لبرل کے خلاف پروپیگنڈہ
کراچی جو انتخابات کے موقعے پر24گھنٹے جاگنے اور جگانے والا شہر تھا سرشام ہی ویرانیوں سناٹوں کا شہر خموشاں بن رہا ہے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
11 مئی کے الیکشن اس حوالے سے اس لیے منفرد ہیں کہ یہ الیکشن صرف پنجاب میں لڑے جارہے ہیں۔ سارا پنجاب میں جلسے جلوسوں کی گہما گہمی ہے اور سندھ، پختونخوا اور بلوچستان گولیوں گولوں بموں بارودی دھماکوں کی بھیانک آوازوں خوف ودہشت کے ماحول میں سہمے ہر روز مرنے والے کے جنازے اٹھاتے نظر آرہے ہیں۔
پنجاب میں بے خوف و خطر لاکھوں عوام سیاسی جماعتوں کے جلسوں جلوسوں میں شریک ہورہے ہیں اور دوسرے تینوں صوبوں میں دہشت زدہ عوام گلی محلوں میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں میں بھی جانے سے کترا رہے ہیں کہ کارنر میٹنگیں بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں بڑوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور یہ دہشت گرد جو انتخابات جمہوریت حکومت سب کو کفر کہہ رہے ہیں۔
کراچی جو انتخابات کے موقعے پر چوبیس گھنٹے جاگنے اور جگانے والا شہر تھا سرشام ہی ویرانیوں سناٹوں کا شہر خموشاں بن رہا ہے۔ عوام حیرت اور خوف سے پنجاب اور دوسرے تین صوبوں میں کفر کے الگ الگ معیار کو دیکھ رہے ہیں اور اس نئے اسلام سے خوفزدہ ہورہے ہیں ۔ان الیکشن کی دوسری انفرادیت یہ ہے کہ اس الیکشن میں ایک منفرد سیاسی رہنما پنجاب کے حکمران میاں برادران کے سامنے خم ٹھونکے کھڑا ہے اور میاں برادران کی سیاست کے ایسے پرخچے اڑا رہا ہے کہ میاں برادران کی بولتی بند ہوگئی ہے۔
اس دلچسپ مقابلاتی فضا میں مقابلے کا عالم یہ ہے کہ کوئی کراچی سے لاہور تک ایسی بلٹ ٹرین چلا رہا ہے جو سات گھنٹوں میں ہوا میں اڑتے ہوئے کراچی سے لاہور پہنچ جائے گی تو کوئی پاکستان کے سیکڑوں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے عوام کو بیانات کے جادو سے پلک جھپکتے میں ایک قوم میں بدل دینے کا مژدہ سنا رہا ہے۔ کوئی زور خطابت میں کابل سے گوادر تک موٹروے بنارہا ہے تو کوئی چھو منتر کے ذریعے دہرے نظام تعلیم کو منٹوں میں ایسا اکہرا نظام تعلیم بنا رہا ہے جس میں لانڈھی، کورنگی کے میلے کچیلے بچے ڈیفنس کلفٹن کے دودھ میں دھلے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے۔
کوئی گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو دو سال میں نجات دلانے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسرا اپنے جواب دعویٰ میں چند ماہ میں عوام کو گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کا وعدہ کرتا نظر آرہا ہے۔ کوئی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی عوام کے درمیان رہے گا تو دوسرا تمام فیصلوں حتیٰ کے خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار بھی عوام کو دے رہا ہے، کوئی مہنگائی، بے روزگاری کے عذاب سے عوام کو پلک جھپکتے میں نجات دلانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔
غرض وعدوں اور دعوؤں کا ایک ایسا مقابلہ ہورہا ہے جس میں بے چارے عوام ایسے گم ہیں کہ خود ان کو اپنی خبر نہیں۔ کاش! یہ بھولے بادشاہ (عوام) ان دھوکے بازوں ان عیاروں کی تقاریر بیانات ریکارڈ کرکے رکھ لیتے کہ انتخابات کے بعد یہ ریکارڈنگ ان کے خوبصورت خوابوں کا آئینہ بن جاتی اور اس آئینے میں وہ اپنے انقلابی رہنماء کے بدنما چہرے دیکھ سکتے۔ منور حسن صاحب کے بارے میں یہ تاثر رہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور متوازن رہنما ہیں لیکن کراچی کے 5 مئی کے جلسے میں موصوف نے یہ کہہ کر کہ ''خود کو لبرل کہنے والے اپنا نام اقلیتوں میں درج کرائی'' ایک ایسا بارودی دھماکا کیا ہے کہ اس کی آواز سے اٹھارہ کروڑ عوام کے کان سن ہوگئے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ دہشت گردوں کی مہربانی سے منعقد ہونے والے اس بڑے ہجوم کو دیکھ کر منور حسن اعتدال کی پٹری سے اتر گئے ہوں لیکن ہم بڑے ادب سے انھیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ان ہی لبرلز کی خوشامد کرکے انھیں اپنی اے پی سیوں میں بلانے اور ان کے برابر بیٹھ کر فخر کرنے والے یہ بزرگ کس زبان سے ان لبرلز کو اپنا نام اقلیتوں میں درج کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں؟ کیا منورحسن اور ان کے محترم ساتھی یہ بھول گئے ہیں کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ لبرل اور روشن خیال عوام نے 65 سالوں سے ان مقدس بزرگوں کو سیاسی اقلیتی (دلت) بنا کر رکھا اور باوجود دہشت گردوں کی پشت پناہی کے پاکستان کے عوام انھیں 11 مئی کو ایک بار پھر سیاسی دلت بنا دیں گے۔
پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بھوکوں کے ہاتھ کاٹنے اور ننگوں کے سر کاٹنے والے اور پیغمبر اسلام کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے نمونہ کہنے والے لوگ عوام سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ پیغمبر اسلام نہ زرعی زمین کے مالک تھے نہ سرمایہ دار تھے۔ انھوں نے تو اپنی ساری زندگی کچے کمروں کے مکان اور مسجد کے صحن میں فقروفاقے کے ساتھ گزاری، کیا یہ اسلام کے نام لیوا اپنی زندگیوں کا موازنہ پیغمبر اسلام کی زندگی سے کرسکتے ہیں؟ یہ مقدس لوگ اتباع رسول میں جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام کے خلاف تحریکیں کیوں نہیں چلاتے۔ ان لوگوں کو اپنا نام اقلیتوں میں درج کرانے کا حکم کیوں دے رہے ہیں جو جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عشروں سے بھوکے پیٹ لڑ رہے ہیں؟ اس بات کی ضرورت ہے کہ لبرلز اور سیکولرز کے خلاف پروپیگنڈے کی حقیقت سے عوام آگاہ ہوں۔
دوسری جنگ کے بعد جب امریکا نے ایک نئے سامراج کی جگہ سنبھالی تو اس کے سامنے روس، چین سمیت پورا سوشلسٹ بلاک سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک منصفانہ اقتصادی نظام لیے کھڑا تھا اور دنیا بھر کے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے ستائے ہوئے لوگ تیزی کے ساتھ سوشلسٹ نظام کی طرف کھنچے چلے جارہے تھے اور دنیا کا 1/3 حصہ اس نئے نظام کے زیر سایہ آگیا تھا خاص طور پر پسماندہ ملکوں کے عوام اس نظام سے غیر معمولی طور پر متاثر ہورہے تھے۔
سامراجی ملکوں کے پاس اس کا کوئی توڑ تھا نہ نعم البدل، سو سرمایہ دارانہ نظام کے منصوبہ سازوں نے یہ آسان اور تیر بہدف نسخہ ایجاد کیا کہ ''لبرلزم اور سیکولرزم لادینیت ہے جو عوام سے ان کا مذہب چھین لے گا''۔ چونکہ لبرل اور سیکولر ہی امریکا اور اس کے حواریوں کے سب سے بڑے مخالف تھے اس لیے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ان پر لادینیت کا بہتان لگاکر انھیں عوام سے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن ان عوام دشمنوں کی یہ سازش ناکام ہوئی اور ان لبرل اور سیکولر لوگوں کی بات اور نعرے اس قدر مقبول اور موثر ثابت ہوئے کہ آج امریکا کے ازلی غلام امریکا مردہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ سامراجیوں کے پرانے ہتھیار ''لبرلزم اور سیکولرزم'' کو استعمال کرکے عوامی سیاست کرنے والوں کو بدنام کرنے کی احمقانہ کوشش بھی کر رہے ہیں۔
