انتخابی دفاتر اور جلسوں پر حملے متحدہ کے 5 کارکنوں سمیت 24 افراد ہلاک
متحدہ کے کارکن جمعہ گوٹھ کورنگی اورحیدرآبادلبرٹی چوک پر نشانہ بنے،دوآبہ میں جے یو آئی(ف) کی ریلی میں خودکش دھماکا
متحدہ کے کارکن جمعہ گوٹھ کورنگی اورحیدرآبادلبرٹی چوک پر نشانہ بنے،دوآبہ میں جے یو آئی(ف) کی ریلی میں خودکش دھماکا، 12 جاں بحق، دیر میں پی پی امیدوار کا بھائی، دیربالا میں جماعت اسلامی کے رہنما کا بیٹا ہلاک ،صدر، وزیراعظم و دیگر کی تعزیت۔ فوٹو: فائل
کراچی اور حیدرآباد میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے متحدہ کے 5کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کوابراہیم حیدری کے علاقے کورنگی جمعہ حمایتی گوٹھ رحمانیہ مسجد کے قریب متحدہ کے یونٹ79کے قریب الیکشن آفس پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے18سالہ انیس ولد الیاس ، 30سالہ قاسم ، 20 سالہ جلال اور 25 سالہ سعید ولد نذیر زخمی ہو گئے جنھیں طبی امداد کے لیے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا جہاں انیس اور قاسم دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے باعث بجلی نہیں تھی ، ہلاک و زخمی ہونے والے اسی علاقے کے رہائشی اور متحدہ قومی مومنت مضافاتی کمیٹی کے کارکن ہیں۔
حیدرآباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سول اسپتال کے قریب، یونین کونسل 3کے دفتر کے سامنے لبرٹی چوک پر ایم کیو ایم کے کارکن پارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں انتخابی نشان پتنگ لگانے میں مصروف تھے اور انھوں نے وہاں لئاوڈ اسپیکرز لگا کر ایم کیو ایم کے ترانے بجانے شروع ہی کیے تھے، انھیںوہاں ایم کیو ایم کی ریلی کا انتظار تھا کہ 3 موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے موقع پر پہنچ کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے وہاں موجود اسلم عرف عالم، فیاض احمد عرف چینا، بہادر علی، شعیب اجمیری، اعظم قریشی اور مقامی کالج کا نائب قاصد رزاق چنہ شدید زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسلم عرف عالم اور فیاض احمد کی حالت تشویشناک تھی۔ زخمیوں کو لے کر جب لوگ سول اسپتال پہنچے تو وہاں شعبہ ایمرجنسی میں ڈاکٹر ہی نہیں تھے جس پر ان میں اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے شعبہ ایمرجنسی میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہیں ایم کیو ایم کے زونل انچارج محمد شریف و دیگر ذمے دار سول اسپتال پہنچ گئے۔
جہاں اس وقت تک ایک کارکن اعظم قریشی دم توڑ گیا جبکہ اسلم عرف الم اور فیاض عرف چینا کو تشویشناک حالت کے باعث نجی اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں کراچی بھیج دیا گیا۔ جہاں آئی سی یو وارڈ میں وینٹ موجود تھا لیکن ان کی حالت کے پیش نظر انہیں وینٹ ایمبولینس کے ذریعے کراچی روانہ کر دیا گیا ۔واقعے کے بعد رات گیے تک کھلی رہنے والی لبرٹی مارکیٹ، مارکیٹ ایریا، سرفراز مارکیٹ، تلک چاڑی، سرفراز کالونی، پٹھان کالونی اور دیگر ملحقہ علاقوں میں رات گیے تک کھلی رہنے والی مارکیٹیں احتجاجاً بند ہو گئی جبکہ ایم کیو ایم سیکڑوں کارکنان، موقع پر پہنچ گیے جنھیں ذمہ داران نے پرامن رہنے کی ہدایت کے ساتھ واپس ان کے اپنے علاقوں میں بھیج دیا۔
فائرنگ میں جاں بحق ہونے والا اعظم قریشی ولد عبدالسلام قریشی، زچہ خانہ سفید کنواں پریٹ آباد کا رہائشی تھا جس کی 2 ماہ پہلے ہی منگنی ہوئی تھی۔ مقتول کو آج مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ دوران علاج بھٹائی اسپتال میں لیاقت کالونی کا رہائشی رزاق چنا اور کراچی پہنچ کر اسلم عرف عالم جانبر نہ ہوسکے۔ اسلم کو درگاہ سرفراز بابا کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ متحدہ کے زونل انچارج محمد شریف خان نے اس واقعے کے شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ کارکنان کو مسلسل نشانہ بنا کر ایم کیو ایم کو حق پرستی کے پرچم کو بلند کرنے سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد لبرٹی مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹیں احتجاجاً بند ہو گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بعدازاں اسلم عرف عالم بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
