پشاور میں دہشت گردی

پشاور میں دہشتگردی کے واقعے سے امیدواروں کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

پشاور میں دہشتگردی کے واقعے سے امیدواروں کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہوگئے، دھماکے میں 53 افراد زخمی ہوئے جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ پشاور میں دہشتگردی کے واقعے سے امیدواروں کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں ، میڈیا کے مطابق حلقہ پی کے 78 میں انتخابات تا حکم ثانی ملتوی کردیے گئے ہیں جب کہ تحریک انصاف نے سانحے پر ایک دن کے لیے اپنی انتخابی مہم روک دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق امیدواروں کی سیکیورٹی سے متعلق 25 جون کو منعقدہ اجلاس میں تمام چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کو ضروری سیکیورٹی کے لیے ہدایات جاری کی جا چکی تھیں، ادھر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے کہا ہے کہ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوگی، انھوں نے کہا کہ خود کش حملہ سیکیورٹی اداروں کی کمزوری اور الیکشن ملتوی کرانے کی سازش ہے، ان کا یہی کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو امیدواروں کی فول پروف سیکیورٹی کے پیشگی احکامات دیے گئے تھے۔

قبل ازیں نگراں وزیر داخلہ اعظم خان اور دیگر حکام کی جانب سے الیکشن کے موقع پر دہشتگردی کے خدشات کا بھی میڈیا میں ذکر ہوا تھا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سمیت الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ہمہ جہت سیکیورٹی پر مکمل عملدرآمد میں کہیں لغزش ہوئی ہے اور ابھی تک خود کش بمباروں کی نقل وحمل اور اہداف تک رسائی کا راستہ روکنے اور انھیں حملے سے پہلے دبوچنے کا کوئی شفاف اور آہنی میکنزم وضع نہیں کیا گیا ۔

علاوہ ازیں عام انتخابات2018 میں دہشتگردی کے خطرات سے دوچار متعدد سیاستدانوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا اور ایجنسیوں کی طرف سے ان سیاستدانوں کے نام بھی جاری کیے گئے تھے مگر ان میں ہارون بشیر بلور کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ شاید اسی باعث سیکیورٹی حکام ہارون بلور کی ریلی پر ہونے والی پر تشدد واردات کا درست ادراک کرنے میں دھوکا کھا گئے اور 10کلو بارودی مواد اٹھائے ہوئے خود کش بمبار نے ریلی کے قریب موقع ملتے ہی ایک قیمتی جان لے لی اور متعدد افراد دھماکے میں زخمی ہوگئے ۔


پشاور دھماکے میں شہید ہونے والے ہارون بشیر بلور نے چند روز قبل حالات کے بہتر اور مختلف ہونے اور آزادی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ یہ بہر حال انتہائی دردانگیز حقیقت ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورک نے بلور خاندان کو عرصہ سے ٹارگٹ پر رکھا ہوا تھا اور ماضی میں ہارون بلور کے والد بشیر احمد بلور بھی دہشتگردوں کی سفاکی کا نشانہ بنے تھے، دہشت گردوں نے اے این پی کے سابق وزیراطلاعات افتخار حسین کے بیٹے کو بھی خود کش حملہ میں شہید کیا تھا، مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر بھی حملہ ہوا تھا جب کہ فاٹا میں ہونے والی دہشتگردی کی ہلاکت خیز تاریخ کا یہ سبق نوشتہ دیوار ہونا چاہیے تھا کہ دہشتگردوں کی طرف سے خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔

پولیس ذرایع کے مطابق دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں ہوا جس کے دوران اے این پی رہنما بشیر بلور مرحوم کے بیٹے اور اے این پی کے پی کے 78 کے امیدوار ہارون بلور سمیت متعدد افراد ٹارگٹ کیے گئے ۔ ایڈیشنل آئی جی بم ڈسپوزل اسکواڈ شفقت ملک نے کہا کہ ہارون بلور کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا، عینی شاہدین کے مطابق ہارون بلور تقریب کے مہمان خصوصی تھے ، وہ جلسہ کے مقام سے کافی فاصلے پر گاڑی سے اتر کر اپنے کارکنوں کے ہمراہ جلوس کی شکل میں آرہے تھے اس موقع پر آتش بازی کی جارہی تھی کہ اسی دوران قریبی گلی سے ایک خود کش حملہ آور نے آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

نگران وزیراعظم ناصرالملک، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سابق وزیراعظم نواز شریف، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ، سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، پی ایس پی کے مصطفٰی کمال جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں نے پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج کا اظہار کیاہے۔

انھوں نے کہا نہتے انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے کسی طور انسان کہلانے کے مستحق نہیں، نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے یکہ توت بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت اور شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی، پشاور دھماکے میں شہید ہونے والے ہارون بشیر بلور نے چند روز قبل اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے اس سوال پر کہ 2013کی نسبت حالیہ انتخابات میں وہ یا پھر پارٹی خودکش حملوں کے خدشات اور خوف میں مبتلا ہے کہ نہیں، جس پر ہارون بلور نے جواب دیا تھا کہ امسال حالات بالکل مختلف ہیں اور وہ آزادی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس واقعہ پر اپنے گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اب ضرورت ہے کہ دہشتگردی کے عفریت کا سر الیکشن سے قبل کچلا جائے تاکہ شفاف الیکشن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
Load Next Story