چین سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کے معاہدے پر عملدرآمد شروع
تاجروں کو قرض دینے کیلیے بینکوں کو یو آن فراہم کرینگے، پہلی نیلامی 4 جون کو ہوگی، اسٹیٹ بینک
صارفین کو آگہی دی جائے، معاہدے سے چین کے ساتھ تجارت بڑھے گی، اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان 10 ارب چینی یوآن اور 140 ارب روپے کا دوطرفہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ منگل سے نافذ کیا جارہا ہے۔
اس سلسلے میں بینکوں کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور پیپلز بینک آف چائنا کے ساتھ تمام عملی کارروائیاں تکمیل پا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان اس تاریخ ساز دوطرفہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ پر دسمبر 2011 میں گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور اور پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر ڈو جن فو نے اسلام آباد میں دستخط کیے تھے۔ مرکزی بینک سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں مرکزی بینکوں کے درمیان کرنسی سواپ ارینجمنٹ سے آن شور مارکیٹ میں دوسرے ملک کی سیالیت (لیکویڈٹی) کے بارے میں مارکیٹ کو مثبت اشارے ملیں گے۔
اس ارینجمنٹ سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کے لیے دستیاب سیالیت کا پول بڑھ جائے گا اور سیالیت کے پہلے سے دستیاب وسائل میں اضافہ ہوگا، مارکیٹ کی شرح سود کے تعین میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چینی یوآن لون فیسلٹی کی مسابقتی نیلامیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق عملدرآمد کی گائیڈ لائنز میں اسٹیٹ بینک نے چینی یوآن لون فیسلٹی کی نیلامی کا بھی اعلان کیا ہے، اس نیلامی میں بینکوں کی شرکت کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک سواپ لائن استعمال کرے گا اور پاکستان میں بینکوں کو چینی یوآن فراہم کرے گا، بینک چینی یوآن میں تجارت کرنے والے امپورٹرزوایکسپورٹرز کو اس سیالیت میں سے قرض دیں گے، مدت پوری ہونے پر امپورٹر و ایکسپورٹر قرض دینے والے بینک کو غیرملکی کرنسی واپس کرے گا اور بینک یہ رقم متعلقہ مرکزی بینک کو واپس کردے گا، امپورٹرزوایکسپورٹرز کو چینی یوآن میں قرض دینے کا بندوبست کرنے کے لیے بینکوں کو مناسب وقت فراہم کرنے کی خاطر پہلی نیلامی 4 جون 2013 کو منعقد ہو گی جس کا سیٹلمنٹ 13 جون 2013 کو ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق تمام بینکوں سے توقع ہے کہ وہ صارفین کو چینی یوآن میں اپنی تجارتی دستاویزات ظاہر کرنے کے اضافی آپشن کے بارے میں آگہی دیں گے، اسٹیٹ بینک بینکوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ مقامی تجارتی اداروں کے ساتھ اس ضمن میں اجلاس منعقد کریں۔ مرکزی بینک نے تمام امپورٹرز و ایکسپورٹرز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مزید تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ بینکوں سے رجوع کریں کہ وہ دو طرفہ تجارت میں رقم فراہم کرنے کے لیے چینی یوآن میں کس طرح قرض لے سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بین کے مطابق کرنسی سواپ ارینجمنٹ کا مقصدمقامی کرنسیوں میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، چونکہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ ایک دو طرفہ مالی ٹرانزیکشن ہے اس لیے دونوں ملکوں پر تمام شرائط و ضوابط کا یکساں اطلاق ہو گا اور قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے معیاری بینچ مارکس پر مبنی ہوگا جو اپنی متعلقہ مقامی مارکیٹوں میں عام طور پر قابل قبول ہیں، دوطرفہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ پر عملدرآمد تکنیکی سطح کی ٹیموں کے مذاکرات کے بعد کیا جا رہا ہے جو دونوں ملکوں کے مرکزی بینکوں کے مابین پیپلز بینک آف چائنا کے یاؤ یوڈونگ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسد قریشی کی سربراہی میں منعقد ہوئے تھے۔
اس سلسلے میں بینکوں کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور پیپلز بینک آف چائنا کے ساتھ تمام عملی کارروائیاں تکمیل پا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے درمیان اس تاریخ ساز دوطرفہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ پر دسمبر 2011 میں گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور اور پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر ڈو جن فو نے اسلام آباد میں دستخط کیے تھے۔ مرکزی بینک سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں مرکزی بینکوں کے درمیان کرنسی سواپ ارینجمنٹ سے آن شور مارکیٹ میں دوسرے ملک کی سیالیت (لیکویڈٹی) کے بارے میں مارکیٹ کو مثبت اشارے ملیں گے۔
اس ارینجمنٹ سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کے لیے دستیاب سیالیت کا پول بڑھ جائے گا اور سیالیت کے پہلے سے دستیاب وسائل میں اضافہ ہوگا، مارکیٹ کی شرح سود کے تعین میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چینی یوآن لون فیسلٹی کی مسابقتی نیلامیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق عملدرآمد کی گائیڈ لائنز میں اسٹیٹ بینک نے چینی یوآن لون فیسلٹی کی نیلامی کا بھی اعلان کیا ہے، اس نیلامی میں بینکوں کی شرکت کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک سواپ لائن استعمال کرے گا اور پاکستان میں بینکوں کو چینی یوآن فراہم کرے گا، بینک چینی یوآن میں تجارت کرنے والے امپورٹرزوایکسپورٹرز کو اس سیالیت میں سے قرض دیں گے، مدت پوری ہونے پر امپورٹر و ایکسپورٹر قرض دینے والے بینک کو غیرملکی کرنسی واپس کرے گا اور بینک یہ رقم متعلقہ مرکزی بینک کو واپس کردے گا، امپورٹرزوایکسپورٹرز کو چینی یوآن میں قرض دینے کا بندوبست کرنے کے لیے بینکوں کو مناسب وقت فراہم کرنے کی خاطر پہلی نیلامی 4 جون 2013 کو منعقد ہو گی جس کا سیٹلمنٹ 13 جون 2013 کو ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق تمام بینکوں سے توقع ہے کہ وہ صارفین کو چینی یوآن میں اپنی تجارتی دستاویزات ظاہر کرنے کے اضافی آپشن کے بارے میں آگہی دیں گے، اسٹیٹ بینک بینکوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ مقامی تجارتی اداروں کے ساتھ اس ضمن میں اجلاس منعقد کریں۔ مرکزی بینک نے تمام امپورٹرز و ایکسپورٹرز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مزید تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ بینکوں سے رجوع کریں کہ وہ دو طرفہ تجارت میں رقم فراہم کرنے کے لیے چینی یوآن میں کس طرح قرض لے سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بین کے مطابق کرنسی سواپ ارینجمنٹ کا مقصدمقامی کرنسیوں میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، چونکہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ ایک دو طرفہ مالی ٹرانزیکشن ہے اس لیے دونوں ملکوں پر تمام شرائط و ضوابط کا یکساں اطلاق ہو گا اور قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے معیاری بینچ مارکس پر مبنی ہوگا جو اپنی متعلقہ مقامی مارکیٹوں میں عام طور پر قابل قبول ہیں، دوطرفہ کرنسی سواپ ارینجمنٹ پر عملدرآمد تکنیکی سطح کی ٹیموں کے مذاکرات کے بعد کیا جا رہا ہے جو دونوں ملکوں کے مرکزی بینکوں کے مابین پیپلز بینک آف چائنا کے یاؤ یوڈونگ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسد قریشی کی سربراہی میں منعقد ہوئے تھے۔