علی حیدر گیلانی کا اغوا
دہشت گرد وہ دشمن ہے جو چھپا ہوا ہے اس کے ٹھکانوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
سیاستدان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جمہوری عمل کو جاری رکھے ہوئے اور اسے پٹڑی سے اتارنے کی ہر مذموم کارروائی کو ناکام بنا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کو جمعرات کو ملتان میں نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا۔
علی حیدر گیلانی پی پی 200 سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق علی حیدر گیلانی جمعرات کی صبح انتخابی مہم کے سلسلے میں ملتان کے علاقے جہانگیر آباد گئے' یہاں سے وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ فرخ ٹاؤن میں اپنے ایک سپورٹر کے گھر گئے' جب وہ گھر سے باہر نکلے تو پہلے نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی' جس کی زد میں آکر ان کے پرسنل سیکریٹری غلام مصطفی محی الدین اور محافظ امین جاں بحق ہو گئے' اس کے بعد حملہ آور علی حیدر گیلانی کو گاڑی میں بیٹھا کر فرار ہو گئے۔
علی حیدر گیلانی کا اغوا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ دن دیہاڑے اور ایک ہجوم کے سامنے ہوا۔ حملہ آور دو افراد کو قتل کر کے بڑی آسانی کے ساتھ علی حیدر گیلانی کو سب کے سامنے پکڑ کر لے گئے اور حملہ آوروں کو کوئی نہ روک سکا۔ ابھی تک کسی گروپ نے ان کے اغوا کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے اغوا میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہو سکتی ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے اخبارات میں یہ بات آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علی حیدر گیلانی کے اغوا میں وہی قوتیں ملوث ہو سکتی ہیں جو روشن خیال سیاسی قوتوں کو آگے نہیں دیکھنا چاہتیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے صاحبزادے کی بازیابی کے لیے آئی ایس آئی سے مدد طلب کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے علی حیدر کے اغوا پر اظہار تشویش کیا۔ صدر مملکت اور وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ علی حیدر گیلانی کی جلد از جلد بازیابی کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔ ملک کی سیاسی قیادت نے علی حیدر گیلانی کے اغوا کی مذمت کی ہے۔
حالیہ انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد پیپلز پارٹی' اے این پی' ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جلسوں میں بم دھماکے کر چکے ہیں جن میں بیسیوں بے گناہ افراد مارے گئے ہیں۔ دہشت گرد قوتوں کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں' وہ جمہوریت پسندوں کے خلاف اعلانیہ جنگ شروع کیے ہوئے ہیں لیکن اس جنگ میں نقصان یک طرفہ طور پر جمہوریت پسندوں ہی کا ہو رہا ہے' انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سیاستدان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جمہوری عمل کو جاری رکھے ہوئے اور اسے پٹڑی سے اتارنے کی ہر مذموم کارروائی کو ناکام بنا رہے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے بیٹے کے اغوا کے باوجود کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر موجود سیاسی جماعتیں علی الاعلان کہہ چکی ہیں کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹیں گی اور انتخابات میں ہر ممکن طور پر حصہ لیں گی۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ عزم اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ قوتیں جو عوامی رائے کا احترام نہیں کرتیں اور جمہوری عمل کو پس منظر میں دھکیل کر اپنا من مانا نظام لانا چاہتی ہیں' کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گی اور بالآخر ان کے تمام ہتھکنڈے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
اس پر ان کے حوصلے کی داد دی جانی چاہیے۔ اخباری خبر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے واقعے میں ایک کالعدم تنظیم ملوث ہے۔ وزیر داخلہ پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزموں کی تعداد پانچ تھی جن میں سے 2 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا نگراں حکومتوں کی ذمے داری ہے۔ اس وقت جب ووٹر ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں' پولنگ اسٹیشنوں اور امیدواروں کے تحفظ کے لیے نگراں حکومتوں کو تمام وسائل بروئے کار لانا چاہئیں۔ دہشت گردی کے پیش نظر اس بار سیاسی جماعتوں کی جانب سے اور عوامی سطح پر وہ انتخابی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جو انتخابی عمل کا حصہ رہا ہے۔ اگر امیدوار دہشت گردوں سے خوف زدہ رہیں گے تو وہ انتخابی مہم میں کیسے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
