آبی بحران کے عالمی حل کی ضرورت
حالیہ بارشوں اور گلیشئر کے پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر بیس لاکھ ایکڑفٹ سے تجاوز کرگئے ہیں۔
حالیہ بارشوں اور گلیشئر کے پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر بیس لاکھ ایکڑفٹ سے تجاوز کرگئے ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ
نگراں وزیرخارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ دہشتگردی اب بھی بڑا چیلنج ہے، پشاور، بنوں اور مستونگ میں حالیہ دھماکوں نے ثابت کیا کہ دہشتگردی کے خلاف مزیدکچھ کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا تیزی سے فوجی الائنس کے بجائے تجارتی اتحاد کی جانب جارہی ہے، ہمیں بہتری کی طرف بڑھنے کے لیے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا جس میں لوگوں کی سماجی و اقتصادی بہتری سر فہرست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ غیرفعال ہوچکا ہے، پاکستان اور بھارت کوآبی بحران کا معاملہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ فکر انگیز گفتگو وزیر خارجہ نے بدھ کو سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام''پاکستان کی خارجہ پالیسی:چیلنجز اورمواقع''کے موضوع پرایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی جس میں پاکستان کی پیداشدہ انتخابی صورتحال کے تناظر میں نئے سیاسی شعور اور قومی تقاضوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ وزیرخارجہ نے اس بات کااعتراف کیا کہ گزشتہ چند سال کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خطرے کو سختی سے دبایا ہے اور دہشتگرد عناصر اب ماضی کی طرح مضبوط نہیں رہے تاہم ان کا یہ کہنا صائب ہے کہ پاکستان کے لیے ایسے بے پناہ مواقع ہیں جنھیں تاحال بروئے کار لانے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔
غالباً اسی حوالہ سے انھوں نے سندھ طاس معاہدہ کے ازکار رفتہ ہونے کا سوال اٹھایا، اس آبی معاہدہ کی آڑ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان میں آبی بحران پیدا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ بھارت کی طرف سے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور دیگر ڈیموں کی مسلسل تعمیر کے غیر قانونی اقدامات پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے اور عالمی بینک سے دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم اور بگلیہار و کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی غیر قانونی تعمیر روکنے کے لیے پاکستان کو کبھی انصاف مہیا نہیں کیا گیا، یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ عالمی بینک جو انڈس واٹر ٹریٹی پر عملدرآمد کا نگراں ادارہ ہے پاکستان کو مایوس کرچکا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کا حل وہ بھارت سے مل کر طے کرے، جب کہ عالمی بینک نے بھارت کی شہ پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری پر زور دیا ہے حالانکہ بھارت اپنے ناجائز اثرورسوخ کے ذریعہ آبی معاملات کے منصفانہ تصفیہ کی راہ میں ہمیشہ روایتی حیلہ جوئی کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہا ہے، مسلسل ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو شدید آبی قلت کا شکار بنانے کی جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
یاد رہے برطانوی موقر اخبار ''گارجین'' نے 3جون2002 کو ''وار آن واٹر'' رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ پانی کے مسئلہ پر دونوں ایٹمی ملکوں میں جنگ چھڑ سکتی ہے، آج صورتحال پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے، ملک پانی کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے دوچار ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر ڈیمز کی تعمیر کے لیے قوم سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے، وفاقی حکومت نے اس ضمن مین فنڈ قائم کردیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ہی15میگاواٹ کا تنگیر ہائیڈرو منصوبہ بھی شامل کرنیکا فیصلہ کیاگیا ہے جس کے باعث دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 474 ارب روپے سے بڑھ کر 480 ارب روپے ہوگئی ہے ، عدالت عظمیٰ ٰ کے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے قائم فنڈ میں اب تک جمع ہونے والی رقم 21 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی ہے ، ملک و بیرون ملک سے فنڈ میں رقوم جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اخباری اطلاع کے مطابق حالیہ بارشوں اور گلیشئر کے پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر بیس لاکھ ایکڑفٹ سے تجاوز کرگئے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں پانی کے وسائل اور ذخیرہ آب کی جگہ جگہ تعمیر کے ایشو پر اتفاق رائے پیدا کریں، کہیں تو دنیا کو ہمیں یقین دلانا ہوگا کہ قومی معاملات میں سیاست دان ایک پیج پر ہیں۔ سیاسی اور جمہوری عمل کا تقاضہ ہے کہ ووٹرز کی تربیت ہو ،عوام ادراک کرسکیں کہ ملک ماضی کی جمود زدہ اور فرسودہ سیاست گری سے بیزار ہوکر نئی کروٹ لے رہی ہے ہم پر بھونچال کی کیفیت ہے، سول سوسائٹی ایک نئے عمرانی معاہدہ کی طرف جارہی ہے، عام آدمی بھی کرپشن کی کہانیوں کے خاتمہ اور سیاسی تنگ گلی سے نکلنے کو بے چین ہے۔
