خفیہ فنڈز کا آڈٹ نہ کرنے پرآڈیٹر جنرل آفس سے وضاحت طلب

اٹارنی جنرل کاموقف مسترد،اطلاعات تک رسائی عوام کاحق ہے،سپریم کورٹ.

اٹارنی جنرل کاموقف مسترد،اطلاعات تک رسائی عوام کاحق ہے،سپریم کورٹ. فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈکے بارے میں اٹارنی جنرل کا موقف مسترد کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آفس سے وزارتوں کے خفیہ فنڈزکا آڈٹ نہ کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔

گزشتہ روز میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈکو عام نہ کرنے کا دفاع کیا اور جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کو بتایا کہ انڈین ایکٹ مجریہ 1935،1956،1962اور1973 کے آئین نے انتظامیہ کو بعض اخراجات خفیہ رکھنے کا اختیار دیا ہے، اٹارنی جنرل نے آئین کے آرٹیکل241کاحوالہ دیا اورکہا کہ اس شق کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہے۔




جسٹس جواد نے کہا اس آرٹیکل کا تعلق تو سرکاری ملازمین سے ہے اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ واقعی یہ آرٹیکل غیر متعلق ہے لیکن آرٹیکل99 نے تحفظ دیا ہوا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اس آرٹیکل کے تحت صرف ان اخراجات کو خفیہ رکھا جا سکتا ہے جنہیں خفیہ رکھنے کیلئے قانون بنایا گیا ہو، بتایا جائے وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈزکوکس قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ جسٹس جواد نے کہا فنڈزکے استعمال کو خفیہ رکھنے کا قانون انگریزوں نے بنایا تھا لیکن انگریزوں نے اپنا وطیرہ تبدیل کر دیا ہے اور ہم نے تبدیل نہ ہونے کی قسم کھائی ہے۔ فاضل جج نے کہا ہمارا آئین بہت آگے جا چکا ہے۔
Load Next Story