سچائی کمیشن

میاں صاحب نے معروف صحافی مظہر عباس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کارگل، ایبٹ آباد سانحہ اور دوسرے اہم معاملات پریہ...

tauceeph@gmail.com

ISLAMABAD:
میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد سچائی کمیشن قائم کریں گے۔ میاں صاحب نے معروف صحافی مظہر عباس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کارگل، ایبٹ آباد سانحہ اور دوسرے اہم معاملات پر یہ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ میاں صاحب نے موجودہ انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کی سابقہ چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم قومی رہنما تھیں اور آج ہر شخص بے نظیر بھٹو کی کمی محسوس کررہا ہے۔ سچائی کمیشن کا تصور سب سے پہلے گزشتہ صدی کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے دیا تھا۔ نیلسن منڈیلا افریقی نیشنل کانگریس کے بانی اراکین میں سے تھے۔

ان کی قیادت میں جنوبی افریقہ کی اکثریتی سیاہ فام آبادی نے نسلی امتیاز کے خاتمے اور جنوبی افریقہ کو ایک حقیقی جمہوری ملک بنانے کے لیے گزشتہ صدی کی نصف دہائی سے جدوجہد کی تھی۔ اس جدوجہد کے دوران نیلسن منڈیلا کو 40 سال کے قریب قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی تھیں۔ انھیں جنوبی افریقہ کی تاریک جیلوں میں برسوں انتہائی غیر انسانی ماحول میں رکھا گیا۔ جنوبی افریقہ پر قابض اقلیتی سفید فام گروہوں کو امریکا اور یورپ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

سفید فام حکومت جنوبی افریقہ میں موجود قیمتی معدنیات کو لوٹ کر یورپ اور امریکا برآمد کرتی تھی۔ اس حکومت کی بنیادی پالیسی یہ تھی کہ سیاہ فام باشندوں کو غلاموں سے زیادہ حیثیت نہ دی جائے۔ سفید فام پولیس، فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی نیلسن منڈیلا کی جماعت کے حامیوں کے ساتھ بدترین سلوک کرتی تھیں، ان پر کوڑے برسائے جاتے تھے اور سیاہ فام لوگوں کو شہروں میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، ریسٹورینٹس، بسوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ریل گاڑیوں میں گورے داخل ہوتے تھے اور ان اداروں کی سہولتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے مگر کالوں کے لیے ان اداروں میں داخل ہونا ایک سنگین جرم تھا۔

جب نیلسن منڈیلا کی قیادت میں افریقن نیشنل کانگریس نے سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مسلح جدوجہد بھی شروع کی تو یورپی اور امریکی ذرایع ابلاغ نے نیلسن منڈیلا کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور ان کی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے برسوں پروپیگنڈہ کیا۔ نیلسن منڈیلا برسوں دنیا میں دہشت گرد سمجھے جاتے رہے۔

منڈیلا نے اپنی سوانح عمری میں تحریر کیا ہے کہ جیل میں زندگی گزارنے کے دوران انھیں ایک دن کھیلنے کا موقع دیا گیا، یہ کھیل باکسنگ کا تھا۔ رنگ میں ان کا مقابلہ گورے سپرنٹنڈنٹ سے ہوا۔ منڈیلا کے مکے سے گورے سپرنٹنڈنٹ کی ناک پر ضرب لگی اور مقابلے سے ناک آؤٹ ہوگیا۔ سپرنٹنڈنٹ نے سزا کے طور پر منڈیلا کا تکیہ چھین لیا، منڈیلا کو تکیے کے متبادل کے طور پر ایک پتھر کو برسوں اپنے سر کے نیچے رکھنا پڑا مگر جب افریقن نیشنل کانگریس کامیابی کے قریب پہنچی تو نیلسن منڈیلا نے محسوس کیا کہ گوروں کے صدیوں کے مظالم کا بدلہ لینے کے لیے ان کی قوم تیار بیٹھی ہے لہٰذا اس صورتحال میں انھوں نے سوچا کہ اگر کالوں نے بھی گوروں کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کردی تو جنوبی افریقہ بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا اور اکثریتی آبادی پھر ترقی کے ثمر سے محروم ہوجائے گی۔

منڈیلا نے صدی کے عظیم رہنما کا ثبوت دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ ایک سچائی کمیشن قائم کیا جائے۔ جن لوگوں نے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف مظالم کیے تھے وہ اگر اس کمیشن کے سامنے اعتراف کرلیں گے تو انھیں معاف کردیا جائے گا۔ یوں گورے اہلکاروں کے علاوہ ان کا ساتھ دینے والے کالے باشندوں نے بھی سچائی کمیشن کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے عوام کو سمجھایا کہ اپنے جرائم کا اقرار کرنے والوں کو معاف کرنے سے ہی جمہوریت مستحکم ہوگی۔

