مفلس افراد کو منشیات اسمگلنگ کیلیے 30ہزار ڈالر ادا کیے جاتے ہیں
ڈرگ مافیا کے اراکین کچی اور متوسط طبقے کی آبادیوں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے کارندے منشیات اسمگلنگ کیلیے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی مفلسی اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فوٹو فائل
TEHRAN:
بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے کارندے منشیات اسمگلنگ کیلیے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی مفلسی اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں،ڈھائی سو سے تین سوگرام ہیروئن بیرون ملک اسمگل کرنے کے عوض 25 سے 30ہزار امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں،کسٹم اور دیگر قانون نافذکرنیوالے ادارے بھی اس میں ملوث ہیں۔
اسیران کی منتقلی کے معاہدے کے تحت سری لنکا سے پاکستانی جیلوں میں منتقل کیے جانیوالے قیدیوں نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرگ مافیا کے اراکین کچی اور متوسط طبقے کی آبادیوں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور منشیات کی بیرون ملک اسمگلنگ کیلیے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے انتہائی مفلس اور مجبور افراد کا انتخاب کرتے ہیں، انھیں اسمگلنگ کے عوض معقول رقم کی پیشکش کی جاتی ہے، ڈرگ مافیا کی زبان میں ایسے افراد کو کیریئر کہا جاتا ہے اور ان کا کام منشیات کے پیکٹ کو سری لنکا یا مشرق بعید کے کسی دوسرے ملک کے ایئرپورٹ سے باہر لانا ہوتا ہے جہاں بین الاقوامی مافیا کا کارندہ ان سے پیکٹ وصول کرلیتا ہے۔
بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے کارندے منشیات اسمگلنگ کیلیے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی مفلسی اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں،ڈھائی سو سے تین سوگرام ہیروئن بیرون ملک اسمگل کرنے کے عوض 25 سے 30ہزار امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں،کسٹم اور دیگر قانون نافذکرنیوالے ادارے بھی اس میں ملوث ہیں۔
اسیران کی منتقلی کے معاہدے کے تحت سری لنکا سے پاکستانی جیلوں میں منتقل کیے جانیوالے قیدیوں نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرگ مافیا کے اراکین کچی اور متوسط طبقے کی آبادیوں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور منشیات کی بیرون ملک اسمگلنگ کیلیے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے انتہائی مفلس اور مجبور افراد کا انتخاب کرتے ہیں، انھیں اسمگلنگ کے عوض معقول رقم کی پیشکش کی جاتی ہے، ڈرگ مافیا کی زبان میں ایسے افراد کو کیریئر کہا جاتا ہے اور ان کا کام منشیات کے پیکٹ کو سری لنکا یا مشرق بعید کے کسی دوسرے ملک کے ایئرپورٹ سے باہر لانا ہوتا ہے جہاں بین الاقوامی مافیا کا کارندہ ان سے پیکٹ وصول کرلیتا ہے۔