جماعت اسلامی اور ن لیگ کی درخواست پرالیکشن کمیشن و دیگر کو نوٹس
عدالت نے NA-248میں فوج کی تعیناتی سے متعلق نبیل گبول کی درخواست نمٹادی
عمران خان کے غیرشعوری طور پر اداکیے گئے لفظوں پر مشتمل اشتہار کی اشاعت پر حکم امتناع۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی جانب سے این اے251میں متعصب انتخابی عملے کی تعیناتی اورنوگوایریاز میں پولنگ اسٹیشنوں کے قیام کے خلاف مشترکہ آئینی درخواست پرالیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی الیکشن کمیشن و دیگر کو 9مئی کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
درخواست میں حساس پولنگ اسٹیشنزاور انکے بوتھ پر فوج تعینات کرنے کی استدعا کی گئی ہے، یاسین آزاد ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں این اے 251اورپی ایس115سے جماعت اسلامی کے امیدواروں زاہد سعیداور عبدالغفار عمر،پی ایس 114سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار عرفان اللہ مروت نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاکہ درخواست گزاروں کو انتخابی مہم چلانے سے روکا جارہا ہے، حلقہ میں شامل کئی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے اور متاثرہ علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کردیے گئے ہیں جن میں محمود آباد،جٹ لائن اور ابی سینیا لائن بھی شامل ہیں،ان علاقوں میں پولنگ عملہ،ووٹرز اورپولنگ ایجنٹس کو بھی خطرہ ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (جمعرات) کو جواب طلب کرلیا، دریں اثناء سندھ ہائیکوٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے این اے248لیاری میں فوج کی تعیناتی کیلیے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار نبیل گبول کی درخواست نمٹاتے ہوئے قانون نافذکرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حلقہ میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، اسی بینچ نے مسلم لیگ نون کی جانب سے عمران خان کی زبان پھسل جانے کے باعث ادا ہونیوالے الفاظ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیخلاف آئینی درخواست پر عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مدعاعلیہان کو جمعرات کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
درخواست میں حساس پولنگ اسٹیشنزاور انکے بوتھ پر فوج تعینات کرنے کی استدعا کی گئی ہے، یاسین آزاد ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں این اے 251اورپی ایس115سے جماعت اسلامی کے امیدواروں زاہد سعیداور عبدالغفار عمر،پی ایس 114سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار عرفان اللہ مروت نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاکہ درخواست گزاروں کو انتخابی مہم چلانے سے روکا جارہا ہے، حلقہ میں شامل کئی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے اور متاثرہ علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کردیے گئے ہیں جن میں محمود آباد،جٹ لائن اور ابی سینیا لائن بھی شامل ہیں،ان علاقوں میں پولنگ عملہ،ووٹرز اورپولنگ ایجنٹس کو بھی خطرہ ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (جمعرات) کو جواب طلب کرلیا، دریں اثناء سندھ ہائیکوٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے این اے248لیاری میں فوج کی تعیناتی کیلیے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار نبیل گبول کی درخواست نمٹاتے ہوئے قانون نافذکرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حلقہ میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، اسی بینچ نے مسلم لیگ نون کی جانب سے عمران خان کی زبان پھسل جانے کے باعث ادا ہونیوالے الفاظ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیخلاف آئینی درخواست پر عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مدعاعلیہان کو جمعرات کے لیے نوٹس جاری کردیے۔