مقامی سطح پر تیار کردہ گاڑیوں کی فروخت میں 41 فیصد کمی

نئی گاڑیوںکی فروخت جولائی2011کے مقابلے میں 41 فیصد اورجون 2012کے مقابلے میں46فیصدکم رہی.

مقامی گاڑیوںکی فروخت میںکمی کی ایک اوربڑی وجہ پنجاب حکومت کی ٹیکسی اسکیم کے آرڈرزکی تکمیل وقیمت بڑھنے سے قبل کی جانے والی خریداری بھی ہے،رپورٹ. فائل فوٹو

استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر درآمد کے باعث مقامی سطح پر تیارکردہ گاڑیوں کی فروخت متاثرہورہی ہے،جولائی کے مہینے میںمجموعی طور پر10ہزار435 کاریںبشمول لائٹ کمرشل وین اورجیپیں فروخت کی گئیں جوگزشتہ13ماہ کے دوران کسی بھی مہینے میںگاڑیوں کی کم ترین فروخت ہے۔

نئی گاڑیوںکی فروخت جولائی2011کے مقابلے میں 41 فیصد اورجون 2012کے مقابلے میں46فیصدکم رہی، فروخت میںکمی کی ایک اوربڑی وجہ پنجاب حکومت کی ٹیکسی اسکیم کے آرڈرزکی تکمیل اورگاڑیوں کی قیمت بڑھنے سے قبل کی جانے والی خریداری ہے،گزشتہ سال بجٹ میںایکسائز اورٹیکس میں کمی کے سبب جون کی فروخت کم جبکہ جولائی کی فروخت زیادہ رہی تھی،پاک سوزوکی کی فروخت جولائی 2012میں 5615یونٹس رہی جوجون 2012کے مقابلے میں51فیصد اور جون 2011کے مقابلے میں 53فیصد کم تھی۔


انڈس موٹر نے جولائی 2012 میں 3087یونٹس فروخت کیے جو جون 2012کے 5570یونٹس کی فروخت سے 45فیصدکم رہی،انڈس کرولا کی فروخت جون 2012کے 4487یونٹس کے مقابلے میں جولائی 2012کے دوران 2464یونٹس رہی،ادھر جولائی 2012کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے ماہانہ اوسط میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7فیصد سے زائد اضافہ دیکھا جارہا ہے جومقامی آٹو انڈسٹری کیلیے باعث تشویش ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران 55ہزار 703کاریں درآمد کی گئیں جس کا ماہانہ اوسط 4641 کاریں رہا جبکہ رواں مالی سال جولائی کے مہینے میں 4982کاریں درآمدکی گئی ہیں،آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں درآمد کی جانے والی کاروں کی مالیت 2ارب 52کروڑ 44لاکھ روپے ہے جس پر کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ایک ارب 74کروڑ روپے ادا کیے گئے، جولائی کے مہینے میں کمرشل گاڑیوں، ٹرک ڈمپرز، وین اورپک اپ شامل کرکے گاڑیوں کی مجموعی درآمد 5314 یونٹس رہی جس کی مالیت 2ارب 95کروڑ 97لاکھ روپے اور کسٹم ڈیوٹی کی مالیت ایک ارب 83 کروڑ 82لاکھ روپے ادا کی گئی۔ گاڑیوں کی درآمدات میں اضافے سے مقامی آٹو انڈسٹری کو شدیددبائوکاسامناہے۔
Load Next Story