ادھر ملکی سیاسی حالات پر چینی اخبارچائنا ڈیلی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آیندہ انتخابات کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک منصوبے عوام کی وسیع تر حمایت کے ساتھ مثبت طریقے سے آگے بڑھتے رہیں گے، منصوبوں کے تحت پاکستان کے انفرااسٹرکچر میں بہتری آئی ہے جس سے عوام کو سفری سہولتیں میسرآئی ہیں اور رابطہ سازی کا عمل بہتر ہوا ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوچکے ہیں، نئے کاروبار شروع ہو رہے ہیں ۔ دنیا گلوبل ولیج ہے، سب ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وزیر خارجہ عبداللہ حسین کا کہنا درست ہے کہ تجارتی اتحاد کی جانب عالمی قوتوں کی مراجعت جاری ہے۔
بلاشبہ غربت پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے، بدانتظامی اور میرٹ کا قتل کا سدباب ہونا ناگزیر ہے، دہشتگردوں کی ٹارزن جیسی واپسی کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہے،اس فتنہ کا پھر سے سر کچلنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے پاکستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اپنے پاکستانی ہم منصب جسٹس(ر) ناصرالملک سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل پر دہشتگرد حملے انتہائی افسوسناک ہیں، ادھر معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے آیندہ عام انتخابات میں بڑی تعداد میں دائیں طبقے سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند مذہبی عناصر اور مذہبی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی مذہبی رہنما سمیت متعدد امیدوار پاکستان میں دہشت گردوں کی ایک فہرست میں شامل ہیں جو فورتھ شیڈول کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ سب ایسے حالات میں ہو رہا ہے کہ جب پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن دوسری جانب پاکستان میں الیکشن کمیشن نے انتہا پسندوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ایسے بیشمار اضطراب انگیز مسائل اور الجھاؤ ہیں جن پر قومی رہنماؤں، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن حکام کو سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے، تشدد، عدم رواداری، مذہبی انتہا پسندی کے بجائے ملکی سیاست میں خیر سگالی کو فروغ ملنا چاہیے۔
یہ فکر انگیز گفتگو وزیر خارجہ نے بدھ کو سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام''پاکستان کی خارجہ پالیسی:چیلنجز اورمواقع''کے موضوع پرایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی جس میں پاکستان کی پیداشدہ انتخابی صورتحال کے تناظر میں نئے سیاسی شعور اور قومی تقاضوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ وزیرخارجہ نے اس بات کااعتراف کیا کہ گزشتہ چند سال کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خطرے کو سختی سے دبایا ہے اور دہشتگرد عناصر اب ماضی کی طرح مضبوط نہیں رہے تاہم ان کا یہ کہنا صائب ہے کہ پاکستان کے لیے ایسے بے پناہ مواقع ہیں جنھیں تاحال بروئے کار لانے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔
غالباً اسی حوالہ سے انھوں نے سندھ طاس معاہدہ کے ازکار رفتہ ہونے کا سوال اٹھایا، اس آبی معاہدہ کی آڑ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان میں آبی بحران پیدا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ بھارت کی طرف سے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور دیگر ڈیموں کی مسلسل تعمیر کے غیر قانونی اقدامات پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے اور عالمی بینک سے دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم اور بگلیہار و کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی غیر قانونی تعمیر روکنے کے لیے پاکستان کو کبھی انصاف مہیا نہیں کیا گیا، یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ عالمی بینک جو انڈس واٹر ٹریٹی پر عملدرآمد کا نگراں ادارہ ہے پاکستان کو مایوس کرچکا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کا حل وہ بھارت سے مل کر طے کرے، جب کہ عالمی بینک نے بھارت کی شہ پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری پر زور دیا ہے حالانکہ بھارت اپنے ناجائز اثرورسوخ کے ذریعہ آبی معاملات کے منصفانہ تصفیہ کی راہ میں ہمیشہ روایتی حیلہ جوئی کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہا ہے، مسلسل ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو شدید آبی قلت کا شکار بنانے کی جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
