عسکری پارک کے کمرشل استعمال پر ڈی جی رینجرز سے جواب طلب

جھولوں کو فوری ختم کیا جائے،غیرقانونی اقدامات پرذمے داروں کیخلاف کارروائی کی جائے، درخواست گزار

جھولوں کو فوری ختم کیا جائے،غیرقانونی اقدامات پرذمے داروںکیخلاف کارروائی کی جائے، درخواست گزار۔ فوٹو:فائل

سندھ ہائی کورٹ نے عسکری پارک کو کمرشل بنیاد پر استعمال کرنے کے خلاف درخواست پر کمشنر کراچی، ڈی جی رینجرز اور دیگر فریقین کو 31 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرد یے ہیں۔

ہائی کورٹ میں بینچ کے روبرو عسکری پارک کو کمرشل بنیاد پر استعمال کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عسکری پارک میں بغیر مرمت کیے جھولوں سے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے، عسکری پارک سے گرین بیلٹ ختم کرکے اسے بغیر این او سی کمرشل بنیاد پر استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔


وکیل نے کہا کہ عسکری پارک کی انتظامیہ سے ہائی رائز جھولوں کے متعلق تفصیلی جواب طلب کیا جائے، شہر کے کئی پارک پر قبضہ ہوچکا ہے اور جو پارک شہریوں کے لیے بچے ہیں اسے کمرشل بنیاد پر استعمال کیا جارہا ہے۔ وسیع تر اور جدید جھولوں کے اطراف 300 گز کی خالی جگہ ہونا ضروری ہے،گزشتہ ہفتے خطرناک جھولوں سے متعدد افراد زخمی اور 12 سالہ بچی موقع پر جاں بحق ہوگئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ انتظامیہ کے پاس جھولوں سے زخمی ہونے والوں کے فوری علاج معالجے کے لیے بھی کوئی سہولیات دستیاب نہیں، عسکری پارک کو کمرشل بنیاد پر استعمال نہ کیا جائے،عسکری پارک سے غیر قانونی لگائے جھولوں کو فوری ختم کیا جائے، پارک کی سیل کھولنے کی اجازت نہ دی جائے،ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عدالت نے موقف سننے کے بعد کمشنر کراچی ، ڈی جی رینجرز اور دیگر فریقین کو31جولائی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جولائی تک تمام فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
Load Next Story