ضلع وسطی میں بڑی تعداد میں پریزائیڈنگ افسران تبدیل
صوبائی الیکشن کمیشن نے انتخابات سے صرف دوروز قبل پولنگ اسکیم میں تبدیلی کی.
اسٹیل مل اور دیگر محکموں سے آنیوالے افسران کی تربیت مکمل نہ ہونے سے مسائل جنم لیں گے۔ فوٹو: فائل. فوٹو: فائل
صوبائی الیکشن کمیشن نے انتخابات سے صرف دو روز قبل ضلع وسطی میں پولنگ اسکیم میں تبدیلی کردی۔
جس کے باعث انتخابی سرگرمی متاثر ہوگئی، مختلف سیاسی جماعتوںکی درخواست پر سندھ الیکشن کمیشن نے ضلع وسطی کے انتخابی حلقوں میں تعینات صوبا ئی حکومت اوربلدیاتی ملازمین کی بڑی تعداد کا ٹرانسفر کرکے وفاقی حکومت سے تعلق رکھنے ملازمین کو پریزائیڈنگ افسران مقررکردیا ،صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کی قلت کا مسئلہ تھا لہٰذا چند حلقوں میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو پریزائیڈنگ افسران مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کو اعتراض تھا کہ پریزائیڈنگ افسران کی تقرری میں جانبداری برتی گئی ہے اور بڑی تعداد میںصوبائی حکومت اور دیگر بلدیاتی افسران کو پریزائیڈنگ افسران مقرر کیا گیا جس سے بوگس ووٹنگ کو تقویت مل سکتی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے اس اعتراض کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام کو خط ارسال کیا کہ پورے ملک میں پریزائیڈنگ افسران کی تقرری کا مسئلہ شفاف بنیادوں پر کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام نے چیف الیکشن کمشنر کے خط کو نظرانداز کرتے ہوئے سندھ کے بجائے صرف کراچی میں انتخابات سے چند روز قبل پریزائیڈنگ افسران کی تبدیلی کی ہدایت جاری کی،اس موقع پر متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے صوبائی الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا کہ کراچی میں معقول تعداد میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو انتخابی عملے میں شامل کیا گیا ہے اور انتخابات سے چند روز قبل بڑے پیمانے پر تبدیلی ممکن نہیں ہے،ذرائع کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن کی ہدایت پرضلع وسطی میں واٹر بورڈ اورکے ایم سی سے تعلق رکھنے والے پریزائیڈنگ افسران کو تبدیل کرکے اسٹیل مل ودیگر وفاقی اداروں کے تقریبا 150ملازمین کو پریزائیڈنگ افسر تعینات کردیا گیا۔
صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے نمائندہ ایکسپریس کو بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کی قلت کے باعث صرف چند حلقوں میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ 1988کے حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے جس میں عام انتخابات میں 50-50 فیصد وفاقی وصوبائی حکومت کے ملازمین کو انتخابی عملے میں شامل کیا جانا ہے، ضلع وسطی میں نمائندہ ایکسپریس کے سروے میںانتخابی عملے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ انتخابات سے ایک ماہ قبل کرنا چاہیے تھا ، اب جب تمام عملے کی تربیت مکمل ہوچکی ہے، ڈیوٹیاں بھی سونپی جا چکی ہیں اور انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، اس موقع پر پریزائیڈنگ افسران کی تبدیلی سمجھ سے بالاتر ہے،انھوں نے بتایاکہ اسٹیل مل اور دیگر محکموں سے آنے والے پریزائیڈنگ افسران کی تربیت مکمل نہ ہونے کے باعث کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔
جس کے باعث انتخابی سرگرمی متاثر ہوگئی، مختلف سیاسی جماعتوںکی درخواست پر سندھ الیکشن کمیشن نے ضلع وسطی کے انتخابی حلقوں میں تعینات صوبا ئی حکومت اوربلدیاتی ملازمین کی بڑی تعداد کا ٹرانسفر کرکے وفاقی حکومت سے تعلق رکھنے ملازمین کو پریزائیڈنگ افسران مقررکردیا ،صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کی قلت کا مسئلہ تھا لہٰذا چند حلقوں میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو پریزائیڈنگ افسران مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کو اعتراض تھا کہ پریزائیڈنگ افسران کی تقرری میں جانبداری برتی گئی ہے اور بڑی تعداد میںصوبائی حکومت اور دیگر بلدیاتی افسران کو پریزائیڈنگ افسران مقرر کیا گیا جس سے بوگس ووٹنگ کو تقویت مل سکتی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے اس اعتراض کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام کو خط ارسال کیا کہ پورے ملک میں پریزائیڈنگ افسران کی تقرری کا مسئلہ شفاف بنیادوں پر کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام نے چیف الیکشن کمشنر کے خط کو نظرانداز کرتے ہوئے سندھ کے بجائے صرف کراچی میں انتخابات سے چند روز قبل پریزائیڈنگ افسران کی تبدیلی کی ہدایت جاری کی،اس موقع پر متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے صوبائی الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا کہ کراچی میں معقول تعداد میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو انتخابی عملے میں شامل کیا گیا ہے اور انتخابات سے چند روز قبل بڑے پیمانے پر تبدیلی ممکن نہیں ہے،ذرائع کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن کی ہدایت پرضلع وسطی میں واٹر بورڈ اورکے ایم سی سے تعلق رکھنے والے پریزائیڈنگ افسران کو تبدیل کرکے اسٹیل مل ودیگر وفاقی اداروں کے تقریبا 150ملازمین کو پریزائیڈنگ افسر تعینات کردیا گیا۔
صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے نمائندہ ایکسپریس کو بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کی قلت کے باعث صرف چند حلقوں میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ 1988کے حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے جس میں عام انتخابات میں 50-50 فیصد وفاقی وصوبائی حکومت کے ملازمین کو انتخابی عملے میں شامل کیا جانا ہے، ضلع وسطی میں نمائندہ ایکسپریس کے سروے میںانتخابی عملے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ انتخابات سے ایک ماہ قبل کرنا چاہیے تھا ، اب جب تمام عملے کی تربیت مکمل ہوچکی ہے، ڈیوٹیاں بھی سونپی جا چکی ہیں اور انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، اس موقع پر پریزائیڈنگ افسران کی تبدیلی سمجھ سے بالاتر ہے،انھوں نے بتایاکہ اسٹیل مل اور دیگر محکموں سے آنے والے پریزائیڈنگ افسران کی تربیت مکمل نہ ہونے کے باعث کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