اگر عوام اس سازش کو نہ سمجھ سکے تو وہ ایسے اندھیروں میں بھٹک جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ مذہب کے علمبردار اپنے مذہب سے محبت کرتے ہیں دوسرے مذاہب سے نفرت کا درس دیتے ہیں جب کہ لبرلز اپنے مذہب سے محبت کے ساتھ دوسرے مذاہب اور ان کے ماننے والوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان محبت، رواداری، بھائی چارے کی ترغیب دیتے ہیں یہی فرق ہے دائیں اور بائیں کے درمیان۔
پنجاب میں بے خوف و خطر لاکھوں عوام سیاسی جماعتوں کے جلسوں جلوسوں میں شریک ہورہے ہیں اور دوسرے تینوں صوبوں میں دہشت زدہ عوام گلی محلوں میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں میں بھی جانے سے کترا رہے ہیں کہ کارنر میٹنگیں بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں بڑوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور یہ دہشت گرد جو انتخابات جمہوریت حکومت سب کو کفر کہہ رہے ہیں۔
کراچی جو انتخابات کے موقعے پر چوبیس گھنٹے جاگنے اور جگانے والا شہر تھا سرشام ہی ویرانیوں سناٹوں کا شہر خموشاں بن رہا ہے۔ عوام حیرت اور خوف سے پنجاب اور دوسرے تین صوبوں میں کفر کے الگ الگ معیار کو دیکھ رہے ہیں اور اس نئے اسلام سے خوفزدہ ہورہے ہیں ۔ان الیکشن کی دوسری انفرادیت یہ ہے کہ اس الیکشن میں ایک منفرد سیاسی رہنما پنجاب کے حکمران میاں برادران کے سامنے خم ٹھونکے کھڑا ہے اور میاں برادران کی سیاست کے ایسے پرخچے اڑا رہا ہے کہ میاں برادران کی بولتی بند ہوگئی ہے۔
اس دلچسپ مقابلاتی فضا میں مقابلے کا عالم یہ ہے کہ کوئی کراچی سے لاہور تک ایسی بلٹ ٹرین چلا رہا ہے جو سات گھنٹوں میں ہوا میں اڑتے ہوئے کراچی سے لاہور پہنچ جائے گی تو کوئی پاکستان کے سیکڑوں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے عوام کو بیانات کے جادو سے پلک جھپکتے میں ایک قوم میں بدل دینے کا مژدہ سنا رہا ہے۔ کوئی زور خطابت میں کابل سے گوادر تک موٹروے بنارہا ہے تو کوئی چھو منتر کے ذریعے دہرے نظام تعلیم کو منٹوں میں ایسا اکہرا نظام تعلیم بنا رہا ہے جس میں لانڈھی، کورنگی کے میلے کچیلے بچے ڈیفنس کلفٹن کے دودھ میں دھلے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے۔
کوئی گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو دو سال میں نجات دلانے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسرا اپنے جواب دعویٰ میں چند ماہ میں عوام کو گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کا وعدہ کرتا نظر آرہا ہے۔ کوئی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی عوام کے درمیان رہے گا تو دوسرا تمام فیصلوں حتیٰ کے خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار بھی عوام کو دے رہا ہے، کوئی مہنگائی، بے روزگاری کے عذاب سے عوام کو پلک جھپکتے میں نجات دلانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔
غرض وعدوں اور دعوؤں کا ایک ایسا مقابلہ ہورہا ہے جس میں بے چارے عوام ایسے گم ہیں کہ خود ان کو اپنی خبر نہیں۔ کاش! یہ بھولے بادشاہ (عوام) ان دھوکے بازوں ان عیاروں کی تقاریر بیانات ریکارڈ کرکے رکھ لیتے کہ انتخابات کے بعد یہ ریکارڈنگ ان کے خوبصورت خوابوں کا آئینہ بن جاتی اور اس آئینے میں وہ اپنے انقلابی رہنماء کے بدنما چہرے دیکھ سکتے۔ منور حسن صاحب کے بارے میں یہ تاثر رہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور متوازن رہنما ہیں لیکن کراچی کے 5 مئی کے جلسے میں موصوف نے یہ کہہ کر کہ ''خود کو لبرل کہنے والے اپنا نام اقلیتوں میں درج کرائی'' ایک ایسا بارودی دھماکا کیا ہے کہ اس کی آواز سے اٹھارہ کروڑ عوام کے کان سن ہوگئے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ دہشت گردوں کی مہربانی سے منعقد ہونے والے اس بڑے ہجوم کو دیکھ کر منور حسن اعتدال کی پٹری سے اتر گئے ہوں لیکن ہم بڑے ادب سے انھیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ان ہی لبرلز کی خوشامد کرکے انھیں اپنی اے پی سیوں میں بلانے اور ان کے برابر بیٹھ کر فخر کرنے والے یہ بزرگ کس زبان سے ان لبرلز کو اپنا نام اقلیتوں میں درج کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں؟ کیا منورحسن اور ان کے محترم ساتھی یہ بھول گئے ہیں کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ لبرل اور روشن خیال عوام نے 65 سالوں سے ان مقدس بزرگوں کو سیاسی اقلیتی (دلت) بنا کر رکھا اور باوجود دہشت گردوں کی پشت پناہی کے پاکستان کے عوام انھیں 11 مئی کو ایک بار پھر سیاسی دلت بنا دیں گے۔
پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بھوکوں کے ہاتھ کاٹنے اور ننگوں کے سر کاٹنے والے اور پیغمبر اسلام کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے نمونہ کہنے والے لوگ عوام سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ پیغمبر اسلام نہ زرعی زمین کے مالک تھے نہ سرمایہ دار تھے۔ انھوں نے تو اپنی ساری زندگی کچے کمروں کے مکان اور مسجد کے صحن میں فقروفاقے کے ساتھ گزاری، کیا یہ اسلام کے نام لیوا اپنی زندگیوں کا موازنہ پیغمبر اسلام کی زندگی سے کرسکتے ہیں؟ یہ مقدس لوگ اتباع رسول میں جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام کے خلاف تحریکیں کیوں نہیں چلاتے۔ ان لوگوں کو اپنا نام اقلیتوں میں درج کرانے کا حکم کیوں دے رہے ہیں جو جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عشروں سے بھوکے پیٹ لڑ رہے ہیں؟ اس بات کی ضرورت ہے کہ لبرلز اور سیکولرز کے خلاف پروپیگنڈے کی حقیقت سے عوام آگاہ ہوں۔
دوسری جنگ کے بعد جب امریکا نے ایک نئے سامراج کی جگہ سنبھالی تو اس کے سامنے روس، چین سمیت پورا سوشلسٹ بلاک سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک منصفانہ اقتصادی نظام لیے کھڑا تھا اور دنیا بھر کے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے ستائے ہوئے لوگ تیزی کے ساتھ سوشلسٹ نظام کی طرف کھنچے چلے جارہے تھے اور دنیا کا 1/3 حصہ اس نئے نظام کے زیر سایہ آگیا تھا خاص طور پر پسماندہ ملکوں کے عوام اس نظام سے غیر معمولی طور پر متاثر ہورہے تھے۔
سامراجی ملکوں کے پاس اس کا کوئی توڑ تھا نہ نعم البدل، سو سرمایہ دارانہ نظام کے منصوبہ سازوں نے یہ آسان اور تیر بہدف نسخہ ایجاد کیا کہ ''لبرلزم اور سیکولرزم لادینیت ہے جو عوام سے ان کا مذہب چھین لے گا''۔ چونکہ لبرل اور سیکولر ہی امریکا اور اس کے حواریوں کے سب سے بڑے مخالف تھے اس لیے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ان پر لادینیت کا بہتان لگاکر انھیں عوام سے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن ان عوام دشمنوں کی یہ سازش ناکام ہوئی اور ان لبرل اور سیکولر لوگوں کی بات اور نعرے اس قدر مقبول اور موثر ثابت ہوئے کہ آج امریکا کے ازلی غلام امریکا مردہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ سامراجیوں کے پرانے ہتھیار ''لبرلزم اور سیکولرزم'' کو استعمال کرکے عوامی سیاست کرنے والوں کو بدنام کرنے کی احمقانہ کوشش بھی کر رہے ہیں۔
اگر عوام اس سازش کو نہ سمجھ سکے تو وہ ایسے اندھیروں میں بھٹک جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ مذہب کے علمبردار اپنے مذہب سے محبت کرتے ہیں دوسرے مذاہب سے نفرت کا درس دیتے ہیں جب کہ لبرلز اپنے مذہب سے محبت کے ساتھ دوسرے مذاہب اور ان کے ماننے والوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان محبت، رواداری، بھائی چارے کی ترغیب دیتے ہیں یہی فرق ہے دائیں اور بائیں کے درمیان۔