سعودیہ میں 25 سال سے مقیم پاکستانی پراسرار طور پر ہلاک

یکم جولائی کو ان کی دکان پر کام کرنے والے بھارتی ملازم نے ہمیں اطلاع دی کہ والد کا انتقال ہوگیا ہے.

قتل کا شبہ،25 جون کو پاکستان سے واپس گئے، 16 لاکھ ریال کی لاٹری کھلی تھی۔ فوٹو فائل

سعودی عرب میں 25 سال سے مقیم پاکستانی پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا جبکہ حیدرآباد میں مقیم اس کے اہل خانہ نے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر5 کا 50 سالہ جمیل احمد 25 سال سے سعودی عرب میں مقیم تھا، وہ گھر والوں سے ملنے کے بعد25 جون کو واپس گیا، یکم جولائی کو اہل خانہ کو اس کی موت کی خبر دی گئی۔


متوفی کے بڑے بیٹے عدنان کے مطابق اس کا والد مکہ کے علاقے کبری بحرار میں ایک کفیل کی معرفت ٹیلرنگ کا کام تھا اور انھوں نے وہاں بچوں کے کھلونوں کی شاپ بھی کر رکھی تھی جبکہ جب وہ پاکستان سے واپس گئے توکاروبار میں اضافے کے لیے 2 لاکھ پاکستانی روپے اور 4 لاکھ سعودی ریال لے گئے تھے جبکہ ان کی 16 لاکھ ریال کی لاٹری بھی کھلی تھی، سعودی عرب پہنچنے کے بعد انھوں نے خیریت کی اطلاع دی، جس کے بعد ان کا فون بند ہوگیا اور یکم جولائی کو ان کی دکان پر کام کرنے والے بھارتی ملازم نے ہمیں اطلاع دی کہ والد کا انتقال ہوگیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ سعودی اسپتال کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق انہیں قتل کیا گیا ہے۔انھوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ سعودی عرب کی حکومت سے سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھائے تاکہ ان کے والد کے قاتل گرفتار ہو سکیں جبکہ ان کے والد کی رقم اور کاروبار ان حوالے کیا جائے۔
Load Next Story