ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا
عدالت نے یہ عبوری احکام ہنگو دوآبہ کے رہائشی جنت کریم کی رٹ پر جاری کیے۔
عدالت نے یہ عبوری احکام ہنگو دوآبہ کے رہائشی جنت کریم کی رٹ پر جاری کیے۔ فوٹو؛ فائل
ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا۔
پشاورہائیکورٹ کے جسٹس قلندرعلی خان اورجسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے ملٹری کورٹ کافیصلہ معطل کرتے ہوئے ہنگوکے شہری کی سزائے موت پر عمل درآمد روک کر وزارت دفاع سے جواب مانگ لیا، عدالت نے یہ عبوری احکام ہنگو دوآبہ کے رہائشی جنت کریم کی رٹ پر جاری کیے۔
اس موقع پرعدالت کو بتایا گیاکہ درخواست گزار2011ء سے فورسزکی تحویل ہے اور اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائرکی گئی تھی جبکہ وزارت دفاع نے اس کی موجودگی کو تسلیم بھی کیاتھا،اس کے باوجود درخواست گزارکودہشتگردی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے جس کا جواز ہی نہیں بنتاکہ اگر وہ فورسزکی تحویل میں تھا تو کس طرح اس نے دہشت گردی کی جبکہ ملٹری کورٹ میں فیئر ٹرائل نہیں ہوا اور نہ ہی درخواست گزار کو صفائی کاموقع فراہم کیاگیاہے لہٰذا سزائے موت کالعدم قرار دی جائے۔
پشاورہائیکورٹ کے جسٹس قلندرعلی خان اورجسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے ملٹری کورٹ کافیصلہ معطل کرتے ہوئے ہنگوکے شہری کی سزائے موت پر عمل درآمد روک کر وزارت دفاع سے جواب مانگ لیا، عدالت نے یہ عبوری احکام ہنگو دوآبہ کے رہائشی جنت کریم کی رٹ پر جاری کیے۔
اس موقع پرعدالت کو بتایا گیاکہ درخواست گزار2011ء سے فورسزکی تحویل ہے اور اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائرکی گئی تھی جبکہ وزارت دفاع نے اس کی موجودگی کو تسلیم بھی کیاتھا،اس کے باوجود درخواست گزارکودہشتگردی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے جس کا جواز ہی نہیں بنتاکہ اگر وہ فورسزکی تحویل میں تھا تو کس طرح اس نے دہشت گردی کی جبکہ ملٹری کورٹ میں فیئر ٹرائل نہیں ہوا اور نہ ہی درخواست گزار کو صفائی کاموقع فراہم کیاگیاہے لہٰذا سزائے موت کالعدم قرار دی جائے۔