روئی کے نرخوںمیںتیزی کارجحان یکدم مندی میںتبدیل

گزشتہ ہفتے امریکی رپورٹ کے بعدنیویارک کاٹن ایکسچینج میںقیمتیں4 فیصدتک گرگئیں،رپورٹ

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 1.50فیصد کمی کے اعلان. فوٹو فائل

امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز جاری ہونیوالی رپورٹ جس میں بتایا گیا تھا کہ 2012-13 کے دوران دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس تاریخ کے سب سے زیادہ 74.67ملین بیلز ہوں گے،کے بعدپاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں پچھلے دوہفتے سے جاری تیزی کارجحان یکدم مندی میںبدل گیاجس کے باعث نیویارک کاٹن ایکس چینج جہاں روئی کی قیمتیں پچھلے تین ماہ کی بلند ترین سطح76سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئی تھیںاورتوقع ظاہر کی جارہی تھی کہ امریکا اور بھارت میں جاری طویل خشک سالی کے باعث کپاس کی پیداوار میں متوقع ریکارڈ کمی کے باعث آئندہ چند روز کے دوران روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کار جحان سامنے آئے گا۔

مگر مذکورہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد صرف ایک سیشن کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں 4فیصد تک گرگئیں،پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبراحسان الحق نے بتایاکہ ٹریڈ ڈیولمپنٹ اتھارٹی آف پاکستان اوراسٹیٹ بنک کی جانب سے روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن دوبارہ شروع ہونے اورسندھ اورپنجاب میںپھٹی کی آمدمیں غیر متوقع کمی کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں کافی تیزی کارجحان دیکھاگیاجس کے باعث نقدادائیگی پر روئی کی قیمتیں100روپے فی من اضافے کے ساتھ 5ہزار 950 روپے جبکہ عید کے بعد تک موخر ادائیگی پر روئی کی قیمتیں 6ہزار 50روپے فی من تک پہنچ گئیں۔

تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ مذکورہ رپورٹ کے بعد جاری ہفتے میں روئی کی قیمتوں میں مندی کارجحان سامنے آسکتاہے،انھوںنے مزید بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 4.55سینٹ اضافے کے ساتھ 85.80سینٹ فی پائونڈ،اکتوبرڈلیوری روئی کے سودے 0.32سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 72.90سینٹ فی پائوند تک گرگئیں جبکہ چائنہ میں ستمبروعدہ روئی کے سودے 410یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ 18ہزار660یوآن فی ٹن تک پہنچ گئے جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے سپاٹ ریٹ 150روپے فی من اضافے کے ساتھ 5ہزار 800روپے فی من تک پہنچ گئے۔


احسان الحق نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے جاری ہونے والے رپورٹ کے مطابق 2012-13کے دوران دنیا بھر میں روئی کی پیداوار 114.11ملین بیلز ہوگی جوکہ 2011-12کے مقابلے میں7فیصد کم ہے جبکہ اس کی کھپت کا اندازہ 108.16ملین بیلزلگایاگیاہے جوکہ 2011-12 کے مقابلے میں 2.6فیصدزائدہے جبکہ حیران کن طور پر اس رپورٹ کے مطابق 2012-13کے روئی کے اینڈنگ اسٹاک 74.67ملین بیلزبتائے گئے ہیںجوکہ تاریخ کے سب سے زیادہ اینڈنگ اسٹاکس ہیں۔

انھوں نے بتایاکہ اطلاعات کے مطابق امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ ایک بار پھر سٹہ بازی کو پروان چڑھانے کیلیے جاری کی گئی کیونکہ بھارت اور امریکامیں طویل خشک سالی کے باعث توقع جاری کی ظاہر کی جارہی تھی کہ اس سے دنیاکے کپاس پیدا کرنے والے 2بڑے ممالک میں کپاس کی پیداوار میں متوقع کمی کے باعث روئی کی کھپت زیادہ ہونے سے اینڈنگ اسٹاکس میں بھی واضح کمی نظر آئے گی جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان آسکتا تھا لیکن اس کے برعکس سٹہ بازوںکو فائدہ پہنچانے کیلیے ایسی رپورٹ جاری کی گئی کہ جس سے سٹہ بازوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

انھوں نے بتایاکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 1.50فیصد کمی کے اعلان کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ کاٹن انڈسٹری سمیت دیگر تمام انڈسٹریز پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکیںگے۔احسان الحق نے بتایاکہ معلوم ہوا ہے ملکی تاریخی میں پہلی بار فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آئندہ سال بی ٹی کاٹن کا تصدیق شدہ بیج فروخت کرنے کی سیڈ کمپنیوں کو اجازت دے دی گئی ہے جس سے توقع ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بی ٹی کاٹن کا تصدیق شدہ بیچ ملنے سے پاکستان بھر میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ سامنے آئیگا۔
Load Next Story