یاد رہے برطانوی موقر اخبار ''گارجین'' نے 3جون2002 کو ''وار آن واٹر'' رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ پانی کے مسئلہ پر دونوں ایٹمی ملکوں میں جنگ چھڑ سکتی ہے، آج صورتحال پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے، ملک پانی کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے دوچار ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر ڈیمز کی تعمیر کے لیے قوم سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے، وفاقی حکومت نے اس ضمن مین فنڈ قائم کردیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ہی15میگاواٹ کا تنگیر ہائیڈرو منصوبہ بھی شامل کرنیکا فیصلہ کیاگیا ہے جس کے باعث دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 474 ارب روپے سے بڑھ کر 480 ارب روپے ہوگئی ہے ، عدالت عظمیٰ ٰ کے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے قائم فنڈ میں اب تک جمع ہونے والی رقم 21 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی ہے ، ملک و بیرون ملک سے فنڈ میں رقوم جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اخباری اطلاع کے مطابق حالیہ بارشوں اور گلیشئر کے پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر بیس لاکھ ایکڑفٹ سے تجاوز کرگئے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں پانی کے وسائل اور ذخیرہ آب کی جگہ جگہ تعمیر کے ایشو پر اتفاق رائے پیدا کریں، کہیں تو دنیا کو ہمیں یقین دلانا ہوگا کہ قومی معاملات میں سیاست دان ایک پیج پر ہیں۔ سیاسی اور جمہوری عمل کا تقاضہ ہے کہ ووٹرز کی تربیت ہو ،عوام ادراک کرسکیں کہ ملک ماضی کی جمود زدہ اور فرسودہ سیاست گری سے بیزار ہوکر نئی کروٹ لے رہی ہے ہم پر بھونچال کی کیفیت ہے، سول سوسائٹی ایک نئے عمرانی معاہدہ کی طرف جارہی ہے، عام آدمی بھی کرپشن کی کہانیوں کے خاتمہ اور سیاسی تنگ گلی سے نکلنے کو بے چین ہے۔
ادھر ملکی سیاسی حالات پر چینی اخبارچائنا ڈیلی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آیندہ انتخابات کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک منصوبے عوام کی وسیع تر حمایت کے ساتھ مثبت طریقے سے آگے بڑھتے رہیں گے، منصوبوں کے تحت پاکستان کے انفرااسٹرکچر میں بہتری آئی ہے جس سے عوام کو سفری سہولتیں میسرآئی ہیں اور رابطہ سازی کا عمل بہتر ہوا ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوچکے ہیں، نئے کاروبار شروع ہو رہے ہیں ۔ دنیا گلوبل ولیج ہے، سب ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وزیر خارجہ عبداللہ حسین کا کہنا درست ہے کہ تجارتی اتحاد کی جانب عالمی قوتوں کی مراجعت جاری ہے۔
بلاشبہ غربت پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے، بدانتظامی اور میرٹ کا قتل کا سدباب ہونا ناگزیر ہے، دہشتگردوں کی ٹارزن جیسی واپسی کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہے،اس فتنہ کا پھر سے سر کچلنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے پاکستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اپنے پاکستانی ہم منصب جسٹس(ر) ناصرالملک سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل پر دہشتگرد حملے انتہائی افسوسناک ہیں، ادھر معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے آیندہ عام انتخابات میں بڑی تعداد میں دائیں طبقے سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند مذہبی عناصر اور مذہبی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی مذہبی رہنما سمیت متعدد امیدوار پاکستان میں دہشت گردوں کی ایک فہرست میں شامل ہیں جو فورتھ شیڈول کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ سب ایسے حالات میں ہو رہا ہے کہ جب پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن دوسری جانب پاکستان میں الیکشن کمیشن نے انتہا پسندوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ایسے بیشمار اضطراب انگیز مسائل اور الجھاؤ ہیں جن پر قومی رہنماؤں، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن حکام کو سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے، تشدد، عدم رواداری، مذہبی انتہا پسندی کے بجائے ملکی سیاست میں خیر سگالی کو فروغ ملنا چاہیے۔