لانڈھی اور ملحقہ علاقوں میں بھاری اسلحے کی موجودگی کا انکشاف
روسی ساختہ دیسی بم اور دیگر خودکار ہتھیار الیکشن کے دن استعمال کرنے کا منصوبہ.
رینجرز کے زیر حراست ملزم کی نشاندہی پر چھاپے،مزید گرفتاریاں، تفتیش کا دائرہ وسیع فوٹو: فائل
لانڈھی میں چند روز قبل دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کے دوران پکڑی جانے والی اسلحے سے بھری کار اور رینجرز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے ایک شخص سے تفتیش کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد رینجرز سندھ نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے چھاپہ مار کارروائیوں میں مزید گرفتاریاں کی ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق رینجرز نے سیکٹر 36-B سے ایک کار کو اپنے قبضے میں لیا تھا جس میں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور روسی ساختہ دستی بم برآمد ہوئے تھے۔ بعدازاں رینجرز انٹیلی جنس نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر طارق نامی شخص کو حراست میں لیا تھا جسے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران طارق نے انکشاف کیا ہے کہ پکڑی جانے والی کار سے ملنے والا اسلحہ کالعدم تنظیموں کے اہم کارندوں سے خریدا گیا تھا جبکہ الیکشن 2013 کے موقع پر کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ ، روسی ساختہ دستی بم ، بلٹ پروف جیکٹ اور دیگر اسلحہ بھی خریدا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے طارق نے انکشاف کیا کہ انھیں ہدایات دی گئی تھیں کہ الیکشن سے قبل یا الیکشن کے دن اگر ضرورت پڑے تو مخالف سیاسی تنظیموں کے کارکنان اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خریدے جانے والے اسلحے میں ایل ایم جی ، ایس ایم جی اور دیگر خودکار ہتھیار شامل ہیں اور لانڈھی کے ملحقہ علاقوں میں بھی بھاری تعداد میں اسلحہ لایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص نے کئی اور اہم انکشافات بھی کئے ہیں تاہم انھیں صیغہ راز میں رکھ کر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر سرگرمی سے اپنا کام کر رہے ہیں جبکہ حراست میں لیے جانے والے شخص کو چھڑانے کے لیے بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق رینجرز نے سیکٹر 36-B سے ایک کار کو اپنے قبضے میں لیا تھا جس میں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور روسی ساختہ دستی بم برآمد ہوئے تھے۔ بعدازاں رینجرز انٹیلی جنس نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر طارق نامی شخص کو حراست میں لیا تھا جسے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران طارق نے انکشاف کیا ہے کہ پکڑی جانے والی کار سے ملنے والا اسلحہ کالعدم تنظیموں کے اہم کارندوں سے خریدا گیا تھا جبکہ الیکشن 2013 کے موقع پر کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ ، روسی ساختہ دستی بم ، بلٹ پروف جیکٹ اور دیگر اسلحہ بھی خریدا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے طارق نے انکشاف کیا کہ انھیں ہدایات دی گئی تھیں کہ الیکشن سے قبل یا الیکشن کے دن اگر ضرورت پڑے تو مخالف سیاسی تنظیموں کے کارکنان اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خریدے جانے والے اسلحے میں ایل ایم جی ، ایس ایم جی اور دیگر خودکار ہتھیار شامل ہیں اور لانڈھی کے ملحقہ علاقوں میں بھی بھاری تعداد میں اسلحہ لایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص نے کئی اور اہم انکشافات بھی کئے ہیں تاہم انھیں صیغہ راز میں رکھ کر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر سرگرمی سے اپنا کام کر رہے ہیں جبکہ حراست میں لیے جانے والے شخص کو چھڑانے کے لیے بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے ۔