کرکٹ کمیٹی ٹم مے کی چھٹی کرانے کیلیے 2 مرتبہ ووٹنگ

کپتانوں کو سابق بھارتی اسپنرکو ووٹ دینے پر مجبور کیا (آسٹریلوی میڈیا)آئی سی سی سب سے غیرموثر اسپورٹس باڈی ہے، اے سی اے

بی سی سی آئی کی دولت انٹرنیشنل کونسل پر اثرانداز ہورہی ہے (راناٹنگا)ہمارے دبائو پر دوسری مرتبہ ووٹنگ نہیں ہوئی، بھارتی کرکٹ بورڈ کی وضاحت۔ فوٹو: فائل

آئی سی سی کرکٹ کمیٹی سے ٹم مے کی چھٹی کرانے کیلیے 2 مرتبہ ووٹنگ کا انکشاف ہوا ہے۔

آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیاکہ پہلی باری میں جو ووٹنگ ہوئی اس میں ٹم مے ایک کے مقابلے میں 9 ووٹ لے کر منتخب ہوئے، مگر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دبائو پر دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی جس میں 5 ممبربورڈز نے اپنے کپتانوں کو بھارت کے سابق لیگ اسپنر سیواراما کرشنن کو ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کودنیا کی سب سے غیرموثر اسپورٹس باڈی قرار دے دیا ہے۔ اے سی اے کے چیف ایگزیکیو پال مارش نے کہاکہ یہ کرکٹ کیلیے افسوس کا مقام ہے، یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتاکہ کرکٹ میں کیا کچھ غلط ہورہا ہے، عام طور پر یہ خیال کیا جاتا کہ آئی سی سی خود بھی اخلاقیات پر اتنا ہی کاربند رہتی ہے جتنا وہ اپنے پلیئرز سے مطالبہ کرتی ہے لیکن ایسا سمجھنا درست نہیں، یہ دنیاکی سب سے غیرموثر اسپورٹس باڈی ہے۔




دریں اثنا سری لنکا کے سابق کپتان ارجنا رانا ٹنگا نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی دولت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر اثرانداز ہورہی ہے ، آئی سی سی کا کام کرکٹ کی حفاظت ہے، وہ کسی ایک کی حمایت نہیں کرسکتی،انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ کو بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے ،ٹاپ پلیئرز نے دولت کی خاطر ٹیسٹ میچز تک کھیلنے سے انکار کردیا۔

علاوہ ازیں بھارتی کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کمیٹی کے ممبر کیلیے دوسری بار ووٹنگ کا فیکا کا الزام مسترد کردیا۔ آسٹریلوی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پہلے ٹم مے9-1 سے کامیاب ہوئے مگر بی سی سی آئی کے دبائو پر دوبارہ ووٹنگ کرکے سیواراما کرشنن کو منتخب کیا گیا۔ بی سی سی آئی کے ایک ٹاپ عہدیدار کا کہنا ہے کہ جوکچھ ہوااس پر آئی سی سی کو ردعمل دینا چاہیے، یہ ہمارا معاملہ ہے ہی نہیں ، ہمارے دبائو پر دوسری مرتبہ ووٹنگ نہیں ہوئی،ویسے بھی بی سی سی آئی کپتانوں سے بات کیوں کرے گا اور غیرملکی کپتان کہاں ہماری بات سننے والے ہیں، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں یہ خالصتاً انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا معاملہ ہے۔
Load Next Story