بلدیاتی ملازمین تنخواہ سے محروم مالی مشکلات میں اضافہ ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں

ذرائع نے بتایا کہ فرحان درانی نے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کیلیے اس...

ٹھیکیداروں کو 30کروڑ روپے سے زائد ادا کردیے گئے، صوبائی محکمہ بلدیات تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا نوٹس لے، ملازمین

بلدیہ عظمیٰ کے ملازمین کو تاحال جولائی کی تنخواہیں ادا نہ کی جاسکیں، ملازمین نے صوبائی محکمہ بلدیات سے اپیل کی ہے کہ وہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا نوٹس لیں اور یہ معلوم کیا جائے، تین ماہ میں ٹھیکیداروں کو کتنی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

تفصیلات بلدیہ عظمیٰ کے افسران وملازمین کو ماہ جولائی کی تنخواہیں تاحال ادا نہ ہوسکی ہیں جس پر ادارے کے افسران وملازمین میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے، ان ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کو گذشتہ دنوں میں کم وبیش30کروڑ سے زائد کی ادائیگیاں کی گئی ہیں اگر بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ چاہتی تو اس رقم سے ملازمین کی کافی بڑی تعداد کو تنخواہوں کی ادائیگی کرسکتی تھی تاہم بلدیہ عظمیٰ کے کرپٹ افسران نے بھاری کمیشن کے عوض رمضان اور عید کے موقع پر ملازمین کی خوشیوں کو قتل کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو تقریباً 30کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ اس سارے معاملے کا مرکزی کردار فنانس ڈپارٹمنٹ کا ایک آفیسر فرحان درانی ہے جو کہ ادارے کے ہر ایڈمنسٹریٹر کا قریب ترین آفیسر شمار ہوتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ فرحان درانی نے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کیلیے اس مرتبہ ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کو تمام ادائیگیاں 30جون سے قبل کی تاریخ میں کی جارہی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فرحان درانی نے یہ سارا عمل اپنے اعلیٰ افسران کی مکمل پشت پناہی پر کیا ہے، ادارے کے افسران وملازمین نے نیب اور اینٹی کرپشن کے افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ فنانس کا سارا ریکارڈ اپنے قبضے میں لیکر فرحان درانی کو شامل تفتیش کریں تو محکمہ فنانس کے متعدد افسران محکمے میں ہونے والی بے قاعدگیوں خصوصاً جعلی بلوں کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں کے حوالے سے شواہد پیش کرنے اور گواہ بننے کو بھی تیار ہیں۔

ملازمین نے حکومت سندھ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گذشتہ تین ماہ کے دوراں ٹھیکیداروں کو ہونے والی ادائیگیوں کی تفصیلات حاصل کرے تاکہ معلوم ہوسکے مالی بحران کے پروپیگنڈے کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں،ادارے کے افسران و ملازمین نے کراچی کے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے ہر سطح پر آواز بلند کریں۔
Load Next Story