اسٹیل میلٹرزوری رولرز کیلیے بجلی پرسیلزٹیکس بڑھانے کی تجویز
8روپے یونٹ سیلز ٹیکس لگانے،تعمیراتی مٹیریل پران پٹ ایڈجسٹمنٹ واپس لینے کاامکان.
ایف بی آرنے پیک کھانوں پربھی مروجہ شرح سے سیلزٹیکس لگانے کی سفارش کردی،دستاویز فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 8 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز دیدی ہے۔
جبکہ عمارتوں کے تعمیراتی مٹیریل ودیگر اشیا پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میں غیربرآمدی شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی اور پیک شدہ کھانے پینے کی اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرکے مروجہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے تاہم سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے تحت غیر پراسیس شدہ اور پیکنگ کے بغیر کھانے پینے کی اشیا کے لیے سیلز ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی جائے گی، آئندہ بجٹ میں مذکورہ تجویز کی منظوری کی صورت میں 6ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
دستاویز میں بتایا گیاکہ اصول کے مطابق ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت صرف ان اشیا کی سپلائی پر دی جاتی ہے جو براہ راست قابل ٹیکس اشیا کی تیاری میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہیں، تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلق دیگر اشیا غیرمنقولہ جائیداد کی تعمیرات میں استعمال ہوتی ہیں جن پر سیلز ٹیکس عائد نہیں ہے، سال2004 سے تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلق اشیا کی سپلائی پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دی گئی اور اس سہولت کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے جس کے نتیجے میں ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہورہا ہے۔ دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلقہ اشیا کی سپلائی پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت واپس لی جائے ، اس سے 6 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
دستاویز کے مطابق سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میں اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 8 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق سال2007 میں اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4.75 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی جسے سال 2008 میں نظر ثانی کرکے بڑھا کر 6روپے فی یونٹ کردیا گیا تھا اور 2 جون 2012 کو اسے دوبارہ نظرثانی سے 8روپے فی یونٹ کردیا گیا لیکن اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کی مخالفت کے باعث ایک ماہ بعد یکم جولائی 2012 کوسیلز ٹیکس کی شرح کم کرکے 7روپے فی یونٹ کردی گئی اور احتجاج پر 24 دسمبر 2012 کو اسٹیل میلٹرز و ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح مزید کم کرکے 4روپے فی یونٹ کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے تجویز دی ہے کہ اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 8 روپے فی یونٹ کی جائے۔
جبکہ عمارتوں کے تعمیراتی مٹیریل ودیگر اشیا پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میں غیربرآمدی شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی اور پیک شدہ کھانے پینے کی اشیا پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرکے مروجہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے تاہم سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے تحت غیر پراسیس شدہ اور پیکنگ کے بغیر کھانے پینے کی اشیا کے لیے سیلز ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی جائے گی، آئندہ بجٹ میں مذکورہ تجویز کی منظوری کی صورت میں 6ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
دستاویز میں بتایا گیاکہ اصول کے مطابق ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت صرف ان اشیا کی سپلائی پر دی جاتی ہے جو براہ راست قابل ٹیکس اشیا کی تیاری میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہیں، تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلق دیگر اشیا غیرمنقولہ جائیداد کی تعمیرات میں استعمال ہوتی ہیں جن پر سیلز ٹیکس عائد نہیں ہے، سال2004 سے تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلق اشیا کی سپلائی پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دی گئی اور اس سہولت کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے جس کے نتیجے میں ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہورہا ہے۔ دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں تعمیراتی مٹیریل اور اس سے متعلقہ اشیا کی سپلائی پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت واپس لی جائے ، اس سے 6 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔
دستاویز کے مطابق سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میں اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 8 روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق سال2007 میں اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4.75 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی جسے سال 2008 میں نظر ثانی کرکے بڑھا کر 6روپے فی یونٹ کردیا گیا تھا اور 2 جون 2012 کو اسے دوبارہ نظرثانی سے 8روپے فی یونٹ کردیا گیا لیکن اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کی مخالفت کے باعث ایک ماہ بعد یکم جولائی 2012 کوسیلز ٹیکس کی شرح کم کرکے 7روپے فی یونٹ کردی گئی اور احتجاج پر 24 دسمبر 2012 کو اسٹیل میلٹرز و ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح مزید کم کرکے 4روپے فی یونٹ کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے تجویز دی ہے کہ اسٹیل میلٹرز اور اسٹیل ری رولرز کے لیے بجلی کے استعمال پر سیلز ٹیکس کی شرح 4روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 8 روپے فی یونٹ کی جائے۔