پاکستانی مصنوعی سیاروں کی خلا میں کامیاب روانگی
خلائی تحقیق کے سلسلہ میں پاکستانی سائنسدانوں کی یہ پیش رفت لائق تحسین ہے۔
خلائی تحقیق کے سلسلہ میں پاکستانی سائنسدانوں کی یہ پیش رفت لائق تحسین ہے۔ فوٹو:ژنگ وا
پاکستان نے ملکی سطح پر تیار کردہ 2 مصنوعی سیارے چین کے خلائی راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیج دیے ہیں۔ یہ سیارے چین کے شمال مشرق میں واقع سیچوان سیٹلائٹ 'لانگ مارچ ایل ایم سی' کے ذریعے پیر کو دن11 بج کر 56 منٹ پر روانہ کیے گئے۔ ان میں سے ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 'PRSS 1' ہے جو زمینی تجزیے اور دوربینی سیٹلائٹ پرمبنی ہے۔
خلائی تحقیق کے سلسلہ میں پاکستانی سائنسدانوں کی یہ پیش رفت لائق تحسین ہے جس سے ملکی معیشت، زراعت، قدرتی وسائل، آفات ، شہری تعمیرات اور سی پیک کے فنی معاملات کے لیے زبردست معاونت مل سکے گی۔ اس سیٹلائٹ کے بھجوائے جانے کے بعد پاکستان مدار میں اپنا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ رکھنے والے چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ پی آر ایس ایس ون زمین اور قدرتی وسائل کے جائزے، قدرتی آفات کی نگرانی، زراعت، تحقیق، شہری تعمیرات اور ایک پٹی اور شاہراہ کے لیے ریموٹ سینسنگ معلومات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
پی آر ایس ایس ون سیٹلائٹ کا وزن1200 کلو گرام ہے اور یہ 640 کلومیٹرکی اونچائی پر کام کرے گا۔ دوسرا سیارہ 'پاک ٹیس ون اے' ہے جسے اسپارکو نے تیار کیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کا وزن 285 کلوگرام ہے اور یہ 610 کلومیٹر اونچائی پر کام کرے گا۔ اس سے ملک میں سیٹلائٹ کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل اگست2011 میں چین نے پاکستان کا مواصلاتی مصنوعی سیارچہ 'پاک سیٹ ون آر' زمین کے گرد مدار میں بھیجا تھا۔
دفترِخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بڑی کامیابی کے ساتھ 2 سیٹلائٹ لانچ کردیے ہیں جن میں 'جی پی ایس' اور 'جی آئی ایس' کی سہولتیں ہیں، دونوں سیٹلائٹ مکمل طور پر پاکستان میں ہی تیار کیے گئے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ کی تیاری سے پاکستان کا کمرشل انحصار انتہائی کم ہوجائے گا اور ان سیٹلائٹ کی لانچنگ سے ڈیٹا کلیکشن، پلاننگ اور ریسورس مینجمنٹ بہتر ہوگی۔ 'PRSS 1' آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پاکستان نے چین سے حاصل کیا ہے اور اسے چائنہ اکیڈمی آف سپیس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین اور نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے اس تاریخی کامیابی پر اسپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرزکو مبارکباد دی ہے۔ نگراں وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سپیس ٹیکنالوجی میں مزید جدت کے لیے اسپارکو کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی۔
چین میں پاکستان کے سفیر خالد مسعود نے سیارے بھجوائے جانے پر قوم کو مبارکباد دی ہے اور اسے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔امید کی جانی چاہائے کہ خلائی تحقیق کے شعبہ مین پاکستان اپنے پیش قدمی کی رفتار مزید تیز کرے گا اور دیگر ملکوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے پاکستانی سائنس دان اپنی تحقیق سے دنیا میں نام پیدا کریں گے۔
خلائی تحقیق کے سلسلہ میں پاکستانی سائنسدانوں کی یہ پیش رفت لائق تحسین ہے جس سے ملکی معیشت، زراعت، قدرتی وسائل، آفات ، شہری تعمیرات اور سی پیک کے فنی معاملات کے لیے زبردست معاونت مل سکے گی۔ اس سیٹلائٹ کے بھجوائے جانے کے بعد پاکستان مدار میں اپنا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ رکھنے والے چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ پی آر ایس ایس ون زمین اور قدرتی وسائل کے جائزے، قدرتی آفات کی نگرانی، زراعت، تحقیق، شہری تعمیرات اور ایک پٹی اور شاہراہ کے لیے ریموٹ سینسنگ معلومات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
پی آر ایس ایس ون سیٹلائٹ کا وزن1200 کلو گرام ہے اور یہ 640 کلومیٹرکی اونچائی پر کام کرے گا۔ دوسرا سیارہ 'پاک ٹیس ون اے' ہے جسے اسپارکو نے تیار کیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کا وزن 285 کلوگرام ہے اور یہ 610 کلومیٹر اونچائی پر کام کرے گا۔ اس سے ملک میں سیٹلائٹ کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل اگست2011 میں چین نے پاکستان کا مواصلاتی مصنوعی سیارچہ 'پاک سیٹ ون آر' زمین کے گرد مدار میں بھیجا تھا۔
دفترِخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بڑی کامیابی کے ساتھ 2 سیٹلائٹ لانچ کردیے ہیں جن میں 'جی پی ایس' اور 'جی آئی ایس' کی سہولتیں ہیں، دونوں سیٹلائٹ مکمل طور پر پاکستان میں ہی تیار کیے گئے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ کی تیاری سے پاکستان کا کمرشل انحصار انتہائی کم ہوجائے گا اور ان سیٹلائٹ کی لانچنگ سے ڈیٹا کلیکشن، پلاننگ اور ریسورس مینجمنٹ بہتر ہوگی۔ 'PRSS 1' آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پاکستان نے چین سے حاصل کیا ہے اور اسے چائنہ اکیڈمی آف سپیس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین اور نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے اس تاریخی کامیابی پر اسپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرزکو مبارکباد دی ہے۔ نگراں وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سپیس ٹیکنالوجی میں مزید جدت کے لیے اسپارکو کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی۔
چین میں پاکستان کے سفیر خالد مسعود نے سیارے بھجوائے جانے پر قوم کو مبارکباد دی ہے اور اسے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔امید کی جانی چاہائے کہ خلائی تحقیق کے شعبہ مین پاکستان اپنے پیش قدمی کی رفتار مزید تیز کرے گا اور دیگر ملکوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے پاکستانی سائنس دان اپنی تحقیق سے دنیا میں نام پیدا کریں گے۔