جب 2005 میں پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر اتفاق ہوا تو دونوں رہنماؤں نے سچائی کمیشن کے قیام اور زندگی میں کبھی بھی پی سی او (P.C.O) کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو عدلیہ سے بے دخل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔


میثاق جمہوریت کی باقی شقوں پر تو عملدرآمد ہوا جس کی بنا پر 1973 کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا، 1940 کی قرارداد کے تحت صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل ہوا مگر میاں نواز شریف نے پی سی او ججوں کی شق پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا اور میاں صاحب اور زرداری صاحب نے سچائی کمیشن کے قیام پر بھی اصرار نہیں کیا۔

اگر 2008 میں سچائی کمیشن قائم ہو جاتا تو میاں صاحب کو جنرل ضیاء الحق حکومت کا ساتھ دینے، اپنے منتخب وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کی برطرفی میں آلہ کار بننے کے علاوہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کی برطرفی میں عسکری مقتدرہ کا آلہ کار بننے پر بھی معذرت کرنی پڑتی۔ اسی طرح مہران بینک سے ملنے والی رقم کے ذریعے 1992 کے انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کے اسکینڈل میں اپنے کردار پر بھی ندامت کرنی پڑتی۔

اسی طرح صدر زرداری کو بھی میاں نواز شریف کی دو حکومتوں کی برطرفی میں عسکری مقتدرہ کا آلہ کار بننے پر معذرت کرنی پڑتی۔ اگر یہ رہنما نیلسن منڈیلا کے فلسفے کے تحت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے تو جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل حمید گل اور جنرل درانی سمیت کئی جنرلوں اور بیوروکریٹس کو بھی اسی طرح معذرت کرنی پڑتی۔ اسی طرح جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا وہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے۔ سابق صدر پرویز مشرف کو بھی اپنی غلطیوں کے اقرار کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔

جب میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے تو دوسری جماعتوں مثلاً مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا۔ اسی طرح گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سیاسی جماعتوں میں جو کشیدگی پیدا ہوئی وہ پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح عدالتوں کا اصغر خان کیس، سیکرٹ فنڈ مقدمات وغیرہ میں بھی وقت ضایع نہیں ہوتا اور عدالتوں اور ذرایع ابلاغ کو سیاست دانوں کی کردار کشی کا موقع بھی نہ ملتا۔ مگر میاں صاحب اور زرداری صاحب نے یہ موقع گنوا دیا۔ نواز شریف کی اس بات کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی یوم شہدا کے موقعے پر منعقد ہونے والی تقریب کی تقریر سے منسلک کیا جائے تو نیا منظرنامہ واضح ہوتا ہے۔

جنرل کیانی نے فوج کے سابق سربراہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ جزا اور سزا سے آمریت کا راستہ نہیں روکا جاسکتا بلکہ عوام کی جمہوری نظام کی حمایت سے جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ورنہ جمہوریت اور آمریت کا تعلق جاری رہے گا۔ چیف آف آرمی اسٹاف کا یہ فرمان دراصل مسلح افواج کی ڈاکٹرائن ہے۔

اب میاں صاحب اقتدار کے قریب ہیں، وہ جنرل مشرف کو سزا دلوانے پر زور دینے کے بجائے سچائی کمیشن کے قیام پر زور دیں اور سب سے پہلے خود کمیشن کے سامنے ماضی کی غلطیوں کا اقرار کرلیں تو دوسرے رہنماؤں کو بھی ان کی تقلید کرنی پڑے گی۔ میاں صاحب کی انتخابی عمل کے موقعے پر یہ انتہائی اہم تجویز ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دوسری جماعتوں کو بھی اس تجویز کی حمایت کرنی چاہیے۔ ماہرین قانون اور سول سوسائٹی کے ارکان کو سچائی کمیشن کے خدوخال پر رائے دینی چاہیے تاکہ 11 مئی سے پہلے سچائی کمیشن کی تشکیل پر بحث مکمل ہوجائے۔

اگر میاں صاحب نے سنجیدگی سے اپنی تجویز پر عمل کیا تو 11 مئی کے انتخابات کے نتائج کے مطابق قائم ہونے والا سیاسی ڈھانچہ مضبوط ہوجائے گا۔ جنرل کیانی کی یہ بات ایک حقیقت ہے کہ عوام کی شرکت ہی جمہوری نظام کو مستحکم کرسکتی ہے، مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر عظیم رہنما نیلسن منڈیلا 40 سال تک ذاتی طور پر مشکلات اٹھانے کے باوجود اپنے وژن کے ذریعے جنوبی افریقہ کو نرمی کے راستے پر گامزن کرسکتے ہیں تو کیا ہمارے سیاسی رہنما نیلسن منڈیلا کی تقلید نہیں کرسکتے؟ میاں صاحب کی اس بارے میں سنجیدگی تاریخ کے مورخین کو حقائق فراہم کرے گی۔
Load Next Story