پر امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو حالات کنڑول کرنے کے لیے وہاں فوج تعینات کی جائے گی تاہم اس کا حتمی فیصلہ سندھ حکومت سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے کرے گی ۔دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے گورنر ہائوس میں ملاقات کی ۔اس ملاقات میں کراچی میں پرامن الیکشن کے انعقاد اور امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قبل ازیں اتوار کو اسلام آباد سے کراچی پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ملک حبیب نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لیے پولیس اور رینجرز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عوام دہشت گردوں کے عزائم ناکام بناتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیں۔ دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے اتوار کی شام ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا ہنگامی دورہ کیا اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کرکے عزیز آباد میں بم دھماکوں میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے بم دھماکوں کی جگہ کا دورہ بھی کیا اورمتحدہ کے ہمدردوں و کارکنوں کے لواحقین سے ملاقات میں دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور شہدا کی مغفرت کیلیے دعائیں کیں۔ نائن زیرو پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک حبیب نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور بن چکی ہے جسے ختم کرنا نگراں حکومت کی اولین ذمے داری ہے۔
ملک حبیب کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا رویہ قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، گذشتہ شب الطاف حسین سے تفصیلی گفتگو کرکے مجھے خوشی ہوئی کیونکہ انھوں نے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حوصلہ افزا باتیں کیں۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ووٹر خوفزدہ ہوکر گھروں سے ہی نہ نکلیں، ایسا ہوا تو سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی حکومت جمہوری ہوگی؟ یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا۔ آج اگر ان دہشتگردوں کو نہ روکا گیا تو وہ کل نائن زیرو اور خورشید بیگم سیکریٹریٹ تک بھی آسکتے ہیں ۔ فاروق ستار نے کہا کہ دہشت گردوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کررکھی ہے، کل کا بم حملہ نائن زیرو پر حملے کے مترادف ہے۔ انھوں نے حق پرست عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کی پروا کیے بغیر 11مئی کو گھروں سے نکلیں اور ووٹ کا حق استعمال کریں۔
دہشت گرد انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں یہاں کوئی مہاجر نہیں ہے، ایم کیو ایم کے حوصلے بلند ہیں اور یہ الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے، ایم کیو ایم کی قیادت سے ملنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ وہ جوش و جذبے سے کام کریں گے،امن و امان سے متعلق آج(پیر) کواعلی سطح کا اجلاس ہوگا۔ یہ باتیں انھوں نے اتوارکو مقامی ہوٹل میںکراچی میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب، میڈیا سے گفتگو اور ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے دورے کے موقع پر کیں۔ اجلاس میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پولیس اور رینجرزکی جانب سے کراچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے حوالے سے الگ الگ رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ الیکشن کے حوالے سے طے شدہ اور متبادل سیکیورٹی پلان پر بھی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ پرامن الیکشن کے انعقاد کے لیے کراچی کے حساس ترین علاقوں میں بھی فوج تعینات کی جائے گی اور فوجی دستے بھی گشت بھی کر یں گے۔اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر کسی حساس پولنگ پر امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو حالات کنڑول کرنے کے لیے وہاں فوج تعینات کی جائے گی تاہم اس کا حتمی فیصلہ سندھ حکومت سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے کرے گی ۔دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے گورنر ہائوس میں ملاقات کی ۔اس ملاقات میں کراچی میں پرامن الیکشن کے انعقاد اور امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قبل ازیں اتوار کو اسلام آباد سے کراچی پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ملک حبیب نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لیے پولیس اور رینجرز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عوام دہشت گردوں کے عزائم ناکام بناتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیں۔ دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب نے اتوار کی شام ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا ہنگامی دورہ کیا اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کرکے عزیز آباد میں بم دھماکوں میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے بم دھماکوں کی جگہ کا دورہ بھی کیا اورمتحدہ کے ہمدردوں و کارکنوں کے لواحقین سے ملاقات میں دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور شہدا کی مغفرت کیلیے دعائیں کیں۔ نائن زیرو پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک حبیب نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور بن چکی ہے جسے ختم کرنا نگراں حکومت کی اولین ذمے داری ہے۔
ملک حبیب کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا رویہ قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، گذشتہ شب الطاف حسین سے تفصیلی گفتگو کرکے مجھے خوشی ہوئی کیونکہ انھوں نے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حوصلہ افزا باتیں کیں۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ووٹر خوفزدہ ہوکر گھروں سے ہی نہ نکلیں، ایسا ہوا تو سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی حکومت جمہوری ہوگی؟ یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا۔ آج اگر ان دہشتگردوں کو نہ روکا گیا تو وہ کل نائن زیرو اور خورشید بیگم سیکریٹریٹ تک بھی آسکتے ہیں ۔ فاروق ستار نے کہا کہ دہشت گردوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کررکھی ہے، کل کا بم حملہ نائن زیرو پر حملے کے مترادف ہے۔ انھوں نے حق پرست عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کی پروا کیے بغیر 11مئی کو گھروں سے نکلیں اور ووٹ کا حق استعمال کریں۔