امریکامیںخشک سالیخوراک کی عالمی قیمتیںبڑھنے کااندیشہ
بنگلہ دیش نے چاول کی برآمدپرپابندی لگادی،گندم کی برآمدپرپابندی نہیںلگارہے،روس
روسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ گندم کی برآمدات پر پابندی کا نہیں سوچ رہی۔ فوٹو فائل
امریکا میں تاریخی خشک سالی نے اس بحث کومزیدتیزکردیا ہے کہ آیازرعی اجناس سے ایندھن بنانے کوترجیح دینی جانی چاہیے یاانھیں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلیے ہی کام میں لایا جائے، امریکا میں ان دنوں پچاس برس کی شدیدترین خشک سالی ہے جس کے سبب گندم، مکئی اورسویا بین کی فصل کو اندازوںسے زیادہ نقصان پہنچاہے اوریوں عالمی سطح پرخوراک کی قیمتوں میںاضافے کااندیشہ پیدا ہوگیا ہے، صورتحال غریب ممالک کو بھی متاثر کریگی۔
امریکا میںیہ قانون ہے کہ ملک بھر میں مکئی کی 40 فیصدپیداوار سے ایندھن یعنی ایتھانول بنایاجاتا ہے، وزارت زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق مکئی کی فصل رواںسال خاصی کم رہے گی،خشک سالی کی صورتحال محض امریکا میں نہیں بلکہ ماہرین موسمیات کے مطابق نینوایل طرز کے ایک موسم کی لہر موسم سرما تک چلے گی جو آسٹریلیا سے بھارت تک کی فصلوں کومتاثرکرے گی،امریکا میںصورتحال کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے کچھ ریاستوںکے گورنرزنے صدر اوباما سے درخواست کی ہے کہ ایتھانول کے کوٹے کوختم یاکم کیا جائے، اقوام متحدہ میںخوراک کے امور سے متعلق عہدیدار بھی ایتھانول کوٹے میں عارضی کمی کے حق میں ہیں۔
اپنے ایک مضمون میں انھوں نے امیدظاہرکی کہ اگر امریکی حکومت نے ایسا کیا تو عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا راستہ روکا جاسکتا ہے،امریکی ماہرین اقتصادیات بل لیپ کے بقول اگلے برس محض امریکا میں خوراک کی قیمتوں میں قریب 5 فیصدکا اضافہ ہوگا،عالمی سطح پر بھی اس کے بہت ڈرامائی اثرات مرتب ہوں گے یہی بات اقوام متحدہ کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ بائیو فیول کیلیے مختص کوٹے میں کمی کا مطالبہ کرے،امریکی قانون کے تحت وہاں ایندھن بنانے والی کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ ان کی پیداورکا9 فیصدایتھانول سے تیار شدہ ہو جس کامطلب ہے کہ مکئی کی قریب 40 فیصدکاشت کوایندھن میںتبدیل کیا جائیگا۔
سیاسی امورکے ماہرین کے مطابق صدارتی انتخابات کی وجہ سے ایسے امکانات کم ہی ہیںکہ واشنگٹن حکومت ایتھانول کاکوٹہ کم کردے،صورتحال کے اثرات منڈیوں پر نمودار ہونا شروع ہوچکے ہیں،امریکا میںمکئی کی قیمت میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران 60فیصدسے زائد کا اضافہ ہوا ہے، سویابین کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ اس کی پیداوار بھی اندازے سے 4 فیصدکم رہے گی،اقوام متحدہ کے مطابق عالمی سطح پرغذائی اجناس کانظام بحرانی کیفیت میں داخل نہیںہوا تاہم2008کی طرز پرمختلف ممالک نے برآمدات پر پابندیاں لگائیں اورذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی تو بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
روسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ گندم کی برآمدات پر پابندی کا نہیں سوچ رہی،چین کا کہناہے کہ موسم خزاں کی کاشت تک سرکاری گوداموںسے مکئی اورچاول کی برآمد کاعمل جاری رہے گاجبکہ بنگلہ دیش نے مقامی ضروریات پوری ہونے تک چاول کی برآمدپرپابندی عائدکردی ہے۔
امریکا میںیہ قانون ہے کہ ملک بھر میں مکئی کی 40 فیصدپیداوار سے ایندھن یعنی ایتھانول بنایاجاتا ہے، وزارت زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق مکئی کی فصل رواںسال خاصی کم رہے گی،خشک سالی کی صورتحال محض امریکا میں نہیں بلکہ ماہرین موسمیات کے مطابق نینوایل طرز کے ایک موسم کی لہر موسم سرما تک چلے گی جو آسٹریلیا سے بھارت تک کی فصلوں کومتاثرکرے گی،امریکا میںصورتحال کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے کچھ ریاستوںکے گورنرزنے صدر اوباما سے درخواست کی ہے کہ ایتھانول کے کوٹے کوختم یاکم کیا جائے، اقوام متحدہ میںخوراک کے امور سے متعلق عہدیدار بھی ایتھانول کوٹے میں عارضی کمی کے حق میں ہیں۔
اپنے ایک مضمون میں انھوں نے امیدظاہرکی کہ اگر امریکی حکومت نے ایسا کیا تو عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا راستہ روکا جاسکتا ہے،امریکی ماہرین اقتصادیات بل لیپ کے بقول اگلے برس محض امریکا میں خوراک کی قیمتوں میں قریب 5 فیصدکا اضافہ ہوگا،عالمی سطح پر بھی اس کے بہت ڈرامائی اثرات مرتب ہوں گے یہی بات اقوام متحدہ کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ بائیو فیول کیلیے مختص کوٹے میں کمی کا مطالبہ کرے،امریکی قانون کے تحت وہاں ایندھن بنانے والی کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ ان کی پیداورکا9 فیصدایتھانول سے تیار شدہ ہو جس کامطلب ہے کہ مکئی کی قریب 40 فیصدکاشت کوایندھن میںتبدیل کیا جائیگا۔
سیاسی امورکے ماہرین کے مطابق صدارتی انتخابات کی وجہ سے ایسے امکانات کم ہی ہیںکہ واشنگٹن حکومت ایتھانول کاکوٹہ کم کردے،صورتحال کے اثرات منڈیوں پر نمودار ہونا شروع ہوچکے ہیں،امریکا میںمکئی کی قیمت میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران 60فیصدسے زائد کا اضافہ ہوا ہے، سویابین کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ اس کی پیداوار بھی اندازے سے 4 فیصدکم رہے گی،اقوام متحدہ کے مطابق عالمی سطح پرغذائی اجناس کانظام بحرانی کیفیت میں داخل نہیںہوا تاہم2008کی طرز پرمختلف ممالک نے برآمدات پر پابندیاں لگائیں اورذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی تو بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
روسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ گندم کی برآمدات پر پابندی کا نہیں سوچ رہی،چین کا کہناہے کہ موسم خزاں کی کاشت تک سرکاری گوداموںسے مکئی اورچاول کی برآمد کاعمل جاری رہے گاجبکہ بنگلہ دیش نے مقامی ضروریات پوری ہونے تک چاول کی برآمدپرپابندی عائدکردی ہے۔