الیکشن2013سیاسی جماعتوں نے پکوان ہاؤسز میں آرڈرز بک کرا دیے
سرکاری ملازمین اورمحافظوں کیلیے کھانے کے آرڈرکیٹرنگ کمپنیوں کواور کارکنوں کے کھانے کے آرڈر عام باورچیوں کو دیے گئے ہیں
سرکاری ملازمین اورمحافظوں کیلیے کھانے کے آرڈرکیٹرنگ کمپنیوں کواور کارکنوں کے کھانے کے آرڈر عام باورچیوں کو دیے گئے ہیں. فوٹو : فائل
سیاسی جماعتوں نے شہر کے بڑے پکوان ہاؤسز کو 11مئی کیلیے بڑے آرڈرز بک کرادیے ہیں، انتخابی سرگرمیوں میں شریک سیاسی ورکرز اور سپورٹرز کے علاوہ الیکشن کے عمل میں فرائض انجام دینے والے سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کھانے پینے کے آرڈرز دیے جانے سے بدامنی کے سبب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے بیشتر پکوان سینٹرز فعال ہوگئے ہیں۔
سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنے ووٹرز اور حامیوں کے لیے بھی کھانے پینے کا بندوبست کرنے میں مصروف ہیں جس کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم پکوان سینٹرز کو آرڈر دے دیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں اور الیکشن کے دوران فرائض انجام دینے والے سرکاری ملازمین کے لیے کھانے پینے کے آرڈرز زیادہ تر بڑی کیٹرنگ سروس کمپنیوں کو دیے گئے ہیں، مارکیٹ ذرائع کے مطابق2روز کے دوران جوڑیا بازار، واٹر پمپ، قصبہ علیگڑھ مارکیٹ اور لانڈھی کے تھوک بازاروں سے بڑے پیمانے پر چاول، گھی تیل اور مصالحہ جات کی خریداری کی گئی ہے۔
یہ خریداری زیادہ تر 11مئی کے آرڈرز کی تکمیل کیلیے کی گئی ہے اسی طرح مرغی اور گائے بچھیا کے گوشت کی خریداری کے بھی بڑے آرڈرز دیے گئے ہیں، ناظم آباد دو نمبر میں واقع ایک پکوان سینٹر کے مالکان کے مطابق الیکشن کیلیے 95فیصد بریانی کے آرڈرز دیے گئے جس میں زیادہ تر مرغی کے گوشت کی بریانی کے آرڈرز شامل ہیں، پکوان سینٹر مالکان کے مطابق انتخابات کے دن کیلیے ملنے والے آرڈرز کے علاوہ پوری انتخابی مہم کے دوران کاروبار نہ ہونے کے برابر رہا اور 2008کے انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ کاروباری سرگرمیاں 80فیصد تک کم رہیں۔
پکوان سینٹرز کو بریانی 250گرام اور 500گرام کی پیکنگ میں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ انتخابی عمل میں شریک سیاسی ورکرز، سپورٹرز کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی دفاتر پر ہی کھانا فراہم کیا جاسکے۔
سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنے ووٹرز اور حامیوں کے لیے بھی کھانے پینے کا بندوبست کرنے میں مصروف ہیں جس کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم پکوان سینٹرز کو آرڈر دے دیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں اور الیکشن کے دوران فرائض انجام دینے والے سرکاری ملازمین کے لیے کھانے پینے کے آرڈرز زیادہ تر بڑی کیٹرنگ سروس کمپنیوں کو دیے گئے ہیں، مارکیٹ ذرائع کے مطابق2روز کے دوران جوڑیا بازار، واٹر پمپ، قصبہ علیگڑھ مارکیٹ اور لانڈھی کے تھوک بازاروں سے بڑے پیمانے پر چاول، گھی تیل اور مصالحہ جات کی خریداری کی گئی ہے۔
یہ خریداری زیادہ تر 11مئی کے آرڈرز کی تکمیل کیلیے کی گئی ہے اسی طرح مرغی اور گائے بچھیا کے گوشت کی خریداری کے بھی بڑے آرڈرز دیے گئے ہیں، ناظم آباد دو نمبر میں واقع ایک پکوان سینٹر کے مالکان کے مطابق الیکشن کیلیے 95فیصد بریانی کے آرڈرز دیے گئے جس میں زیادہ تر مرغی کے گوشت کی بریانی کے آرڈرز شامل ہیں، پکوان سینٹر مالکان کے مطابق انتخابات کے دن کیلیے ملنے والے آرڈرز کے علاوہ پوری انتخابی مہم کے دوران کاروبار نہ ہونے کے برابر رہا اور 2008کے انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ کاروباری سرگرمیاں 80فیصد تک کم رہیں۔
پکوان سینٹرز کو بریانی 250گرام اور 500گرام کی پیکنگ میں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ انتخابی عمل میں شریک سیاسی ورکرز، سپورٹرز کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی دفاتر پر ہی کھانا فراہم کیا جاسکے۔