سپریم کورٹ کی معاونت انتظامیہ ومقننہ کی ذمے داری ہےچیف جسٹس
قومی ادارے تعلیم، صحت اورامن وامان کے مسائل حل کریں، افسران لگن سے کام کریں.
اختیارات کی تقسیم کابنیادی مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، وفد سے خطاب فوٹو: فائل
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے کہاہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کے محافظ کے طورکام کیا ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی اورانصاف کی فراہمی کیلیے آئین کی بالادستی کوفروغ دیا ہے۔
انتظامیہ اورمقننہ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے معاون کے طورپرکام کریں اور اس کے تمام فیصلوں پرعملدرآمدکویقینی بنائیں۔ وہ پیر کو نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے وفدکے ارکان سے خطاب کررہے تھے۔ چیف جسٹس نے افسران پرزور دیا کہ اپنے اپنے متعلقہ اداروں میں بھی اسی جذبے اورلگن سے کام کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قومی ادارے تعلیم، صحت اورامن وامان جیسے مسائل کوحل کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کابنیادی مقصد تمام اداروں کے مابین مربوط تعاون کوفروغ دیناہے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو تاہم عدلیہ کو اس حوالے اضافی ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ نظرثانی کے اختیارکے ذریعے دیگراداروںکو آئین سے تجاوزنہ کرنے دے۔ قانون کی حکمرانی ایک انصاف پسند معاشرے کیلیے ناگزیرعمل ہے جس کویقینی بنانے کیلیے بیوروکریسی موثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
انتظامیہ اورمقننہ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے معاون کے طورپرکام کریں اور اس کے تمام فیصلوں پرعملدرآمدکویقینی بنائیں۔ وہ پیر کو نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے وفدکے ارکان سے خطاب کررہے تھے۔ چیف جسٹس نے افسران پرزور دیا کہ اپنے اپنے متعلقہ اداروں میں بھی اسی جذبے اورلگن سے کام کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قومی ادارے تعلیم، صحت اورامن وامان جیسے مسائل کوحل کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کابنیادی مقصد تمام اداروں کے مابین مربوط تعاون کوفروغ دیناہے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو تاہم عدلیہ کو اس حوالے اضافی ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ نظرثانی کے اختیارکے ذریعے دیگراداروںکو آئین سے تجاوزنہ کرنے دے۔ قانون کی حکمرانی ایک انصاف پسند معاشرے کیلیے ناگزیرعمل ہے جس کویقینی بنانے کیلیے بیوروکریسی موثر کردار ادا کرسکتی ہے۔