دہشت گرد وہ دشمن ہے جو چھپا ہوا ہے اس کے ٹھکانوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں' اس لیے اس کے خلاف کارروائی میں مسئلہ درپیش آتا ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلانے کے لیے ناگزیر ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جائے۔ عوامی شرکت کے بغیر کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ اب پورے پاکستان کی جنگ بن چکی ہے۔ عوام بہر صورت ملک میں امن و امان کے خواہاں ہیں اور وہ دہشت گردوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔
اس لیے حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گلی محلے کی سطح پر عوامی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ عوام کی بھر پور شرکت سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ علی حیدر گیلانی کا اغوا پاکستان کی انتظامیہ اور سیاستدانوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ ان کی زندگیاں دہشت گردوں کے ہاتھوں خطرے میں ہیں۔ لہذا آج جب پوری قوم انتخابی عمل میں شریک ہے' دہشت گرد کسی بڑی کارروائی کے ذریعے شہریوں کو خوف زدہ کر کے پولنگ اسٹیشنوں سے دور رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں لہذا اس موقع پر حکومتی اداروں پر ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ سیاستدانوں اور حساس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معمول سے بڑھ کر اپنی ذمے داری ادا کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ علی حیدر گیلانی کا اغوا حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ انھیں اغوا کرنے والا کوئی بھی گروپ کیوں نہ ہو' اس کی گرفت ہونی چاہیے۔ اگر حکومت نے اب بھی روایتی کوتاہی کا عمل جاری رکھا تو دہشت گردوں کی قوت میں اضافہ ہوتا رہے گا اور آج اگر علی حیدر گیلانی اغوا ہوا تو کل کسی اور کا اغوا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے سیاسی و مذہبی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اس طریقے سے ہی دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کو جمعرات کو ملتان میں نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا۔
علی حیدر گیلانی پی پی 200 سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق علی حیدر گیلانی جمعرات کی صبح انتخابی مہم کے سلسلے میں ملتان کے علاقے جہانگیر آباد گئے' یہاں سے وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ فرخ ٹاؤن میں اپنے ایک سپورٹر کے گھر گئے' جب وہ گھر سے باہر نکلے تو پہلے نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی' جس کی زد میں آکر ان کے پرسنل سیکریٹری غلام مصطفی محی الدین اور محافظ امین جاں بحق ہو گئے' اس کے بعد حملہ آور علی حیدر گیلانی کو گاڑی میں بیٹھا کر فرار ہو گئے۔
علی حیدر گیلانی کا اغوا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ دن دیہاڑے اور ایک ہجوم کے سامنے ہوا۔ حملہ آور دو افراد کو قتل کر کے بڑی آسانی کے ساتھ علی حیدر گیلانی کو سب کے سامنے پکڑ کر لے گئے اور حملہ آوروں کو کوئی نہ روک سکا۔ ابھی تک کسی گروپ نے ان کے اغوا کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے اغوا میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہو سکتی ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے اخبارات میں یہ بات آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علی حیدر گیلانی کے اغوا میں وہی قوتیں ملوث ہو سکتی ہیں جو روشن خیال سیاسی قوتوں کو آگے نہیں دیکھنا چاہتیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے صاحبزادے کی بازیابی کے لیے آئی ایس آئی سے مدد طلب کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے علی حیدر کے اغوا پر اظہار تشویش کیا۔ صدر مملکت اور وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ علی حیدر گیلانی کی جلد از جلد بازیابی کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔ ملک کی سیاسی قیادت نے علی حیدر گیلانی کے اغوا کی مذمت کی ہے۔
