الیکشن2013 حکومت سندھ نے سیکیورٹی ضابطہ اخلاق جاری کردیا

شکایات کے ازالے کیلیے محکمہ بلدیات میں سیل قائم، بنیادی حقوق کو پامال نہیں کیاجائے گا.

پولنگ کے دن امیدوار یا حامی بغیر اجازت پولنگ اسٹیشن میں داخل نہیں ہوسکیں گے. فوٹو: فائل

سندھ حکومت نے11 مئی 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیکیورٹی ضابطہ اخلاق برائے تحفظ اور قیام امن عامہ جاری کردیا ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور ان کے حامی کارنر میٹنگز، جلسے، جلوسوں اور پولنگ کے اوقات میں ہر طرح کی شرانگیز اور پر تشدد سرگرمیوں سے اجتناب کریں گے۔ کسی بھی عوامی ملکیت یا جگہ پر کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے پرچم لہرانا ممنوع ہوگا جبکہ کسی بھی شخص کی ذاتی ملکیت والی جگہ یا عمارت پر بھی پرچم لہرانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم متعلقہ شخص کی اجازت سے اس کی ملکیت عمارت یا زمین پر پرچم لہرانے، بینرز آویزاں کرنے، نوٹس چسپاں کرنے اور نعرے لکھنے کی آزادی ہوگی۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی شخص کے بنیادی حقوق اور ذاتی تقدس کو پامال نہیں کیاجائے گا، چاہے اس کا کوئی بھی سیاسی نظریہ یا عمل ہو۔ انتخابی سرگرمیوں کی وال چاکنگ ممنوع ہوگی جبکہ لاؤ ڈ اسپیکرز صرف الیکشن میٹنگز میں استعمال ہوں گے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی امیدوار ایسے خیالات اور تقاریر سے پرہیز کریں گے ، جو علاقائیت ، فرقہ واریت کو ابھارتے ہوں۔ انتخابی امیدوارکو مزید پابندکیا گیا ہے کہ وہ ہراس عمل سے اجتناب کریں گے جس سے لسانی، برادری اورصنفی بنیاد پر نفرتوں کا باعث بنے اور معاشرے میں بگاڑ پید اکرے۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں قانون نافذکرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون کریں گی تاکہ ان کے علاقوں میں امن و امان قائم کیا جاسکے ۔ عوامی اجتماعات اور جلسے جلوسوں میں اسلحہ کی نمائش اور اسلحہ ساتھ لے کر چلنے پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ کسی بھی شخص کو ہوائی فائرنگ ، پٹاخوں اور دیگر دھماکا خیز مواد کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیاسی جماعت یا کارکن دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکن کو انتخابی سرگرمیوں سے نہیں روکے گا اور نہ ہی وہ کسی جماعت کے پوسٹرز و بینرز یا انتخابی اشتہار کے بورڈز کو ہٹائے گا۔




سیاسی جماعتیں عوامی ریلیاں و جلسے جلوس مخصوص راستوں سے نکالنے کی پابند ہوں گی، جس کے لیے ضلعی پولیس اور انتظامیہ سے مشاورت اور اجازت لینی ہوگی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق امن و امان کی موجودہ صورت حال کو مدنظررکھتے ہوئے کارنر میٹنگز کی اجازت 72 گھنٹے قبل متعلقہ پولیس اسٹیشن اور ضلعی انتظامیہ سے لینی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی عوامی ریلی یا جلسہ جلوس وہاں منعقد نہ کرنے دے جہاں دوسری سیاسی جماعت پہلے ہی سے کارنر میٹنگز منعقد کر رہی ہو یا جلوس نکال رہی ہو۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی اجتماعات کے منتظمین اپنی پارٹی کے رضا کار فراہم کریں گے، جو پولیس کے ساتھ مل کر چیکنگ اور جامہ تلاشی کریں گے۔ تمام امیدواران اپنے انتخابی شیڈول بشمول میٹنگز اور ریلیوں سے ضلعی پولیس اورانتظامیہ کو پیشگی اطلاع کریں گے تاکہ مناسب حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں۔ پولنگ کے دن سیاسی جماعتیں، امیدوار اور ان کے حامی انتخابی عمل میں کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے، جس سے لوگوں کو آزادانہ ووٹ ڈالنے میں مشکل ہو اور نہ ہی وہ خیمے لگائیں گے اور پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے جب تک کہ اس امر کی اجازت نہ ہو۔

وہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی بھی پابندی کریں گے۔ ضابطہ اخلاق میں مزیدکہا گیا ہے کہ تمام امیدوار اور ان کے حامی کسی دوسری جماعت کے امیدوار یا حامی کو دھمکی دینے اور تشدد سے اجتناب کریں گے۔ کسی بھی قسم کی کنوینسنگ پولنگ اسٹیشن کے 400 گز کی حدود میں ممنوع ہوگی۔ یہ پابندی کیمپ لگانے اور پبلک میٹنگز پر بھی ہوگی۔ یہ عمل 48 گھنٹے کا ہوگا جوپولنگ ختم ہونے تک رہے گا۔ اس سیکیورٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے اورشکایات کے ازالے کے لیے حکومت سندھ نے ایک سیل بھی قائم کیا ہے ۔ جس کا فون نمبر 021-99212971 اور فیکس نمبر 021-99212973 ہے جبکہ سیل کا پتہ کمرہ نمبر 117، محکمہ بلدیات ، پہلی منزل ، متصل تغلق ہاؤس ، سندھ سیکریٹریٹ نمبر 5 کراچی ہے ۔
Load Next Story