تھائی لینڈ غار میں پھنسے فٹ بالر بچوں کی بحفاظت واپسی
بچوں کو غار سے نکالنے کا عمل کافی طویل اور جس کے لیے غوطہ خوروں کو پانچ گھنٹے غار کے اندر سفر کرنا پڑا۔
بچوں کو غار سے نکالنے کا عمل کافی طویل اور جس کے لیے غوطہ خوروں کو پانچ گھنٹے غار کے اندر سفر کرنا پڑا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
تھائی لینڈ کی غار میں گزشتہ دو ہفتوں سے پھنسے بچوں کی فٹبال ٹیم کے بارہ کھلاڑیوں اور کوچ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ اس مشکل اور طویل ترین ریسکیو آپریشن کی کامیابی پر جہاں ان ننھے کھلاڑیوں اور کوچ کو نئی زندگی ملی، وہیں دنیا بھر سے اس پر مبارکباد کا سلسلہ بھی جاری ہے، واضح رہے کہ اٹھارہ روز قبل تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ رائی کے علاقے میں بچوں کی فٹبال ٹیم جن کی عمریں 11 سے 16 سال ہے، اپنے کوچ کے ساتھ غاروں کی سیر کے لیے گئے اور شدید بارشوں کے باعث وہیں پھنس گئے تھے۔
دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہر غوطہ خوروں نے نہایت جانفشانی سے اتوار اور پیر کو چار چار بچوں کو غار سے نکال کر اسپتال منتقل کیا تھا جب کہ منگل کو آخری چار بچے اور ان کے کوچ کو بھی بحفاظت باہر نکالنے میں کامیابی ہوگئے۔ بلاشبہ بچوں کی بحفاظت واپسی میں ریسکیو اہلکاروں کی انتھک محنت اور خلوص نے مہمیز کا کردار ادا کیا۔
بچوں کو غار سے نکالنے کا عمل کافی طویل اور جس کے لیے غوطہ خوروں کو پانچ گھنٹے غار کے اندر سفر کرنا پڑا جب کہیں جاکر وہ اس مقام پر پہنچے جہاں بچے موجود تھے، اور انھیں ایک ایک کرکے واپس لایا گیا۔ حادثات اور ناگہانی واقعات کبھی بھی کہیں بھی رونما ہوسکتے ہیں، دنیا بھر کے ممالک میں اپنے عوام کی حفاظت اور ریسکیو کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے، اور اس کے لیے باقاعدہ الگ محکمہ ترتیب دیا جاتا ہے، ریسکیو ٹیموں کی بطور خاص تربیت کی جاتی ہے۔
لوگوں کو چلی میں پھنسنے والے کان کنوں کا واقعہ بھی یاد ہوگا جنھیں دو ہفتے کی محنت اور زمین کی کھدائی کے بعد زندہ ریسکیو کرلیا گیا تھا، اسی طرح دنیا کے دیگر حصوں میں کان دھنس جانے یا سیلاب اور دیگر ناگہانی آفات میں ریسکیو کا عملہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے انسانی جانوں کی حفاظت کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی ریسکیو کا ادارہ قائم ہے، لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ناکافی تربیت اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ریسکیو اہلکار عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے جب کہ جانفشانی اور مدد کا عنصر ان ریسکیو اہلکاروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ نتیجتاً ملک میں ہونے والے اندوہناک حادثات میں اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ صائب ہوگا کہ پاکستان میں بھی ریسکیو ادارے کو مزید فعال، اہلکاروں کی تربیت اور سہولیات کی فراہمی پر دھیان دیا جائے۔
دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہر غوطہ خوروں نے نہایت جانفشانی سے اتوار اور پیر کو چار چار بچوں کو غار سے نکال کر اسپتال منتقل کیا تھا جب کہ منگل کو آخری چار بچے اور ان کے کوچ کو بھی بحفاظت باہر نکالنے میں کامیابی ہوگئے۔ بلاشبہ بچوں کی بحفاظت واپسی میں ریسکیو اہلکاروں کی انتھک محنت اور خلوص نے مہمیز کا کردار ادا کیا۔
بچوں کو غار سے نکالنے کا عمل کافی طویل اور جس کے لیے غوطہ خوروں کو پانچ گھنٹے غار کے اندر سفر کرنا پڑا جب کہیں جاکر وہ اس مقام پر پہنچے جہاں بچے موجود تھے، اور انھیں ایک ایک کرکے واپس لایا گیا۔ حادثات اور ناگہانی واقعات کبھی بھی کہیں بھی رونما ہوسکتے ہیں، دنیا بھر کے ممالک میں اپنے عوام کی حفاظت اور ریسکیو کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے، اور اس کے لیے باقاعدہ الگ محکمہ ترتیب دیا جاتا ہے، ریسکیو ٹیموں کی بطور خاص تربیت کی جاتی ہے۔
لوگوں کو چلی میں پھنسنے والے کان کنوں کا واقعہ بھی یاد ہوگا جنھیں دو ہفتے کی محنت اور زمین کی کھدائی کے بعد زندہ ریسکیو کرلیا گیا تھا، اسی طرح دنیا کے دیگر حصوں میں کان دھنس جانے یا سیلاب اور دیگر ناگہانی آفات میں ریسکیو کا عملہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے انسانی جانوں کی حفاظت کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی ریسکیو کا ادارہ قائم ہے، لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ناکافی تربیت اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ریسکیو اہلکار عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے جب کہ جانفشانی اور مدد کا عنصر ان ریسکیو اہلکاروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ نتیجتاً ملک میں ہونے والے اندوہناک حادثات میں اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ صائب ہوگا کہ پاکستان میں بھی ریسکیو ادارے کو مزید فعال، اہلکاروں کی تربیت اور سہولیات کی فراہمی پر دھیان دیا جائے۔