تفصیلات کے مطابق منگل کوابراہیم حیدری کے علاقے کورنگی جمعہ حمایتی گوٹھ رحمانیہ مسجد کے قریب متحدہ کے یونٹ79کے قریب الیکشن آفس پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے18سالہ انیس ولد الیاس ، 30سالہ قاسم ، 20 سالہ جلال اور 25 سالہ سعید ولد نذیر زخمی ہو گئے جنھیں طبی امداد کے لیے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا جہاں انیس اور قاسم دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے باعث بجلی نہیں تھی ، ہلاک و زخمی ہونے والے اسی علاقے کے رہائشی اور متحدہ قومی مومنت مضافاتی کمیٹی کے کارکن ہیں۔
حیدرآباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سول اسپتال کے قریب، یونین کونسل 3کے دفتر کے سامنے لبرٹی چوک پر ایم کیو ایم کے کارکن پارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں انتخابی نشان پتنگ لگانے میں مصروف تھے اور انھوں نے وہاں لئاوڈ اسپیکرز لگا کر ایم کیو ایم کے ترانے بجانے شروع ہی کیے تھے، انھیںوہاں ایم کیو ایم کی ریلی کا انتظار تھا کہ 3 موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے موقع پر پہنچ کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے وہاں موجود اسلم عرف عالم، فیاض احمد عرف چینا، بہادر علی، شعیب اجمیری، اعظم قریشی اور مقامی کالج کا نائب قاصد رزاق چنہ شدید زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسلم عرف عالم اور فیاض احمد کی حالت تشویشناک تھی۔ زخمیوں کو لے کر جب لوگ سول اسپتال پہنچے تو وہاں شعبہ ایمرجنسی میں ڈاکٹر ہی نہیں تھے جس پر ان میں اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے شعبہ ایمرجنسی میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہیں ایم کیو ایم کے زونل انچارج محمد شریف و دیگر ذمے دار سول اسپتال پہنچ گئے۔
جہاں اس وقت تک ایک کارکن اعظم قریشی دم توڑ گیا جبکہ اسلم عرف الم اور فیاض عرف چینا کو تشویشناک حالت کے باعث نجی اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں کراچی بھیج دیا گیا۔ جہاں آئی سی یو وارڈ میں وینٹ موجود تھا لیکن ان کی حالت کے پیش نظر انہیں وینٹ ایمبولینس کے ذریعے کراچی روانہ کر دیا گیا ۔واقعے کے بعد رات گیے تک کھلی رہنے والی لبرٹی مارکیٹ، مارکیٹ ایریا، سرفراز مارکیٹ، تلک چاڑی، سرفراز کالونی، پٹھان کالونی اور دیگر ملحقہ علاقوں میں رات گیے تک کھلی رہنے والی مارکیٹیں احتجاجاً بند ہو گئی جبکہ ایم کیو ایم سیکڑوں کارکنان، موقع پر پہنچ گیے جنھیں ذمہ داران نے پرامن رہنے کی ہدایت کے ساتھ واپس ان کے اپنے علاقوں میں بھیج دیا۔
فائرنگ میں جاں بحق ہونے والا اعظم قریشی ولد عبدالسلام قریشی، زچہ خانہ سفید کنواں پریٹ آباد کا رہائشی تھا جس کی 2 ماہ پہلے ہی منگنی ہوئی تھی۔ مقتول کو آج مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ دوران علاج بھٹائی اسپتال میں لیاقت کالونی کا رہائشی رزاق چنا اور کراچی پہنچ کر اسلم عرف عالم جانبر نہ ہوسکے۔ اسلم کو درگاہ سرفراز بابا کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ متحدہ کے زونل انچارج محمد شریف خان نے اس واقعے کے شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ کارکنان کو مسلسل نشانہ بنا کر ایم کیو ایم کو حق پرستی کے پرچم کو بلند کرنے سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد لبرٹی مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹیں احتجاجاً بند ہو گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بعدازاں اسلم عرف عالم بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