حالیہ انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد پیپلز پارٹی' اے این پی' ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جلسوں میں بم دھماکے کر چکے ہیں جن میں بیسیوں بے گناہ افراد مارے گئے ہیں۔ دہشت گرد قوتوں کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں' وہ جمہوریت پسندوں کے خلاف اعلانیہ جنگ شروع کیے ہوئے ہیں لیکن اس جنگ میں نقصان یک طرفہ طور پر جمہوریت پسندوں ہی کا ہو رہا ہے' انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سیاستدان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جمہوری عمل کو جاری رکھے ہوئے اور اسے پٹڑی سے اتارنے کی ہر مذموم کارروائی کو ناکام بنا رہے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے بیٹے کے اغوا کے باوجود کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر موجود سیاسی جماعتیں علی الاعلان کہہ چکی ہیں کہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹیں گی اور انتخابات میں ہر ممکن طور پر حصہ لیں گی۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ عزم اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ قوتیں جو عوامی رائے کا احترام نہیں کرتیں اور جمہوری عمل کو پس منظر میں دھکیل کر اپنا من مانا نظام لانا چاہتی ہیں' کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گی اور بالآخر ان کے تمام ہتھکنڈے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
اس پر ان کے حوصلے کی داد دی جانی چاہیے۔ اخباری خبر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے واقعے میں ایک کالعدم تنظیم ملوث ہے۔ وزیر داخلہ پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزموں کی تعداد پانچ تھی جن میں سے 2 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا نگراں حکومتوں کی ذمے داری ہے۔ اس وقت جب ووٹر ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں' پولنگ اسٹیشنوں اور امیدواروں کے تحفظ کے لیے نگراں حکومتوں کو تمام وسائل بروئے کار لانا چاہئیں۔ دہشت گردی کے پیش نظر اس بار سیاسی جماعتوں کی جانب سے اور عوامی سطح پر وہ انتخابی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جو انتخابی عمل کا حصہ رہا ہے۔ اگر امیدوار دہشت گردوں سے خوف زدہ رہیں گے تو وہ انتخابی مہم میں کیسے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
دہشت گرد وہ دشمن ہے جو چھپا ہوا ہے اس کے ٹھکانوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں' اس لیے اس کے خلاف کارروائی میں مسئلہ درپیش آتا ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلانے کے لیے ناگزیر ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جائے۔ عوامی شرکت کے بغیر کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ اب پورے پاکستان کی جنگ بن چکی ہے۔ عوام بہر صورت ملک میں امن و امان کے خواہاں ہیں اور وہ دہشت گردوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔
اس لیے حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گلی محلے کی سطح پر عوامی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ عوام کی بھر پور شرکت سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ علی حیدر گیلانی کا اغوا پاکستان کی انتظامیہ اور سیاستدانوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ ان کی زندگیاں دہشت گردوں کے ہاتھوں خطرے میں ہیں۔ لہذا آج جب پوری قوم انتخابی عمل میں شریک ہے' دہشت گرد کسی بڑی کارروائی کے ذریعے شہریوں کو خوف زدہ کر کے پولنگ اسٹیشنوں سے دور رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں لہذا اس موقع پر حکومتی اداروں پر ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ سیاستدانوں اور حساس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معمول سے بڑھ کر اپنی ذمے داری ادا کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ علی حیدر گیلانی کا اغوا حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ انھیں اغوا کرنے والا کوئی بھی گروپ کیوں نہ ہو' اس کی گرفت ہونی چاہیے۔ اگر حکومت نے اب بھی روایتی کوتاہی کا عمل جاری رکھا تو دہشت گردوں کی قوت میں اضافہ ہوتا رہے گا اور آج اگر علی حیدر گیلانی اغوا ہوا تو کل کسی اور کا اغوا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے سیاسی و مذہبی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اس طریقے سے ہی دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